فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ

فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ ہونے کے بعد ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا


Editorial September 25, 2017
 فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ ہونے کے بعد ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا . فوٹو : فائل

KARACHI: وفاقی حکومت نے فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ کر دی ہیں جس کے تحت قبائلی علاقہ جات میں پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح پولیس ایکٹ 1961ء نافذ ہو گا' اسی طرح فاٹا کے بنیادی عدالتی نظام میں بھی تبدیلی لائی گئی ہے جس کے بعد وہاں بھی نیا عدالتی نظام لاگو ہو گا۔ صدر مملکت کی طرف سے فاٹا میں بنیادی اصلاحات کی منظوری دے دی گئی ہے۔

فاٹا میں ایک عرصے سے بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تا کہ وہاں کے مقامی لوگوں کو پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح قومی ترقی کے عمل میں شریک کار کیا جا سکے۔ فاٹا میں ایف سی آر کا قانون نافذ ہونے کے باعث یہاں پر انگریز کا قانون چلا آ رہا تھا اور تمام اختیارات پولیٹیکل ایجنٹ کو حاصل تھے جسے اس علاقے کا انتظام چلانے کے لیے لیوی فورسز کا تعاون حاصل تھا۔ 12 ستمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی جس میں حکومت نے ایف سی آر کے خاتمے کے لیے نیا بل لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اب فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کے بعد لیویز کے نظام کو پولیس کے نظام سے بدل دیا گیا ہے، اب لیویز کمانڈنٹ کے بجائے آئی جی پولیس سربراہ ہوں گے جب کہ نائب تحصیلدار سے کم عہدے کے شخص کو پولیس افسر تعینات نہیں کیا جا سکے گا۔ اطلاعات کے مطابق تحصیل لنڈی کوتل کے جن دیہات میں یہ قوانین نافذ کیے گئے ہیں ان میں باچہ میلہ' طورخم گیٹ' شمشاد ہل ٹاپ اور ایوب ایف سی پکٹ کابلو میلہ شامل ہیں۔ متعلقہ حدود کے پولیٹیکل ایجنٹ کو اب سیشن جج' مجسٹریٹ' مجسٹریٹ درجہ اول جب کہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ فاٹا ٹربیونل کو ہائیکورٹ سے تبدیل کیا گیا ہے' پولیٹیکل ایجنٹ اب ڈی سی او کے طور پر بھی کردار ادا کر سکیں گے۔

ان تبدیلیوں میں پولیٹیکل ایجنٹ اور ماتحت دفاتر کے عدالتی کردار اور ان دیہات میں لیوی فورس کے فاٹا کے رسم و رواج کے تحت جزوی پولیس اختیارات پر عملدرآمد شامل ہے۔ اب فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ ہونے کے بعد ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، وہاں ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے جائیں گے اور فاٹا کے عوام کو تمام قانونی' آئینی اور بنیادی انسانی حقوق بھی مل جائیں گے۔ ناقدین کی جانب سے ایک عرصے سے یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ فاٹا کے مقامی لوگ پورے پاکستان میں کہیں بھی جا کر کاروبار کر لیتے ہیں جب کہ وہاں ایف سی آر کا قانون نافذ ہونے کے باعث دیگر علاقوں کے لوگ وہاں جا کر کاروبار نہیں کر سکتے تھے۔ جس کی وجہ سے اس علاقے میں کاروباری سرگرمیاں فروغ نہیں پا سکیں اور نہ ہی صنعتی ترقی ہو سکی۔

فاٹا میں بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کے بارے میں بھی سیاستدان دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے' ایک گروپ اسے خیبرپختونخوا کا حصہ بنانا اور دوسرا اسے الگ صوبہ بنانے پر مصر ہے۔ سیاستدانوں کے ایک گروپ کا نکتہ نظر یہ ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مناسب طریقہ یہ ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں اس کی مکمل نمایندگی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ اب وفاقی حکومت جلد از جلد فاٹا کو صوبائی حکومت کے تحت لانے کے لیے اقدامات کرے' اس سے وہاں آئینی اور بنیادی ڈھانچہ قائم ہونے سے اصلاحات کا عمل تیز ہو گا' لینڈ ریفارمز ہونے سے معاشی اور صنعتی شعبے کو مہمیز ملے گی اور روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

ادھر ناقدین کا موقف ہے کہ حکومت نے فاٹا میں بنیادی اصلاحات تو نافذ کر دی ہیں لیکن اسی پولیٹیکل ایجنٹ اور لیویز کو نئی تبدیلیوں کے تحت عہدوں پر فائز رکھا ہے' حکومت وہاں پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح سی ایس ایس پی افسران تعینات کرے اور پولیس افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی بھی باقاعدہ امتحانات کے ذریعے کی جائے تب ہی وہاں حقیقی معنوں میں تبدیلی کا عمل شروع ہو گا۔

فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے یا الگ صوبہ بنایا جائے' اس کے لیے جلد اقدامات کرنے چاہئیں' فاٹا قومی دھارے میں شامل ہو جائے تو اس سے ڈیورنڈ لائن کا تنازع بھی ختم ہونے کی امید کی جا سکتی ہے' فاٹا کو پاکستان کے آئین و قانون کے ماتحت کر کے ہی یہاں ترقی کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فاٹا میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پاک افغان سرحد کے معاملات کو بھی درست کرنا ہو گا اور افغانستان سے بلاروک ٹوک آمد و رفت کو بھی روکنا ہو گا' اگر سرحدی معاملے کو ٹھیک نہ کیا گیا تو فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے یا علیحدہ صوبہ بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔