اکیسویں صدی میں بھی صنفِ نازک سراپا فریاد ہے

دنیا کےلیے اکیسویں صدی آچکی ہے لیکن میں ایک لڑکی ہونے کے باعث آج تک عہد جاہلیت کے سلوک کا شکار ہوں؛ کیوں؟


عنبرین سیٹھی September 19, 2017
میرا قاتل کوئی بھی ہو، اس میں ایک قدر مشترک ہے: وہ اس معاشرے کا ایک مرد ہے۔ فوٹو: فائل

میرا نام تانیہ خاصخیلی ہو، زرتاج بخت ہو، قندیل بلوچ ہو یا کچھ اور؛ میں ایک بیٹی ہوں۔ میرے پیدا ہوتے ہی میرے باپ کے کندھے کیوں جھک گئے؟ مجھے آج تک اِس بات کا پتا نہ چل سکا۔ میرے نصیب میں کھانے کے نام پر بچا کچھا اور کپڑوں کے نام پر ہمیشہ اترن رہی۔ میں پھر بھی ڈھیٹ بن کر تیزی سے بڑھتی رہی۔

کہیں تو میں تانیہ خاصخیلی تھی جو ایک درزی کی بیٹی تھی، جو تعلیم حاصل کرنے کی بہت شوقین تھی؛ اور کہیں میں کراچی جیسے بڑے شہر میں پلتی بڑھتی زرتاج بخت جس کا گھرانہ کراچی آن بسا تو تھا مگر اب بھی سنگلاخ پہاڑوں جیسی روایات کا امین تھا۔ کہیں میں قندیل بلوچ تھی جس کا سب سے بڑا قصور معاشرے سے بغاوت تھی۔

دیکھنے والوں کی نگاہ میں میرے لیے حقارت ہوتی اور ساتھ میں یہ سوال ان کے لبوں پر ہوتا کہ اس کو کیا کھلاتے ہو جو اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میرا بڑھنا، میرا بڑا ہونا میرے باپ کو ہراساں کیوں کر رہا ہے۔ مجھ پر لگنے والی پابندیاں اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ معاشرے کے منہ پر ایک طمانچہ تھیں۔ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا بھی بہت محدود حق حاصل تھا۔ کھانے کو بھی بس اتنا ملتا تھا کہ دم نہ نکلے، بس زندہ رہوں۔ پھر بھی ہر کوئی میرے ہنسنے بولنے سے خوفزدہ دکھائی دیتا جیسے میں ایک جیتی جاگتی انسان نہیں کوئی چڑیل ہوں جو کسی بھی وقت اپنے گھر والوں کا خون پی جائے گی۔

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی میرے لیے نفرت اور حقارت میں اضافہ ہوگیا۔ اب تو سب کی نظروں میں شک کا عنصر بھی شامل ہوچکا تھا۔ میرے اٹھنے بیٹھنے، بولنے چالنے، غرض ہر انداز پر اعتراضات بڑھتے گئے۔

بات یہیں تک رہتی تو کافی تھا مگر گھر سے باہر لوگوں کی نظریں میرے لیے بہت گندی ہوتی جارہی تھیں۔ میں اگرچہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے خود کو ڈھانک کر نکلتی مگر پھر بھی لوگوں کی نظریں اندر تک اترتی ہوئی محسوس ہوتیں۔ جب اس سب کی شکایت میں نے اپنے گھر والوں سے کی تو اس کا عتاب بھی مجھے ہی بھگتنا پڑا۔ میری ٹوٹی پھوٹی تعلیم کو ختم کروانے کی دھمکی دی گئی اور اس بات کا اشارہ دیا گیا کہ اس سب میں بھی کہیں نہ کہیں میں ہی قصوروار ہوں۔

اور پھر وہ دن آن پہنچا جو آج سے چودہ سو سال قبل بھی ہمارا نصیب تھا اور اتنی صدیوں کے بعد بھی ہمارا نصیب ہے۔ معاشرے کے وہ ٹھیکیدار جو آج یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ عورتوں کو مساوی حقوق سے نوازا جا چکا ہے، میری اس جان کو لینے پہنچ گئے جو میری پیدائش کے دن ہی سے ان کی نظروں میں چبھ رہی تھی۔

تانیہ خاصخیلی کے روپ میں ایک درندے نے صرف اس لیے مجھے مار ڈالا کہ میں اس کے ناجائز مطالبات کی تکمیل کرنے سے منکر تھی۔ زرتاج بخت کے روپ میں میری جان اس لیے لے لی گئی کہ میں نے اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کی کوشش خود کی تھی۔ اور قندیل بلوچ کا گناہ تو قابل معافی تھا ہی نہیں۔ اس نے نہ صرف بغاوت کی تھی بلکہ اپنی جیسی اور لڑکیوں کو بھی بغاوت پر اکسایا تھا، جو اس کے بھائی کی غیرت کےلیے قطعاً ناقابل قبول تھا۔

میرا قاتل کوئی بھی ہو، اس میں ایک قدر مشترک ہے: وہ اس معاشرے کا ایک مرد ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔