قومی اسمبلی میں نیا اپوزیشن لیڈر لانے کی دوڑ

سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور اس کے رنگ ڈھنگ نرالے ہوتے ہیں


Editorial September 28, 2017
سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور اس کے رنگ ڈھنگ نرالے ہوتے ہیں ۔ فوٹو: فائل

سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور اس کے رنگ ڈھنگ نرالے ہوتے ہیں۔ کبھی دوست دشمن بن جاتے ہیں توکبھی مخالفین باہم شیروشکر ہوجاتے ہیں، ایسا ہی کچھ ہوا ہے متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کی تبدیلی کے لیے تحریک عدم اعتماد لانے اور مستقبل میں ورکنگ ریلیشن شپ بڑھانے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

اپوزیشن لیڈرکی تبدیلی کے لیے دیگر پارلیمانی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس بات پراتفاق منگل کوایم کیوایم کے سربراہ فاروق ستاراور پی ٹی آئی کے مرکزی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے درمیان متحدہ مرکز میں ملاقات میں کیا گیا۔ فاروق ستارنے کہاکہ چار سال میں پیپلزپارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کاکردار اداکرتے ہوئے عوام کے دیرینہ مسائل سے چشم پوشی اختیار کی ہے۔

دوسری جانب متحدہ اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں پر قائد حزب اختلاف خورشیدہ شاہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں بدنظمی کے لیے ڈراما کررہی ہے ۔ پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کو اتنا برا بھلا کہا ا ور آج ہاتھ جوڑ کر ان کے پاس جارہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو ۔ بلاشبہ جمہوریت میں سب کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی ہے اور اس کا بہترین فورم اسمبلی ہوتی ہے ، اب اگر متحدہ قومی موومنٹ ، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں مل کر نیا قائد حزب اختلاف لانا چاہتی ہیں تو یہ ان کا جمہوری اور آئینی حق ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم تبدیلی کے عمل کا آغاز اور انجام دونوں ہی پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں، سڑکوں پر نہیں۔

دراصل یہ بھی ایک نمبرزگیم ہے، جو بھی پارٹی زیادہ سے زیادہ ہم خیال اراکین قومی اسمبلی اور سیاسی جماعتوں کو اپنے موقف پر قائل کر پائے گی اپوزیشن لیڈر اسی کا ہوگا، پیپلز پارٹی کو اپنے ''اپوزیشن لیڈر'' کو بچانے کے لیے ہم خیال سیاسی جماعتوں اور اراکین اسمبلی سے رابطے بڑھانے چاہئیں ۔جمہوریت کے استحکام کے لیے اسمبلی کے فورم کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے ، ووٹنگ کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ نیا اپوزیشن لیڈرکون ہوگا یا پھر پرانے والے ہی اپوزیشن لیڈر اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائیںگے، جو بھی فیصلہ آیا وہ جمہوریت اور جمہوری عمل کو مزید استحکام اور دوام بخشے گا، جمہوریت کا حسن اسی میں مضمر ہے۔