ڈرون حملوں سے بچائو کیلیے القاعدہ نے 22 ترکیبوں پر مشتمل کتابچہ تیار کرلیا
ڈرون حملوں سےبچنےکی یہ22ترکیبیں صحرائےعرب میں سرگرم القاعدہ کےسینئرکمانڈرعبداللہ بن محمدنےتیارکی ہیں, امریکی میڈیا.
اسکائی گریبرخریدیں،ٹھکانوں،گاڑیوں کی چھتوں پرشیشے لگائیں،مستقل ٹھکانا نہ بنائیں،مصنوعی منظرتشکیل دیا جائے، امریکی میڈیا کی رپورٹ. فوٹو: رائٹرز/ فائل
القاعدہ نے ڈرون حملوں سے بچنے کیلیے 22 ترکیبیں اپنے کارکنوں میں تقسیم کردیں۔
پہلی ترکیب روسی ڈیوائس اسکائی گریبر کی ہے، تیسری ترکیب ٹھکانوں اور گاڑیوں کی چھتوں پر چمکدار شیشے لگانے کی ہے، ساتویں ترکیب کے مطابق مستقل ٹھکانا نہ بنایا جائے، دسویں اور بیسویں ترکیب میں درختوں اور غاروں میں پناہ لینے کے بارے میں ہے، پندرہویں ترکیب میں بتایا گیا ہے کہ ڈرون میزائل اینٹی پرسونل ہوتے ہیں، اٹھارہویں ترکیب میں القاعدہ کے کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ ڈرون کو دھوکا دینے کیلیے مصنوعی منظر تشکیل دیا جائے۔
امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملوں سے بچنے کی یہ22 ترکیبیں صحرائے عرب میں سرگرم القاعدہ کے سینئر کمانڈر عبداللہ بن محمد نے تیار کی ہیں۔ دراصل یہ فہرست فرانسیسی فوج کو شمالی افریقا کے القاعدہ گروپ کیخلاف کارروائی کے دوران ہاتھ لگی۔ پہلی ترکیب ڈھائی ہزارڈالر مالیت کی روسی ڈیوائس اسکائی گریبر سے متعلق ہے۔ اسکائی گریبر سے ڈرون فریکوئنسی کا پتا لگا کر اسے دی جانے والی ہدایات کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ تیسری ترکیب کا تعلق اپنے ٹھکانوں کی چھتوں اور گاڑیوں کی چھتوں پر چمکدار شیشے لگائے جائیں۔

ساتویں ترکیب میں کہا گیا ہے ڈرون حملوں سے بچنے کیلیے ضروری ہے کہ کہیں بھی مستقل قیام نہ کیا جائے اور اپنا ٹھکانا تبدیل کرتے رہیں۔ دسویں اور بیسویں ترکیب میں درختوں اور غاروں میں ٹھکانے کے بارے میں ہدایت دی گئی ہے۔ پندرہویں ترکیب میں بتایا گیا ہے کہ ڈرون سے فائر کیے جانے والے میزائل اینٹی پرسونل ہوتے ہیں، اینٹی بلڈنگز نہیں اس لیے عمارات میں پناہ لینا فائدہ مند ہوتا ہے۔
اٹھارہویں ترکیب میں القاعدہ کے کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ ڈرون کو دھوکا دینے کیلیے مجسموں اور گڈے گڑیوں سے ایسا منظر تشکیل دیا جائے جیسے لوگ بیٹھے بات کررہے ہیں۔ خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے کارکنوں کی ایک ترکیب اپنی گاڑیوں کو چھپانے کے لیے ان پر بڑے قالین ڈالنے کی بھی ہے۔ اس طرح کچھ ڈرون انھیں زمین پر بچھا قالین سمجھتے ہیں۔ بعض نئے ڈرون اگرچہ ہیٹ سینسرز سے انجن کی گرمی کا پتا لگا لیتے ہیں لیکن وہ درجہ حرارت اردگرد کے ماحول جتنا ہی ہوتا ہے۔