پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی امید

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے 2030 ء تک پولیو کو ختم کرنے کا ہدف دیا گیا تھا


Editorial September 16, 2017
اگر پاکستان پولیو سے پاک ہو جاتا ہے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہے‘ اس سے پاکستان کا عالمی سطح پر امیج بہتر ہو گا۔ فوٹو: فائل

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان اب پولیو سے پاک ملک بننے کے قریب ہے۔ نیو یارک میں یونیسیف کے انتظامی بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کی مندوب نے بتایا کہ پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔

واضح رہے پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم کے دوران کئی مقامات پر پولیو ورکرز کی ٹیم کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں کئی ورکرز اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے' یہ دیکھتے ہوئے حکام نے پولیو ورکروں کو پولیس کے مسلح محافظ فراہم کر دیے مگر اس کے باوجود حملوں میں کمی نہ آئی اور پولیو ورکروں پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں مسلح محافظ بھی شامل ہو گئے۔

پولیو ورکروں پر حملوں کے زیادہ واقعات قبائلی علاقوں میں پیش آئے جہاں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد ویسے بھی زیادہ تھی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے 2030 ء تک پولیو کو ختم کرنے کا ہدف دیا گیا تھا نیز کئی ملکوں کی طرف سے پاکستان سے آنے والوں پر پابندی عاید کر دی گئی جس وجہ سے حکومت بھی اس مسئلے پر زیادہ سنجیدہ ہو گئی اور انسدادی سرگرمیوں میں مزید شدت پیدا کر دی گئی۔

اقوام متحدہ میں ہماری سفیر نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 2030ء تک ایجنڈے کو پورا کرنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے جس کا مقصد انتہائی غربت کا خاتمہ اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان بچوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے نادار طبقے کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگر پاکستان پولیو سے پاک ہو جاتا ہے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہے' اس سے پاکستان کا عالمی سطح پر امیج بہتر ہو گا' اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو عوام کی صحت کے حوالے سے انقلابی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ پاکستان میں موجود دیگر بیماریوں کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے۔