ایک غلطی کی تصحیح

ساری انسانیت کو بلا تخصیص رنگ و نسل اور قوم قبیلے کے مخاطب کیا گیا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq September 24, 2017
[email protected]

ہم جناب پیر محمد شاہ صاحب اکوڑہ خٹک کے نہایت ہی ممنون و مشکور ہیں کہ انھوں نے ہماری ایک بھول پر نہ صرف ہماری غلطی درست فرمائی بلکہ یہ خوشی بھی دی کہ ہمارا کالم لوگ اتنی توجہ سے پڑھتے ہیں یہ بجائے خود ایک خصوصی اعزاز ہے بلکہ ایک اور تیسرا فائدہ یہ دیا کہ ہمیں آئندہ ایسی بھول کرنے سے محتاط کر دیا۔ غلطی اس کالم کے آخر میں تھی جس میں ہم نے نسلی برتری اور اعلیٰ ذات کے مبالغوں اور مغالطوں پر گرفت کی۔

وہ تو سب اپنی جگہ ٹھیک ہے اور ہمارے خیال میں آباو اجداد کے ناموں پر فخر کرنے بلکہ کمانے سے وہ کمی کمین لاکھوں درجے بہتر ہیں جو اپنی محنت کر کے رزق حلال کماتے ہیں اور ایک جہاں کو اپنی خدمات سے بھی مستفید کرتے ہیں۔ غلطی اصل میں الفاظ یا ایک طرح سے کتابت (ہماری اپنی) میں ہوئی کہ ہم نے ایک حدیث کے ساتھ رواداری میں رب عظیم کا فرمودہ لکھا۔ الکاسب حبیب اللہ قرآن میں نہیں ہے لیکن اصولی طور پر ہم اسے رب عظیم ہی کا فرمودہ بھی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ جناب رسول اللہؐ کی لسان مبارک بھی تو رب عظیم کی تابع فرمان تھی۔ ان کو اگر مفسر اول کہا جاتا ہے کہ قرآن ان ہی کی وساطت سے ان ہی کی زبان مبارک سے ہم تک پہنچا ہے اس لیے اگر وہ فرماتے ہیں کہ ''الکا سب حبیب اللہ'' تو رب عظیم کی منشاکے مطابق ہی کہتے ہیں۔

ان سے زیادہ اور کس کو علم ہو سکتا ہے کہ رب عظیم کی منشا، پسند اور کلام کا مفہوم کیا ہے ؟ اگر کوئی مالک کا خاص الخاص آدمی اگر مالک کا ترجمان اپنے مالک کی منشاء اور مرضی یا پسند و ناپسند کے بارے میں بتائے تو وہی سب سے زیادہ مستند اور قابل اعتبار ہوتا ہے۔ ''علامہ ماتریدی'' نے اصول تفسیر کا جو پیمانہ اور کسوٹی وضع کی ہے اس کے مطابق تفسیر اس یقین کا نام ہے کہ ''لفظ سے بالکل وہی مراد ہے جو اللہ کی ہے'' یہ اتنا سخت پیمانہ اور اتنی کڑی کسوٹی ہے جس پر صرف رسول اللہ ؐ پورے اتر سکتے ہیں اس لیے ان کو مفسر اول بھی کہا جاتا ہے اس کے علاوہ جو بھی تفسیر ہوگی وہ انسانی کوشش ہو گی اور ان کی کوشش یا فہم و سمجھ میں کمی بیشی کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔

خیر جہاں تک ہماری قلمی غلطی کا تعلق ہے تو وہ غلطی ہے چاہے ارادی ہو یا غیر ارادی اور پھر ہم تو اس سلسلے میں نہ کوئی دعویٰ رکھتے ہیں نہ لیاقت۔ البتہ ایک طرح سے اس نا دانستہ قلمی یا کتابت (ہماری) کی غلطی سے ہمیں فائدہ ہوا کہ ایک تو یہ پتہ چلا کہ اس فقیر حقیر پر تقصیر کی تحریر کو اتنے محترم لوگ اتنی توجہ سے پڑھتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ ہوگیا کہ آئندہ کے لیے محتاط ہو جائیں گے۔ در اصل روا روی میں ہم اپنا ہی ایک اصول بھی بھول گئے چونکہ ہم نے ہومیو پیتھک ڈاکٹری بھی پڑھی ہوئی ہے اور اس کا بھی بنیادی اصول ہی ہے کہ اگر کسی مریض کی علامات سن کر تم کو پورا یقین بھی ہو کہ اس کے لیے فلاں دوا موزوں ہے تو پھراپنے حافظے پر بھروسہ نہ رکھتے ہوئے کتاب میں دوبارہ دیکھنا ضروری ہے۔

اور یہ فائدہ بھی ہوا کہ اس کالم میں جو بات تھوڑی سی تشنہ رہ گئی تھی اسے مزید واضح کرنے کا موقع ملا۔ نسلی خاندانی اور قومی برتری کے بارے میں ہم نے لکھا تھا کہ یہ بدعت دنیا میں بنی اسرائیل کی پھیلائی ہوئی ہے۔ اسرائیل نے جہاں کہیں کوئی مشہور نام دیکھا ہے اسے اپنے شجرے میں ڈال دیا ہے جن میں اقوام، انسان اور مقامات کو بھی ایک ''فرد'' بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ''عبر'' ایک نام ہے جو اسرائیلی اجداد میں ہے اور اسی ''عبر'' کی وجہ سے خود کو ''عبرانی'' کہتے ہیں لیکن مستند تورایخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ''عبر'' کوئی فرد نہیں بلکہ ایک قوم تھی جو دریا پار کے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ عبر کے معنی ''پار'' یا پاروالے لوگ ہیں آر۔ بالمقابل پار۔اور بھی بہت کچھ ہے لیکن اصل بحث کی طرف آتے ہوئے ایک مرتبہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ نسلی برتری کی گنجائش اسلام میں بالکل نہیں ہے بلکہ اس لیے قرآن میں کسی قوم قبیلے یا شعوب کو مخاطب نہیں کیا گیا ہے۔

ساری انسانیت کو بلا تخصیص رنگ و نسل اور قوم قبیلے کے مخاطب کیا گیا ہے۔ نسل، قوم یا زبان اور رنگ یا مقام کا کوئی تعین نہیں ہے کیونکہ قرآن کی نظر میں یا خدا کی نظر میں یا رسول اللہ ؐ کی نظر میں صرف انسانیت اور آدمیت ہے جس میں برتری اور کمتری کی بنیاد رنگ و نسل نہیں بلکہ کفر و ایمان پر ہے۔ ایسے میں کم از کم مسلمان اگر نسلی اور خاندانی برتری جتاتے ہیں تو صریح اسلام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔جہاں تک مسلسل خیالات و نظریات کی وجہ سے ''پیشے'' کی وجہ سے برتری اور کمتری کا تعلق ہے تو واقعاتی لحاظ سے بھی یہ اُلٹا ہے۔

ایک کسان اگر خون پسینہ بہا کر روٹی نہ اگائے تو دنیاکا سارا نظام یہ سائنس ٹیکنالوجی بینک ایجادات اختراعات زر و جواہر اور کرنسی سب کچھ بیکار ہو کر رہ جائے کہ اگر آئزک نیوٹن، آئن اسٹائن وغیرہ کے پیٹ میں روٹی نہ ہوتی تو وہ نہ کچھ سوچ پاتے نہ کرپاتے اب بھی اگر زمین زادہ مزدور اور سارے پیشہ ور ہاتھ کھینچ لیں تو دو دن میں دنیا چیخ پڑے سارے کے سارے پیشہ ور، کرنے والے، پیدا کرنے والے، بنانے والے سنوارنے والے جو معاوضہ پاتے ہیں وہ ان کے کام اور دینے کے مقابل کچھ بھی نہیں جیسے کہ ہم نے روٹی کے بارے میں دیکھا کہ دنیا کی ساری دولت بھی اس کے مقابل ''ہچ'' ہے اور کسان کو ہم دیتے کیا ہیں کمی کمین کا خطاب، بھوک، بے بسی اور لاچاری اس لیے خدا سے ڈریئے کہ کچھ بھی نہ کر کے مکمل نکھٹو بن کر آپ ابلیسی برتری کیوں جتاتے ہیں؟