انصاف کی فراہمی جمہوریت کا تحفظ

چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر از خود نوٹس لیے گئے


Editorial September 13, 2017
چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر از خود نوٹس لیے گئے . فوٹو : فائل

پیر کو نئے عدالتی سال کے آغاز پر سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کی صدارت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اپنے خطاب میں جمہوریت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ جمہوریت کا تحفظ کریں، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم فیصلے کسی کو خوش کرنے یا حساب برابر کرنے کے لیے نہیں دیتے بلکہ انصاف کرنے کے لیے دیتے ہیں جب کہ انصاف کا مقصد آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے ،انھوں نے آئین کو سب سے بالاتر قرار دیا اور نصیحت کی کہ ریاست کے تمام اداروں کو اپنی ذمے داریاں آئین کے مطابق ادا کرنا چاہئیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی زیر صدارت پہلے فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام فاضل ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس مشیر عالم ، جسٹس دوست محمد خان، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب ، جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس سید سجاد علی شاہ اور رجسٹرار ارباب عارف نے شرکت کی۔

چیف جسٹس کے ارشادات اپنے وسیع تر معنوں میں میثاق انصاف کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہیں جس میں جمہوریت سے کمٹ منٹ بھی واضح کی گئی ہے اور ملک کی داخلی سیاسی و معروضی صورتحال اور سیاسی و سماجی حوالہ سے اہل اقتدار اور قومی حلقوں کو تلقین کی گئی کہ ناانصافی قوموں کو افراتفری اور انارکی کی طرف لے جاتی ہے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ کوئی حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے ناانصافی سے نہیں ۔ فاضل چیف جسٹس نے اسی سیاق وسباق میں ناانصافی کے باعث انتشار اور بدامنی کے اندیشہ ہائے دوردراز کی بات کی ہے۔

یوں غیر یقینی اور متوشش معروضی صورتحال کا تقاضہ بنتا ہے کہ اہل سیاست عوام کی فکر کریں ، دانش وحکمت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں،اختلافات اور گروہی مفادات سے بالاتر رہیں، بعینہ تمام ادارے فرائض کی انجام دہی میں اپنا معمول کا کردار ضرور ادا کریں تاہم ان پر لازم ہے کہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوریت کے تحفظ کو یقینی بھی بنائیں۔ یہ مسلمہ عدالتی معیار اور اصول ہے کہ فیصلوں کے اپروچ میں غیر جانبداری برقرار رکھی جائے ، ہر قسم کے اثر و رسوخ اور دباؤ سے آزاد رہنے ، جمہوری عمل میں ادارہ جاتی توازن ،انتظامی اعتدال اور تعمیری تعلقات کار کا حوالہ دے کر چیف جسٹس نے ملکی عدلیہ کے آزاد کردار کو بخوبی اجاگر کیا ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کوئی اتھارٹی یا ریاستی ادارہ آئین کے خلاف کام کرے تو عدلیہ کو جوڈیشل ریویو کا اختیار ہے ، ججز کو ہر قسم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے، انصاف کی فراہمی کے لیے بار اور بینچ کو متحد ہونا ہوگا، ناانصافی سے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور قوموںکوافراتفری اور انارکی کی طرف لے جاتی ہے۔ جمہوریت مسلمہ طور پر ہمارے آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔

چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر از خود نوٹس لیے گئے، گزشتہ ایک سال کے دوران انسانی حقوق سیل کے ذریعے29 ہزار 657 شکایات کو نمٹایا گیا، ججز نے چھٹیوں کا بیشتر وقت بھی کام میں گزارا، چھٹیاں قربان کرنے کے باوجود زیرالتوا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا، 31 اگست 2016کو زیر التوا مقدمات کی تعداد30 ہزار871 تھی، ایک سال کے دوران 13 ہزار 667 مقدمات نمٹائے گئے لیکن اس دوران لاہور رجسٹری میں5 ہزار611، کراچی میں ایک ہزار292، پشاور رجسٹری میں 595 جب کہ کوئٹہ میں 518 نئے مقدمات دائر ہوئے،31 اگست2017 تک زیرالتوا مقدمات کی تعداد 36 ہزار 692 ہوگئی ہے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون اور اٹارنی جنرل آف پاکستان اشترعلی اوصاف نے بھی اظہار خیال کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ مملکت خداداد کو جمہوریت اور آمریت کے دوطرفہ تلخ وشیریں تجربات و حوادث آج ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز موڑ پر لے آئے ہیں جہاں انصاف تک رسائی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، ماتحت عدالتوں کی سطح پر شفافیت اور عدلیہ و بار کے مابین خیرسگالی اور وکلا برادری کے دل میں ججوں کے لیے بے پناہ احترام وعزت کے جذبات کا ہونا ناگزیر ہے۔ ججز کی خاموش شائستگی معاشرے کے ضمیر کی روشنی ہے، انصاف کی چاردیواری سے باہر بھی قوم سابق جسٹس رستم کیانی جیسی معرکتہ الآرا ظرافت ، بے باکی اور حس مزاح کی اثر آفرینیوں کی منتظر ہے، جن کے افکار و خیالات سے عدالتی تاریخ کے باب روشن ہوئے۔

اس وقت انتہائی ہائی پروفائل مقدمات عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہیں جن کے فیصلے دورس ثابت ہونگے، مثل مشہور ہے کہ ججز کے فیصلے بولتے ہیں، پاکستانی سماج لب بستگی کے دور سے نکل چکا، عدلیہ نے قوم کو اداروں پر اعتماد و اعتبار بخشا ہے، تاہم لیگل سسٹم پر ججز کے یقین کامل کے ساتھ ساتھ ہزاروں سائیلین کے مقدمات کی پیروی میں حائل مشکلات کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے، تب سستا انصاف سب کو دستیاب ہوگا۔