طالبان مخالف بیانات سے ناراض پاکستانی علما کا کابل کانفرنس کےبائیکاٹ کا اعلان

ایسا لگتا ہے کانفرنس میں امن کی کوششوں کے بجائے طالبان کے خلاف یک طرفہ موقف اختیارکیا جائے گا.


INP February 20, 2013
مستقبل میں پاکستانی وفد کا امن کانفرنس میں کوئی کردار نہیں ہو گا،مفتی ابو ہریرہ کاافغان ہم منصب کوخط۔ فوٹو: اے ایف پی / فائل

افغانستان میں طالبان مخالف بیانات سے ناراض پاکستانی علمانے افغان جنگ کے پْر امن خاتمے کے لیے اگلے ماہ مذہبی رہنماؤں کی کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مفتی ابو ہریرہ محی الدین نے خط کے ذریعے افغان ہم منصب کوفیصلے سے مطلع کیا۔ انھوں نے افغان علما پر طالبان کے خلاف 'غیر شائستہ زبان' استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کانفرنس میں امن کی کوششوں کے بجائے طالبان کیخلاف یک طرفہ موقف اختیار کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لگتا ہے اسلام آباد اور کابل کی جانب سے گزشتہ نومبر کو امن کانفرنس کے انعقاد کے منصوبے کو شدید دھچکا لگا ہے۔مارچ میں بلائی گئی کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ خطے میں تشدد کے خلاف پاکستان اور افغانستان سے 5سوعلماء کامتحدہ محاذ تشکیل دیا جا سکے جوخود کش حملوں کی مذمت کرے اورفریقین کو امن کوششوں پر آمادہ کر سکے۔

7

افغان امن کونسل کے بعض ارکان پرامید تھے کہ پاکستان اور افغانستان کے پانچ سو علما اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ کر سکیں گے تاہم گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں گفتگوکے دوران تب تنازع کھڑا ہو گیا، جب پاکستانی علماء نے طالبان کو کابل کانفرنس میں شامل کرنے کی تجویزدی۔ابتدائی طور پرلگ رہا تھا کہ یہ تنازع ختم ہو گیا کیونکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ 'کانفرنس کسی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں ہو گی بلکہ اس کا انعقاد اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہو گا ۔محی الدین نے خط میں مزید کہا کہ پاکستانی وفد کابل امن کانفرنس اور اس سے جڑی تمام ملاقاتوں میں شرکت سے گریز کرے گا،اب مستقبل میں پاکستانی وفد کا امن کانفرنس میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔