زیادہ ٹی وی دیکھنے والے بچے موٹے اور جنگجو ہوتے ہیں

بچوں کو روزانہ دو گھنٹے سے زائد ٹی وی نہیں دیکھنا چاہیے،کینیڈین ماہرین


Net News August 05, 2012
بچوں کو روزانہ دو گھنٹے سے زائد ٹی وی نہیں دیکھنا چاہیے،کینیڈین ماہرین

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ ٹی وی دیکھنے والے بچے جسمانی طور پر موٹے اورذہنی طور پر جنگجو واقع ہوتے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ ٹی وی دیکھنا بچوں میں ذہنی وجسمانی مسائل کا سبب بنتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ دو گھنٹے سے زائد ٹی وی نہیں دیکھنا چاہیے۔

کینیڈا میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق دو سے چار سال کی عمر کے جو بچے ہفتے میں زیادہ وقت ٹیلی ویڑن کے سامنے گزارتے ہیں ان کی دس سال کی عمر میں کمر کی موٹائی زیادہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔بائیو میڈ سینٹرل جریدے میں شایع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ٹیلی ویڑن کے سامنے ہفتے میں ایک گھنٹہ زیادہ بیٹھنے سے کمر کی موٹائی میں نصف ملی میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ایک ہزار تین سو چودہ بچوں کی ٹی وی دیکھنے کی عادت کا مشاہدہ کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ دو گھنٹے سے زائد ٹی وی نہیں دیکھنا چاہیے۔ان بچوں میں سے نصف کے والدین کے مطابق ان کے بچے اس عمر میں ہر ہفتے اوسطً اٹھارہ گھنٹے ٹیلی ویڑن دیکھتے ہیں۔محققین کے مطابق چار سے چھ سال کی عمر میں ہفتے میں اٹھارہ گھنٹے ٹیلی ویڑن دیکھنے والے بچوں کی کمر دس سال کی عمر میں سات اعشاریہ چھ ملی میٹر زیادہ موٹی ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران بچوں کے لانگ جمپ یا چھلانگ لگانے کے ٹیسٹ بھی کیے گئے تاکہ ان کے پٹھوں کی صحت اور ایتھلیٹک صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔اس جائزے سے معلوم ہوا کہ روزانہ ایک گھنٹہ اضافی ٹی وی دیکھنے کی صورت میں بچے کی چھلانگ لگانے کی حد میں صفر اعشاریہ تین چھ فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں