مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال جاری گورو کا جسدخاکی دینے کا مطالبہ

علیحدگی پسندوں نے بھی احتجاجی تحریک کاآغازکردیا،پولیس کا مشتاق زرگرکے گھر پرچھاپہ،خواتین پرتشدد، متعدد زخمی.


Net News February 23, 2013
سرینگرمیں نیم فوجی دستے تعینات،آمدورفت پرپابندی، گورو کی میت واپس لانے کیلیے مشترکہ پالیسی بنائی جائے،میرواعظ. فوٹو : فائل

ISLAMABAD: بھارتی پارلیمان پرحملے کی سازش کے مبینہ مجرم افضل گورو کو خفیہ طور پرنئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیے جانے کے2ہفتوں بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

تہاڑ جیل سے افضل کے باقیات کی واپسی کیخلاف علیحدگی پسندوں نے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے جس کیخلاف حکومت نے دوبارہ سیکیورٹی کے حوالے سے پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ ہڑتال کے تیسرے روز جمعے کو حکومت نے سرینگر اوردیگر قصبوں میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو تعینات کرکے گاڑیوں اور لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس دوران سید علی گیلانی نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر بدستور نظربند ہیں۔ پولیس کے سربراہ اشوک پرساد نے کہا ہے کہ 'علیحدگی پسندوں پر پابندیاں نافذ کرنا ایک مجبوری ہے۔

20

اس دوران گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہریں پرکالی مرچ سے بنی گیس کی گولیاں پھینکنے سے متعدد نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔ عسکری گروپ العمر مجاہدین کے کمانڈر مشتاق زرگر کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں خواتین پر تشدد کیا۔ مشتاق زرگر کے گھر پر پولیس کے چھاپے کیخلاف کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ نے سخت ردعمل ظاہرکیا ہے۔ دریں اثنا نظربندی کے دوران جاری کیے گئے ایک بیان میں میر واعظ عمرفاروق نے علیحدگی پسند قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ افضل گوروکی میت واپس لانے کیلیے مشترکہ پالیسی مرتب کریں۔

مقبول خبریں