پاکستان پر دوطرفہ حملہ

بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی کارروائیاں کر رہا ہے


Editorial September 25, 2017
پبھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی کارروائیاں کر رہا ہے فوٹو: فائل

گزشتہ روز پاکستان پردوطرفہ حملہ ہوا۔ ایک طرف نکیال سیکٹر پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے ایک پاکستانی لڑکی شہید جب کہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف ڈیورنڈ لائن پر خیبرایجنسی کے سرحدی علاقہ راجگال کے علاقے میں نئی چیک پوسٹ پر افغانستان سے دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے افسر لیفٹیننٹ ارسلان عالم ستی شہید ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق راجگال کے علاقے میں نئی چیک پوسٹ پر افغانستان سے دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ ارسلان عالم شہید ہو گئے ہیں۔ جوابی کارروائی میں 3 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جن کے ساتھی فرار ہوتے ہوئے ان کی لاشیں اپنے ساتھ اٹھا کر افغانستان لے گئے۔ مشرقی سرحد کی طرف سے سرحدی گاؤں پر بھارت کی بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی کارروائیاں کر رہا ہے، ہم دشمن کو اس کی زبان میں جواب دینا جانتے ہیں، یہ بھارت کی بھول ہے کہ وہ پاکستان کے نہتے شہریوں پر گولہ باری کے ذریعے کسی طرح کا رعب قائم کر سکے گا۔

وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ دشمن کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے ہم مستقل بنیادوں پر بنکرز تعمیر کر رہے ہیں اور ہماری افواج شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں، تمام نقصانات کا ازالہ کیا جائیگا۔ البتہ افغانستان کی طرف سے آنے والے دہشت گردوں کی کارروائی کے بارے میں ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا' اصولی طور پر جس طرح بھارت کی کارروائی کے بارے میں سخت ردعمل آیا ہے' اسی طرح کا ردعمل افغانستان تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔

فہمیدہ حلقے اس معاملے پر مشوش ہیں کہ ہمارے مشرق میں بھی خطرات ہیں اور شمال مغرب میں بھی خطرات ہیں ' افغانستان سے مسلسل دراندازی ہو رہی ہے لیکن مشرقی خطرات پر تو گرجداورسخت ردعمل سامنے آتا ہے لیکن شمال مغربی سرحد پر ہونے والی سرحدی خلاف ورزیوں پر کسی قدرمصلحت اندیشی اختیار کی جاتی ہے اور اگر کبھی ردعمل دینا بھی پڑے تو وہ نحیف آواز میں ہوتا ہے' شاید اسی کو افغانستان کی حکومت نے پاکستان کی کمزوری کے طور پر لیا ہے۔

پاکستان کے ارباب اختیار کو اس پہلو پر غور کرنا چاہیے اور ان وجوہات کو عوام کے سامنے لانا چاہیے جن کی بنا پر کمزور ردعمل دیا جاتا ہے' مصلحت کوشی اختیار کی جاتی ہے۔ خیبر ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر حملے اور فوجی افسر کی شہادت پر افغانستان کی حکومت سے سخت الفاظ میں احتجاج کیا جانا چاہیے تاکہ افغانستان کی حکومت کو بھی مسئلے کی سنگینی کا احساس ہو سکے بلکہ اس معاملے پر افغانستان میں مقیم امریکی فوجی کمانڈ تک بھی تحفظات پہنچائے جانے چاہئیں ۔