روہنگیا مسلمانوں کا بحران مسلسل جاری

برمی حکومت کی پالیسی واضح ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ریاست راکھائن سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا جائے


Editorial September 15, 2017
برمی حکومت کی پالیسی واضح ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ریاست راکھائن سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا جائے . فوٹو : فائل

KARACHI: میانمار (برما) میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے بحران تاحال جاری ہے' اس میں نئی تبدیلی یہ ہوئی ہے کہ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے آیندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ میانمار حکومت کے ترجمان نے اس کی تصدیق کر دی ہے' ایسا لگتا ہے کہ میانمار کی رہنما نے عالمی رہنماؤں کی تنقید سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ گزشتہ برس انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔

میانمار کی ریاست راکھائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی آپریشن مسلسل جاری ہے' فوجی ایکشن سے متاثرہ علاقوں سے لوگ مسلسل فرار ہو رہے ہیں اور بنگلہ دیش کی طرف آ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بنگلہ دیش میں چار لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان پناہ گزین ہو چکے ہیں۔ یوں یہ انسانی بحران دن بدن سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل روہنگیا اقلیت کو نظر انداز کر رہی ہے۔ بہرحال یہ معاملات اپنی جگہ ہیں لیکن یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ مسلم ممالک کی طرف سے بھی تاحال سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی عملی اقدامات سامنے نہیں آئے۔ کسی مسلمان ملک نے برما کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے ہیں نہ ہی تجارتی پابندیاں عائد کی ہیں۔

تیل پیدا کرنے والے خلیجی ملکوں نے بھی برما کے ساتھ اپنے تجارتی اور دو طرفہ تعلقات کو جوں کا توں رکھا ہوا ہے۔ ترکی اور انڈونیشیا وغیرہ وہاں امدادی کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس سے مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے اور برما کے سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاج بھی کیا گیا ہے لیکن اس کے بھی کوئی خاص نتائج سامنے نہیں آئے۔ ادھر چین نے برمی حکومت کے اقدام کی حمایت کی ہے۔ بھارت بھی برما کی حکومت کے فوجی آپریشن کی حمایت کر رہا ہے۔ برما کے ایک اور ہمسایہ ملک تھائی لینڈ کی آواز بھی کمزور ہے اور وہ بھی اس حوالے سے عملی اقدام نہیں کر رہا ہے۔ ان ساری کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جو آپریشن ہو رہا ہے اس کے بارے میں عالمی رائے عامہ اتنی سنجیدہ نہیں جتنی کہ ہونی چاہیے۔

برما کی ریاست راکھائن میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات اور آپریشنز کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ کئی برس پرانا تنازعہ ہے جو تاحال چلا آ رہا ہے۔ برما کی حکومت وقفے وقفے سے ایسے اقدامات کرتی چلی آ رہی ہے جس کے نتیجے میں مسلمان وہاں سے ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں اور برما میں ان کی معاشی حیثیت مسلسل کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں نے برمی فوج کے خلاف مزاحمت بھی کی لیکن ان کی مزاحمت کو بھی عالمی سطح پر کوئی زیادہ حمایت نہیں مل سکی۔ یہی وجہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی مزاحمتی تحریک بھی ناکام ہوتی جا رہی ہے۔

برمی حکومت کی پالیسی واضح ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ریاست راکھائن سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیا جائے۔ اسی لیے وہ گاہے بگاہے وہاں فوجی آپریشن کرتی رہتی ہے تاکہ مسلمان ان علاقوں سے ہجرت کر کے دیگر ملکوں کی طرف بھاگ جائیں۔ ایک اندازے کے مطابق برما میں مسلمانوں کی تعداد دس سے بارہ لاکھ کے درمیان ہے' ان میں سے اب تقریباً آدھے ملک سے بھاگ گئے ہیں۔ یوں اندازہ لگایا جائے تو برما میں مسلمانوں کی تعداد مزید کم ہو گئی ہے اور آنے والے دس بارہ برسوں میں برما کی حکومت ایک دو اور آپریشن کرے گی جس کے نتیجے میں مزید مسلمان وہاں سے انخلاء پر مجبور ہو جائیں گے اور جو باقی بچ جائیں گے وہ برما کے کلچر میں جذب ہوجائیں گے۔

برمی حکومت بڑی چالاکی کے ساتھ اس پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ جب کہ دوسری جانب عالمی برادری اس پر خاموش ہے اور مسلم ممالک بھی سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہے۔ اس وجہ سے برمی حکومت کا حوصلہ بلند ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باقاعدہ درخواست دی جاتی اور برمی حکومت کو مجبور کیا جاتا کہ وہ سب سے پہلے روہنگیا کے خلاف فوجی آپریشن بند کرے' اس کے بعد دیگر ممالک میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بلائے اور ان کی آبادکاری کے لیے اقدامات کرے' روہنگیا مسلمانوں کی برمی شہریت کو بحال کرے اور ان کو سرکاری ملازمتوں اور کاروباری مواقع فراہم کرے۔ لیکن کسی مسلمان ملک اور تنظیم نے ایسا کرنے پر توجہ نہیں دی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان ممالک متحد ہو کر برمی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب برما میں مسلمانوں کی موجودگی کا ذکر صرف تاریخ میں ملے گا۔