فاٹا کومرکزی دھارے میں لانے کی پیش رفت

حکومت نے بلاشبہ دور اندیشی کے ساتھ اس اہم مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کی ہے


Editorial September 14, 2017
حکومت نے بلاشبہ دور اندیشی کے ساتھ اس اہم مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کی ہے ۔ فوٹو : فائل

وفاقی کابینہ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو مرکزی دھارے میں لانے کی جانب ایک اہم پیش قدمی کے طور پر ایک بل پارلیمنٹ کے روبرو پیش کرنے کی منظوری دیدی ہے جس میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائے گا۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

بلاشبہ پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے پیش کردہ بل کی ایک اہمیت ہے جس کی قانونی حیثیت کے بعد ایف سی آر کے خاتمے، اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ اختیار کو وسعت دینے اور ملک کے معمول کے قوانین کے اطلاق کو مرحلہ وار انداز میں فاٹا میں نافذ کرنے کے اقدامات بلاشبہ خوش آیند ہی ہونگے ، قبائلی علاقوں کی سماجی ، معاشی اور اجتماعی ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی ریلیف اور جمہوری ثمرات کی وہاں کے عوام تک رسائی مفید نتائج پیدا کرسکے گی۔ حکومت کا یہ جمود شکن اقدام ہوگا جسے بہر حال سیاسی حمایت کی ضرورت ہے، تاہم ان اقدامات پر عملدرآمد کے حوالہ سے کوئی کنفیوژن باقی نہ رہے جس کے بارے میں سیاسی جماعتیں اور بعض اپوزیشن رہنما مطالبات اور تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔

بعض سیاسی قائدین کی طرف سے اس فیصلہ کی مخالفت جاری ہے، مگر صائب انداز نظر یہی ہے کہ بل کی منظوری کے مثبت بریک تھرو کو اجتماعی سوچ اور نتیجہ خیز مشاورتی عمل کے ذریعہ علاقے کی ترقی اور تعمیر نو کے مقاصد سے ہم آہنگ کیا جائے، اس میں کوئی شک نہیںکہ فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ ، نمایندہ سیاسی جماعتوں اور فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے وفاق کو اس مسئلہ کے حل کے لیے مائل کرنے کی کافی جدوجہد کی ہے ، میڈیا نے فاٹا کے عوام کو مین اسٹریم سیاسی دھارے میں لانے کی ہمیشہ حمایت کی، جب کہ آفتاب شیرپاؤ، اسفند یار ولی، سراج الحق، صوبائی وزیراعلیٰ پرویز خٹک، سینئر صوبائی وزیر سکندر خان شیرپاؤ کے علاوہ فاٹا سیاسی اتحاد ، قبائلی عوام کا اجتماعی مطالبہ تھا کہ فاٹا کو جلد از جلد خیبر پختونخوا میں شامل کیا جائے۔

حکومت نے بلاشبہ دور اندیشی کے ساتھ اس اہم مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کی ہے جس کے تحت بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کو تقویت دی جائے گی ، تمام فریقین کے اتفاق کے بعد منقسم پول سے اضافی وسائل مختص کر کے سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔ علاقے میں ترقیاتی کاموں سے فاٹا کی حالت بدل جائے گی، کابینہ کو بتایا گیا کہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کے عمل کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کی زیر صدارت کمیٹی پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے۔

جماعت اسلامی فاٹا نے ایف سی آر کے خاتمے کے لیے25 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا، لاکھوں قبائلی لانگ مارچ میں شرکت، سراج الحق قیادت کرینگے، آفتاب شیر پاؤ اور اسفندیارولی کو بھی مارچ میں شرکت کی دعوت دینگے، قبائلی عوام کو این ایف سی ایوارڈ اور آئینی حقوق سے محروم کرنا ظلم کی انتہا ہے، قبائلی علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں، ترقی کا نام و نشان نہیں، مقررین کا کہنا تھاکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک حکمرانوں نے قبائلی عوام کو تمام آئینی، بنیادی انسانی، جمہوری ، معاشی اور سیاسی حقوق سے محروم کر رکھا ہے، فاٹا کے عوام بجلی اور قدرتی گیس سمیت بنیادی ضرورت زندگی سے محروم ہیں۔

ادھر پشاور سے ایک خبر کے مطابق قبائلی علاقوں میں ترقیاتی امور اورفاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق امور کی نگرانی کے لیے چیف آپریٹنگ افسر کی تقرری کے باعث فاٹا سیکریٹریٹ کے اختیارات محدود ہونے اور ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم وزارت سیفران کی سطح پر دونوں کے درمیان امور اور فرائض کی تقسیم کے بارے میں تجاویز پر غور جاری ہے تاکہ متوازی نظام کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے معاملے چلائیں ۔ فاٹا کے عوام نے دہشتگردی کے عذاب اور صدمے سہے ہیں ، طالبان نے قبائلی علاقوں میں ظلم و بربریت جب کہ دہشتگری کے عفریت اور ڈرون حملوں کے باعث فاٹا مظلومیت کی تصویر بنا رہا یہاں تک کہ ضرب عضب آپریشن کرکے فوج نے امن اور سلامتی کے سب سے اہم مشن کی کامیابی کے ساتھ تکمیل کی،اب وہاں امن کی بحالی کے بعد آئی ڈی پیزکی مکمل واپسی اور ان کی آباد کاری اور تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فاٹا کی سماجی ، سیاسی اور اقتصادی ترقی کی ضرورت وفاق اور جمہوری عمل کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں جسے حل کرنے کی جانب پیش رفت نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ سیفران نے اس ضمن میں شاندار کوششیں کی ہیں۔ اس لیے سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ اس فیصلہ کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں، قبائلی عوام کو جدید سہولتوں سے فیضیابی کے مواقع مہیا ہوں اور برس ہا برس سے ملک کے ایک اہم علاقے کی ''نو مینز لینڈ'' جیسی حیثیت کا خاتمہ ہو تاکہ خیبر پختونخوا سے انضمام کے بعد فاٹا اور قبائلی علاقوں اور ان کے عوام کو بھی دیگر ترقی یافتہ علاقوں کی طرح یکساں آئینی ، سیاسی اور سماجی حقوق حاصل ہوں۔