انتشار و بحران کی شکار ملکی سیاست

حالیہ دنوں ملک میں سیاسی صورتحال انتشار و بحران کا شکار ہے


Editorial September 28, 2017
حالیہ دنوں ملک میں سیاسی صورتحال انتشار و بحران کا شکار ہے ۔ فوٹو: فائل

حالیہ دنوں ملک میں سیاسی صورتحال انتشار و بحران کا شکار ہے جس نے خاص کر عوام کو بے چینی و اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے، عوام منتظر ہیں کہ سیاست دانوں کی عملی دو رخی اور آئین و قوانین سے ٹکراؤ کے ہولناک طرز عمل کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ ملکی سالمیت اور ریاست میں جمہوری نظام کی بقا کے لیے نہ صرف اداروں کا باہمی ٹکراؤ روکا جانا چاہیے بلکہ سیاستدانوں کو اپنے تمام تر معاملات آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے نمٹانے چاہئیں۔ انتشار و انارکی کی فضا کسی کے بھی مفاد میں نہیں، غیر یقینی صورتحال کے بادلوں کو اب ملکی افق سے چھٹ جانا چاہیے۔

ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ عدالتوں میں زیر سماعت ہے، یہ امر خوش آیند ہے کہ سابق وزیراعظم ملک واپسی کے بعد بالآخر عدالت میں پیش ہوگئے، ورنہ اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ابہام پیدا کیے جارہے تھے کہ سابق وزیراعظم ملک واپس نہیں آئیں گے، صائب ہوتا کہ کیس میں مطلوب دیگر افراد بھی عدالت میں پیش ہوتے لیکن عدم حاضری پر عدالت نے نواز شریف کے بچوں اور داماد کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں، جب کہ سابق وزیراعظم کی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست فرد جرم عائد ہونے تک مسترد کردی ہے۔

علاوہ ازیں برطانوی میڈیا کے اس دعوے نے بھی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ سابق حکمران خاندان کے خلاف قانون کا گھیرا تنگ ہوتے ہی وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ''ڈیل'' کی بازگشت سنائے دینے لگی ہے۔ حالیہ کشمکش میں ایسی افواہیں مزید انارکی کو جنم دیں گی۔

دوسری جانب نواز شریف نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ خدارا ملک کو آئین کے مطابق چلنے دو۔ نواز شریف کا یہ جملہ سوچ کے در وا کرتا ہے کہ ''فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ بھی نہیں رہتی''۔ اور یہی نکتہ عوام کے لیے بھی سوہان روح بنا ہوا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی قبولیت کے بجائے انتشار کی سیاست کو کیوں جنم دیا جارہا ہے۔

اضطراب، تناؤ اور باہمی چپقلش کی اندوہناک داخلی صورتحال کا اعصاب شکن منظرنامہ متقاضی ہے کہ ذاتی انا اور اقتدار کی خواہش پر ملکی سالمیت اور اجتماعی مفادات کو ترجیح دی جائے۔ دوسری جانب فرد واحد کے خلاف کارروائی کا تاثر بھی زائل ہونا چاہیے۔ آئین و قانون سب کے لیے یکساں ہے تو دائرہ کار بھی سب پر لاگو کیا جانا چاہیے۔ بہرحال قانون کی بالادستی ہی تمام فریقین کے مطمع نظر رہنی چاہیے۔