ملک مفلوج ہوچکا فوج بلانے کے نعرے لگ رہے ہیں سپریم کورٹ

سانحہ کوئٹہ کی ذمے دار سول انتظامیہ ہے، سیکریٹری دفاع، پیشگی اطلاع کے باوجود حکومت کیوں ناکام ہوئی؟


News Agencies/Monitoring Desk February 21, 2013
انسداد دہشت گردی پروگرام پر عمل انتظامیہ کا کام ہے،وزارت دفاع کی رپورٹ، عدالت کا عدم اطمینان، صدر،وزیر اعظم،گورنر سے آج دوبارہ جواب طلب۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران قراردیاہے کہ ہم جمہوریت اورپارلیمانی نظام مستحکم کرنا چاہتے ہیں لیکن آج فوج کوبلانے کے نعرے لگ رہے ہیں، ملک مفلوج ہوچکا، لوگ لاشیں سڑکوںپررکھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔

جبکہ وزارت دفاع کے حکام نے آئی ایس آئی کی رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ حکومت کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، سیکریٹری دفاع نے واقعہ کی ذمہ داری سول انتظامیہ پرعائد کردی، چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے صدر اور وزیر اعظم سے دوبارہ جواب طلب کر لیاجبکہ ہوم سیکریٹری، آئی جی اور کمانڈنٹ ایف سی کو وضاحت کیلیے طلب کرلیاکہ جب خفیہ اداروںنے حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی تو پھر حکومت اور قانون نافذکرنیوالے ادارے کیوں ناکام ہوئے؟عدالت نے گورنرکے جواب پربھی عدم اطمینان ظاہرکیا اور دوبارہ جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ گورنرنے کسی سوال کاجواب نہیں دیا، عدالت نے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع کو پیشی سے مستثنیٰ کردیاجبکہ سیکریٹری کابینہ کوآج بلوچستان کے متعلق فیصلوں کی تفصیلات دینے کی اجازت دیدی ۔ بدھ کو سیکریٹری داخلہ نے آئی بی اور سیکریٹری دفاع نے آئی ایس آئی کی رپورٹ پیش کی اور کچھ حصے خفیہ رکھنے کی استدعا کی ۔ رپورٹس کے مطابق حکومت اور قانون نافذکر نیوالے اداروں کو حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، عدالت نے آبزرویشن دی کہ اطلاع کے باوجود حملہ روکا نہیں گیا،غفلت برتنے والے افراد کا تعین کیا جائے۔

مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق چیف جسٹس نے کہاکہ اداروںکی آپس میں کوئی کوآرڈینیشن نہیں، پولیس، لیویزاور ایف سی کی ذمے داری تھی کہ سخت چیکنگ کرتے۔ سیکریٹری دفاع آصف یاسین نے کہا ایم آئی کا براہ راست ان امور سے تعلق نہیں، دہشت گردوں کی اطلاع آئی ایس آئی کودیدی جاتی ہے، ایجنسیوں کے پاس ہر وقت ہر چیزکی معلومات نہیں ہوتیں، چھوٹی چھوٹی کڑیوں کو ملایا جاتا ہے، کبھی کبھار اصل تصویر بھی واضح نہیں ہوتی۔ بی بی سی کے مطابق سیکریٹری دفاع نے واقعہ کی ذمے داری سول انتظامیہ پر عائدکی اور کہا کہ خفیہ اداروں کا کام محض معلومات کا تبادلہ ہے۔ موجودہ سول انتظامیہ انسدادِ دہشت گردی کے پروگرام پر عملدرآمد کا اختیار رکھتی ہے تاہم خفیہ ادارے کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔ آئی ایس آئی اوردیگر خفیہ ادارے ہر وقت ہرشخص پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ آئی ایس آئی نے واقعہ کے بعد130سرچ آپریشن کیے۔

2

 

چیف جسٹس نے کہا اصل کام پولیس کا ہے، وہ باخبر نہ ہو تو ایجنسیاں مدد نہیں کرسکتیں، غیر معمولی صورتحال میں ایجنسیوں کا انحصار بھی پولیس پر ہوتا ہے، پولیس کو علم ہونا چاہیے اس کے علاقے میں کیا ہو رہا ہے۔ شہریوں کی حفاظت سویلین حکومت کی ذمے داری ہے لیکن عسکری اداروں کی معلومات سانحات کو روکنے میں مدد دے سکتی ہیں، خفیہ ایجنسیاں چوکس ہوتیں تو واقعہ روکا جا سکتا تھا۔ اگر غیر ملکی مداخلت کا علم ہے تو ایجنسیوں کو مزید چوکس ہونا چاہیے۔ ہم جمہوریت اور پارلیمانی نظام مستحکم کرنا چاہتے ہیں لیکن آج فوج کو لانے کے نعرے لگ رہے ہیں، ملک مفلوج ہو چکا، لوگ لاشیں سڑکوں پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے واقعہ ہوا تو وزیراعلیٰ کو نااہل قرار دیدیا گیا، اب موجودہ انتظامیہ کے متعلق کیاکہا جائے؟ عدالت نے آئی ایس آئی کی تفصیلات پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے مزید تفصیلات طلب کر لیں۔

جسٹس خلجی عارف نے کہا آئی ایس آئی نے ذمے داری سول حکومت پر عائد کر دی ہے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف پروگرام واضح نہیں کرتی۔ این این آئی کے مطابق جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ سول انتظامیہ ناکام ہونے کا الزام خطرے کی گھنٹی ہے۔ سیکریٹری دفاع نے بتایا واقعے کا ماسٹر مائنڈ پکڑا گیا ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا حکومت سو نہیں رہی، مذاکرات جاری ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا آئین کی شق9 پر عمل نہیں ہو رہا، لوگ مر رہے ہیں اور حکومتی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں موجود نہیں۔ اگر فوج اور خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں موجود ہیں تو اپنے کردار کا تعین کر دیں۔ بعدازاں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے گورنر اور چیف سیکریٹری کا جواب جمع کرایا جس پر عدالت نے عدم اطمینان ظاہر کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو پوچھا اس کا جواب نہیں آیا، لوگوں کو تحفظ دینا حکومتی ذمے داری ہے، پورے صوبے میں بلا استثنیٰ آپریشن کلین اپ ہونا چاہیے تھا۔ ان سوالوں کا جواب چاہیے، کون لوگ ملوث ہیں، قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ناکام کیوں ہوئیں، اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ اٹارنی جنرل جواب نہیں دینا چاہتے تو پھر وزیر اعظم خود پیش ہو کر جواب دیں، وزارت دفاع کے کمانڈر شہباز نے بتایا کہ ترجمان کالعدم لشکر جھنگوی نے واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے، چیف جسٹس نے کہا کال جعلی بھی ہو سکتی ہے، معاملہ ذمے داری قبول کرنے سے نہیں، ذمے داروں کو پکڑنے سے حل ہو گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپ شواہد اکٹھے کرنے کے بجائے ایک کال پر انحصار کررہے ہیں۔

کمانڈر شہباز نے بتایا کہ جہاں واقعہ ہوا، وہاں پانی کی کمی ہے،150 ٹینکرز روزانہ جاتے ہیں، دہشت گردوں نے پانی کی کمی کا فائدہ اٹھا کر دھماکہ خیز مواد پہنچایا، باریک بینی سے چیک کیا جاتا تو واقعہ پیش نہ آتا،آن لائن کے مطابق سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ آئی ایس آئی نے بہت پہلے اطلاع دی تھی، اسی وجہ سے کیرانی روڈ پر دو چیک پوسٹیں بھی بڑھائی گئیں تاہم حکام نے انتظام نہیں کیا، ایف سی، لیویز اور پولیس کی چیک پوسٹوں کے باوجود حملہ آور ہدف تک پہنچ گیا، جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ آپ غفلت کا اعتراف کر رہے ہیں ، کمانڈر شہباز نے کہا کہ ہم نے انتظامیہ کو اطلاع دے دی تھی ان کا فرض تھا کہ وہ انتظامات کرتے، جسٹس عظمت سعید نے کہا چوکی کے باوجود بارود بھرا ٹینکر اندر کیسے گیا؟ یہ اہم سوال ہے کیونکہ ایک ہزار کلو بارود ناک کے نیچے سے نکل گیا اور کسی کوکانوں کان خبر نہ ہوئی۔

کمانڈر شہباز نے بتایا کہ ایجنسیوں نے نشاندہی کی تھی لیکن کسی بھی ایجنسی کے پاس سو فیصد معلومات نہیں ہوتیں، انھوں نے نائن الیون، تاج محل اور دیگر بین الاقوامی حوالے دیے۔ چیف جسٹس نے کہا جب اطلاع تھی تو پھر یہ پولیس اور ایف سی کی ناکامی ہے، جسٹس خلجی نے کہا آئی بی نے رپورٹ دی ہے کہ حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ کمانڈر شہباز نے ان کیمرہ بریفنگ دینے کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا ٹینکر ہزارگنجی میں تیار ہوا، ڈی آئی جی آپریشنز کوبھی ہٹا دیا گیا ہے، صوبائی ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بتایاکہ 7ملزم گرفتار ہو چکے ہیں، چیف جسٹس نے کہا اس سے کچھ نہیں ہو گا، نئے آئی جی کو تو یہ پتہ نہیں بلوچستان کس چیز کا نام ہے، ایڈمنسٹریشن حکومت کا کام ہے، عدالت کا نہیں، جب خفیہ اطلاع تھی تو اسے روکنا حکومت کی ذمے داری تھی، سب کا جواب آنے دیں پھر فیصلہ دیدیں گے۔

آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں اور حکام چین کی بانسری بجا رہے ہیں، حکومت جاگ رہی ہوتی تو یہ سانحہ نہ ہوتا، حالات اسی طرح رہے تو نہ جانے ملک میں کیا ہو گا۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ انہیں یہ اطلاع ملتی ہے کہ حملہ ہونے والا ہے، یہ پتہ نہیں ہوتا کہ حملہ کہاں ہونا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا انٹیلی جنس ادارے ہاتھ پکڑ کر جائے واردات پر لے جائیں۔ عدالت نے 10جنوری کے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی۔ سماعت آج پھر ہو گی۔