بین الاقوامی ادارے کے دفتر خارجہ میں مذاکرات پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی پر کنٹرول عالمی معیار کے مطابق ق?

جوہری عدم پھیلاوکیلیےاقدامات پرپاکستان کی تعریف،جوہری صلاحیت برقرار رکھیں گے،پاکستان.


Online February 21, 2013
آسٹریلیا گروپ اورنیوکلیئر سپلائر گروپ سے بھی مذاکرات، گفتگو وزیراعظم کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق ہے. فوٹو: اے ایف پی

میزائل ٹیکنالوجی پر کنٹرول کے ادارے ایم ٹی سی آر نے پاکستان کی طرف سے حساس برآمدات پر کنٹرول کے اقدامات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق قرار دیتے ہوئے سراہا ہے۔

پاکستان ایک ذمے دار جوہری ملک کی حیثیت سے عالمی برادری کا جائزہ لے رہا ہے ۔ ہم نے ڈبلیو ایم ڈی اور ان کے ڈیلیوری سسٹم کے غیر جانبدارانہ بنیادوں پر عدم پھیلائو کا عزم کررکھا ہے مگر اپنی جوہری صلاحیت برقرار رکھیں گے۔ بدھ کو دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے ایم ٹی سی آر کے وفد کی میزبانی کی اور گزشتہ2 روز کے دوران دفتر خارجہ میں مذاکرات ہوئے۔ وفد کی سربراہی موجودہ چیئرمین جرمنی کے سفیر جون رنائو کررہے تھے جبکہ اس میں مستقبل کے 2 سربراہ اٹلی کے سفیر کارلو تیریزا اورناروے کے سفیر رولڈنائس شامل تھے۔

پاکستان کی طرف سے وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کی۔ واضح رہے کہ ایم ٹی سی آر 34 ارکان پر مشتمل کثیر ملکی برآمدی کنٹرول کا ادارہ ہے جس کا مقصد رہنما اصولوں پر عملدرآمد کے ذریعے میزائل اور دیگر متعلقہ ٹیکنالوجیز کا پھیلائو روکنا ہے۔عالمی ادارے کے وفد نے پاکستان کے ان اقدامات کو سراہا جو بین الاقوامی معیار کے مطابق اختیار کیے گئے ہیں۔ فریقین نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق 12فروری کو پاکستان کے مذاکرات آسٹریلیا گروپ کے وفد سے بھی وہئے تھے۔

5

آسٹریلیا گروپ 40صنعتی ملکوں پر مشتمل فورم ہے جو کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے پھیلائو میں استعمال نہ ہونے والے مختلف کیمیکلز اور حیاتیاتی عناصر کی برآمد یقینی بنانے کیلیے لائسسننگ اقدامات کرتا ہے۔ قبل ازیں پاکستان نے امریکا کی قیادت میں نیوکلیئر سپلائر گروپ سے بھی مذاکرات کیے تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ رابطے وزیراعظم کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق ہیں۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے 14جولائی 2012ء کو بھی ایک بیان میں اس عزم کو دہرایا تھا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا اور بین الاقوامی برادری سے برابری اور شراکت کی بنیاد پر تعمیری رابطے چاہتا ہے اور بین الاقوامی برآمدگی کنٹرول کے چاروں بڑے اداروں میں شمولیت کا خواہاں ہے۔

مقبول خبریں