عراقی کردستان میں ریفرنڈم

اس خطے کے طاقتور ممالک اس ریاست کے حق میں نہیں ہیں


Editorial September 27, 2017
اس خطے کے طاقتور ممالک اس ریاست کے حق میں نہیں ہیں.فاٹو: فائل

عراقی کردوں نے گزشتہ روز اپنی آزادی کے حوالے سے ریفرنڈم میں ووٹ کا حق استعمال کر لیا ہے' اس ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا ہے مگر عراق اور اس کے پڑوسی ممالک میں اس حوالے سے کشیدگی پیدا ہوگئی۔ واضح رہے کردوں کی آبادی مشرق وسطیٰ کے متعدد ملکوں میں بٹی ہوئی ہے اور وہ ایک طویل عرصے سے باہمی اتحاد کی کوششیں کر رہے ہیں۔ چند ماہ قبل شام کے جنوبی علاقے میں بھی کردوں نے علاقائی طور پر ریفرنڈم کرایا تھا۔

میڈیا کے مطابق عراق میں ہونے والا گزشتہ روز کا ریفرنڈم پر امن ماحول میں منعقد ہوا مگر اس دوران سیاسی بدامنی کا خوف ضرور پھیلا ہوا تھا بالخصوص اس وقت جب ریفرنڈم کے موقع پر عراقی اراکین اسمبلی کی طرف سے امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوجی دستے تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ متنازعہ علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کے خراب ہونے کا خدشہ موجود تھا۔

پولیس کے مطابق غروب آفتاب کے بعد کرکوک کے شہر میں رات بھر کا کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ ایران اور ترکی دونوں کی طرف سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ کردوں کے ریفرنڈم کے نتیجے میں ان کے ملکوں میں بھی علیحدگی پسندی کی تحریک شروع ہو جائے گی۔ ترکی نے اپنی سرحد بند کرنے اور تیل کی برآمدات روکنے کی دھمکی دیدی ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق' ایران' ترکی اور شام میں جن علاقوں میں کردوں کی اکثریت ہے ان تمام علاقوں میں تیل کے بھاری ذخائر موجود ہیں اور یہ ملک نہیں چاہتے کہ کرد آبادی تیل والے علاقوں سمیت علیحدگی اختیار کر لے۔ دوسری طرف ریفرنڈم میں حصہ لینے والے کرد نمایاں طور پر پرجوش تھے اور وہ تصور کر رہے تھے جیسے ان کا دیرینہ خواب پورا ہونے کو ہے تاہم کرد حکام کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے نتیجے میں فوری طور پر کردوں کے اعلان آزادی کا کوئی امکان نہیں ہے البتہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کا کافی ہجوم تھا اور تمام بازاروں میں کردوں کے پرچم نصب کر دیے گئے تھے۔

ریفرنڈم میں حصہ لینے کے لیے ووٹر پولنگ کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی لائنوں میں کھڑے ہو گئے تھے جب کہ مردوں نے کردوں کا روایتی لباس زیب تن کر رکھا تھا جو کہ براؤن شرٹ اور شلوار ٹائپ گھیرے دار پتلون پر مشتمل ہوتا ہے۔

عراق کردستان میں ریفرنڈم بڑی اہم پیش رفت ہے اور اس کے آزاد کرد ریاست کے قیام کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے' بہرحال آزاد کرد ریاست کا قیام آسان نہیں ہے کیونکہ اس خطے کے طاقتور ممالک اس ریاست کے حق میں نہیں ہیں لیکن اب ایک بات طے ہے کہ عراق اور شام کے کردوں کے ریفرنڈم میں کیے گئے فیصلے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکے گا اور کردوں کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا' ایران اور ترکی کو اس حوالے سے سوچنا چاہیے۔