پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی خوش آئند

8 سال کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور کی رونقیں لوٹ آئیں


Editorial September 14, 2017
8 سال کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور کی رونقیں لوٹ آئیں ۔ فوٹو : پی سی بی

لاہور میں ٹی 20 آزادی کپ کے پہلے میچ کے انعقاد سے بالآخر ایک طویل عرصے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ پھر سے بحال ہوگئی، 8 سال کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور کی رونقیں لوٹ آئیں۔ یہ وہی اسٹیڈیم ہے جہاں سری لنکن ٹیم کے آخری میچ سے قبل لبرٹی چوک پر شرپسند عناصر کی جانب سے دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا، اس سنگین واقعے نے جہاں قوم کو لرزا دیا وہیں سیکیورٹی خدشات کے باعث بین الاقوامی ٹیموں نے پاکستان کا رخ کرنا ہی بند کردیا تھا اور ایک طویل عرصے بعد شائقین کرکٹ کی دلی مراد بر آئی ہے۔ یقیناً اس کامیابی پر پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے لائق تحسین ہیں جن کی بحالی امن کی کوششوں اور کاوشوں کے باعث آج پاکستانی قوم یہ وقت دیکھنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

پاکستان میں پرامن حالات میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور ''آزادی کپ'' کے انعقاد نے وطن دشمن شرپسند عناصر کو واضح پیغام دیا ہے کہ یہ قوم عزم فولادی سے آراستہ ہے، کوئی مذموم حرکت اس کے آہنی ارادوں کو پسپا نہیں کرسکتی۔ پاکستان میں کرکٹ کا کھیل ایک جنون کی حیثیت رکھتا ہے، کروڑوں شائقین پاکستان میں کرکٹ کی واپسی پر شاداں و فرحاں ہیں۔ پاکستانی شائقین کے جوش نے ورلڈ الیون میں شامل مہمان کرکٹرز کا دل بھی موہ لیا، غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان کو کھیلوں کے حوالے سے محفوظ ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کے دلدادہ ہیں، یہاں کے لوگ کرکٹ سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں۔

پاکستان اور ورلڈ الیون کے مابین آزادی کپ سیریز کے میچ کے لیے قذافی اسٹیڈیم کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، گراؤنڈ کے آہنی دروازے پر کھلاڑیوں کی تصویروں والے بل بورڈز بھی لگائے گئے تھے، شہر میں بھی مختلف مقامات پر خیر مقدمی بینرز اور بل بورڈز آویزاں کیے گئے تھے، پہلا میچ دیکھنے کے لیے پرجوش شائقین جوق در جوق قذافی اسٹیڈیم آئے، انھیں پارکنگ پوائنٹ سے اسٹیڈیم تک لانے کے لیے چلائی گئی 38 مفت ایئرکنڈیشنڈ بسوں کے ذریعے پارکنگ ایریا سے انٹری پوائنٹس تک پہنچایا گیا، شائقین پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹی شرٹس میں ملبوس اور نعرے لگاتے ہوئے چہروں کو پینٹنگز سے سجائے، رنگ برنگے لباس پہنے، قومی پرچم اٹھائے جوش و خروش کے ساتھ اسٹیڈیم آئے، ان کے چہروں پر پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونے کی خوشی نمایاں تھی، نہ صرف اسٹیڈیم بلکہ لاہور بھر میں ٹریفک مسائل کے باوجود جشن کا سماں تھا۔

کھلاڑیوں کی حفاظت اور ایونٹ کو مکمل پرامن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، گراؤنڈز کے اندر اور باہر پاک فوج اور رینجرز کے اہلکار ڈیوٹی پر تھے، پولیس کے 19 ایس پیز، 45 ڈی ایس پیز اور 6 ہزار اہلکار سیکیورٹی کے لیے تعینات تھے، ٹیموں کو سخت سیکیورٹی حصار میں ہوٹل سے اسٹیڈیم تک لایا گیا، کرکٹرز کی آمد سے قبل روٹ کی سخت چیکنگ کی گئی اور ہزاروں پولیس اہلکار تعینات رہے، تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں داخلے سے قبل 4 جگہ میٹل ڈیٹیکٹرز سے چیکنگ کروانا پڑی۔ سیکیورٹی اور چیکنگ کی ان تمام تر کلفتوں کے باوجود شائقین کرکٹ مطمئن تھے۔ ٹی 20 آزادی کپ کے پہلے میچ میں مہمان ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ گرین شرٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹ پر 197 رنز بنائے جب کہ مہمان ٹیم کی کوشش 7 وکٹ کے نقصان پر 177 رنز تک محدود رہی۔ کپتان فاف ڈوپلیسی 29، ہاشم آملا 26، ٹم پین 25 رنز کی مزاحمت کرپائے، ڈیرن سیمی ناقابل شکست 29 رنز کے باوجود ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔

پاکستان نے فتح کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا جشن منایا، عالمی اسٹارز سے مزین ورلڈ الیون کو 20 رنز سے شکست ہوئی۔ ورلڈ الیون ٹیم میں کرکٹ کے وہ بڑے نام شامل ہیں جنھیں شائقین اپنے روبرو دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ آج جب کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوچکی ہے ایسے میں وقت کا تقاضا ہے کہ صرف لاہور ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی کرکٹ میچز کا انعقاد کیا جائے، جس طرح سیکیورٹی کے انتظامات لاہور میں کیے گئے ہیں ویسے ہی دیگر شہروں میں بھی ہوسکتے ہیں۔

کراچی میں لاکھوں شائقین کرکٹ بستے ہیں، نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ایک وقت تھا جب تمام بین الاقوامی ٹیمیں مقابلے کے لیے آیا کرتی تھیں، یہاں پاکستان کے جیتنے کا تناسب دیگر شہروں سے زیادہ ہے، ٹیسٹ میچز میں پاکستانی ٹیم نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہمیشہ ناقابل شکست ثابت ہوئی ہے۔ صائب ہوگا کہ وفاقیت کا تصور قائم کرتے ہوئے کوئی بھی ایسا تاثر نہ ابھرنے دیا جائے جس سے دیگر شہروں کے عوام احساس کمتری کا شکار ہوں۔ اس سے قبل پی سی ایل کے تمام میچز کا انعقاد بھی لاہور میں کیا گیا تھا، بہتر ہوتا کہ آزادی کپ کا ایک میچ کراچی میں رکھ لیا جاتا۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا خوش آیند ہے کہ کراچی میں کرکٹ میچ کا انعقاد ہوا تو فل سیکیورٹی دی جائے گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ کامیابی کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسری بین الاقوامی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اور دنیا پر یہ ثابت ہوجائے گا کہ پاکستان کھیلوں کے لیے محفوظ ملک ہے۔