پاک افغان بارڈر مینجمنٹ امن کی کنجی

خطے کے اسٹیک ہولڈر اس حقیقت کا ادراک کریں کہ دہشتگرد کسی کے دوست نہیں


Editorial September 28, 2017
خطے کے اسٹیک ہولڈر اس حقیقت کا ادراک کریں کہ دہشتگرد کسی کے دوست نہیں.فوٹو: فائل

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملک سے بڑھ کر افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کا خواہش مند ہے، اس کی وجہ سے پاکستان کو افغانستان کے ساتھ سرحد پر عدم استحکام اور تنازعات کا سامنا ہے، وزیر خارجہ کا یہ استدلال ہے کہ ہم سے وہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے جو دنیا کے انتہائی طاقتور اور امیر ممالک نہیں کر سکے، مؤثر بارڈر مینجمنٹ ہی اصل کنجی ہے، افغانستان کی جانب سے سرحد پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے جہاں دہشتگرد عناصر نے اپنی آسان محفوظ پناہ گاہیں تلاش کر رکھی ہیں۔ اس مسئلہ کا عسکری حل نہیں ہے، داعش جیسے نئے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہم خیال ممالک میں وسیع تعاون اور مضبوط شراکت داری کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کی ان تاریک قوتوں کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ وہ گزشتہ روز نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر خارجہ نے خطے میں دہشتگردی کے بنیادی اسباب، عوامل اور تہہ در تہہ داخلی، علاقائی اور عالمی طاقتوں کی مفاداتی جنگ کے سیاق و سباق میں پاکستان کو تزویراتی میدان میں درپیش مشکلات اور پیدا شدہ پیچیدہ صورتحال پر اہم باتیں کیں جب کہ غیر متوقع طور پر حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کے حوالہ سے ان کی معروضات کے متنازع حصہ پر ملک کے سیاسی اور مذہبی حلقوں نے اپنا رد عمل بھی دیا ہے تاہم افغانستان کی پٹی پر ہونے والے واقعات کے فال آؤٹ اور دیگر سنگین سیاسی اور اسٹریٹجیکل مضمرات و نتائج پر ان کے انداز نظر پر اختلاف کی گنجائش ہے لیکن سنجیدہ اور غیر جذباتی طور پر زمینی حقائق کا باریک بینی سے تجزیہ اور ان پر غور و فکر کرنا ناگزیر ہے جس نے دو برادر اور ہمسایہ ملکوں کے مابین مخالف قوتوں کو بلاوجہ نفاق کے بیج بونے کے مواقع دیے، دہشتگردی مسلط کی گئی، سرحدی جھڑپوں، فائرنگ اور پاکستان سے فرار ہونے والے طالبان دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے مہیا کیے گئے۔

بہرحال اب بھی پاک افغان خیر سگالی باب بند نہیں ہوا، صدر اشرف غنی زیتون کی شاخ لے کر اور پاکستان افغانستان کے تالیف قلوب اور دوستانہ شراکت داری کا آغاز کر کے بارڈر کی موثر انتظام کاری سے خطے کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، اس لیے ڈو مور کا یک طرفہ مطالبہ مناسب نہیں، سب ڈو مور کے میثاق پر متفق ہوں جب کہ عالمی طاقتیں پاک افغان سرحد کی دو طرفہ مانیٹرنگ کا کوئی ٹھوس میکنزم بھی وضع کرنا چاہیں تو دہشتگردوں کی آزادانہ اور مشکوک نقل و حمل کا سدباب کرنا آسان ہوگا جو کثیر جہتی فوائد کے ساتھ ساتھ امن و استحکام کے مشترکہ کاز کو آگے لے جاسکتا ہے۔

خطے کے اسٹیک ہولڈر اس حقیقت کا ادراک کریں کہ دہشتگرد کسی کے دوست نہیں، پاکستان کسی قسم کی پراکسی وار میںملوث نہیں، اسے دہشگردی کی مد میں ناقابل بیان مصائب اور چیلنجز کا سامنا ہے، کنٹرول یا ڈیورنڈ لائن ہو یا علاقائی اقتصادی، سیاسی اور سماجی شعبے میں غیر مفاداتی تعاون و اشتراک پاکستان ہر وقت امن کا خواہاں رہا ہے، مگر افسوس اس کی اس وسیع المشربی اور امن پسندی کو کمزوری سمجھا گیا حالانکہ طالبان کے ریاست گریز رویے اور دہشتگردانہ کارروائیوں کے باوجود پاکستان کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی کہ سارک ممالک اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کریں، کشمیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہو، اور افغانستان میں شورش کے خاتمہ کی کوئی دیرپا صورت نکل آئے کیونکہ مستحکم افغانستان سب کے مفاد میں ہے۔

بلاشبہ تاریخی حقائق کڑوے اور سنگلاخ زمینی سچائی کے باعث قوموں کو دلیرانہ پیش رفت پر مجبور کر دیتے ہیں اور قوموں کو اپنے سیاسی فیصلوں پر نظر ثانی بھی کرنا پڑتی ہے،اس تناظر میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کو اگر کوئی تسلیم نہیں کرتا تو اس سے بڑی تاریخی ناانصافی اور نہیں ہو سکتی، خواجہ آصف کا بیان پیراڈائم شفٹ ہے، تلخ حقائق بیان ہوئے ہیں مگر دنیا خطے میں کشیدگی، جنگجویانہ مہم جوئی، اور پاک افغان تعلقات میں دراڑیں پڑنے کی وجوہ سمیت دہشتگردی کے خارجی عوامل میں اس کے حل کی جستجو جاری رکھے، نائن الیون نے خطے کو آتشکدہ جب کہ اس کے نتیجہ میں پاکستان جرم بے گناہی میں دہشتگردی کا ستم رسیدہ بن گیا، چنانچہ ڈو مور کے بیرونی مطالبے سے متفق ہونے کی وجوہ پر وزیر خارجہ کی معروضات لائق توجہ ہیں، انھوں نے 80ء کی دہائی میں امریکا کا آلہ کار بننے کو سنگین غلطی قرار دیا ۔

جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔ کون انکار کر سکتا ہے کہ تزویراتی خلاء کے باعث بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے، کئی افغان رہنما مخصوص مفادات کے لیے پاکستان سے کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری کی جانب پیشرفت کے لیے بارڈر مینجمنٹ کے کلیدی فیکٹر پر نظریں مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، پاکستانی بیانیہ میں کوئی ابہام نہیں کہ گزشتہ 15 سال سے افغانستان میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں پوست کے کاشت میں مسلسل اضافہ، طالبان کا کھوئے ہوئے حصوں پر واپس قبضہ، شدت پسند تنظیم داعش کی وہاں موجودگی اور ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن جیسے مسائل کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش میں بھی پاکستانی مصالحتی کردار نمایاں ہے۔