5 سال کا حساب ہر جگہ دینے کو تیار ہیں وزیراعظم

وزیراعظم کو اجرک اور سندھی ٹوپی کے تحائف، شیلڈ بھی دی گئی، راجا پرویز سانگھڑ میں اپنے آبائی علاقے بھی گئے


News Agencies/Numaindgan Express February 24, 2013
حیدرآباد:وزیراعظم راجا پرویز اشرف گورنمنٹ کالج میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: این این آئی

وزیراعظم راجا پرویزاشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم کا متحدہونا ضروری ہے، دہشت گردی کے خاتمے ، امن و امان کو ٹھیک کرنے، مہنگائی کو قابوکرنے اور توانائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پارلیمنٹ اورجمہوریت کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔

بعض لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں لیکن نہ تو انھوں نے کوئی گاؤں یا قصبہ دیکھا ہے اور نہ ہی غربت دیکھی ہے۔انھیں پتہ ہی نہیں ہے کہ زندگی کی حقیقت کیاہے، لیکن ہم صرف یہ کہتے ہیں فکر کی کوئی بات نہیں، ہم بھی اور آپ بھی دونوں بہت جلد عوام کی عدالت میں ہوں گے۔ پھر دیکھیں گے، جس کو عوام چاہیں گے اسے حکومت کرنے کا حق ہوگا اور یہی جمہوریت ہے، اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے، تھوڑا صبر تو کرو۔ ہماری حکومت نے 5 سال مکمل کیے ہیں اور اس کا حساب دینے کے لیے ہم تیار ہیں۔

ہم 5 سال کا حساب دینے کیلیے تیار ہیں، ہم ہر عدالت، ہر جگہ اور ہر میدان میں کھڑے ہوکر یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 5 سال کے دوران جتنے ترقیاتی اور بڑے انقلابی کام کیے، وہ 65 سال میں کوئی نہیں کر سکا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کو حیدرآباد میں اپنی مادر علمی گورنمنٹ کالج پھلیلی کے دورے کے موقع پر اساتذہ اور طالب علموں سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے صحافیوں سے مختصر بات چیت میں کہا کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائین کا معاہدہ ہمارے توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ پوری دنیا کے علم میں ہے کہ پہلے اس منصوبے میں پائپ لائین بھارت تک جا رہی تھی، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا توانائی کا بحران کسی طرح ختم ہو کیونکہ یہ ہماری معیشت کے لیے بڑا بوجھ بن گیا ہے۔

قبل ازیں انھوں نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا گیا اور ایک آمر نے اس میں اپنا نام تک لکھوا دیا جس کے بعد کوئی بھی آئین کو بدل نہیں رہا تھا لیکن پیپلز پارٹی ملک کے متفقہ آئین کو اس کی اصل صورت میں واپس لیکر آئی۔ انھوں نے کہاکہ ماضی میںکاشت کاروں کے حالت خراب تھے اور سال 2008 میں ملک میں آٹا نہیں تھا اور پاکستان28 لاکھ ٹن گندم باہر سے منگواتا تھا لیکن ہماری ایک سال کی انقلابی پالیسی کی بدولت خدا کے فضل وکرم سے آج پاکستان غلہ ملک سے باہر بھیجنے کے قابل ہے۔ جنتی نوکریاں پیپلز پارٹیکی حکومت نے صوبہ سندھ میں دیں، اس کی مثال65 سال میں نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود بے روزگاری ہے، ہم نے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

11

ہم نے اپنے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بہت کچھ کرنا ہے، ان کی درسگاہیں ٹھیک کرنی ہیں اور ان کی ملازمتوں کا بندوبست کرنا ہے۔ ہم نے اپنے گاؤں اور سڑکیں ٹھیک کرنی ہیں، ملک سے توانائی کے بحران کو ختم کرنا ہے اور سب سے بڑھ کر ہم نے پورے پاکستان کے دلوں کو جوڑنا ہے اور ملکی دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کا کمال ہے کہ صوبوں کو پہلی بار ان کا حق ملا اور حق سے زیادہ ملا اور ہم نے ہی صوبوں کو ان کے وسائل حوالے کیے، پیپلز پارٹی صوبائی خودمختاری پر یقین رکھنے والی جماعت ہے ، ہم اسی جذبے سے آگے بڑھیں گے اور انقلابی تبدیلیاں لیکر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ منتخب اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی ہے اور پوری دنیا اس کو ستائش کی نظروں سے دیکھ رہی ہے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس پر پاکستان کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔

سانگھڑ سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے ضلع سانگھڑ میں اپنے آبائی گاوں چک 11 میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں پی پی ملک بھر سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی اور آنے والے دور بھی پیپلزپارٹی کا ہی ہوگا۔ آنے والے انتخابات شفاف ہوں گے، جعلی ووٹوں کو ختم کر دیا ہے، اب کوئی دھاندلی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اب طاقت کے بل بوتے پر ووٹ ڈال سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب پی پی کی حکومت آئی تو ملک کے حالات بہت خراب تھے، کئی چیلنجوں کا سامنا تھا، سوات سے قومی پرچم اتر چکا تھا اور مالا کنڈ میں دہشتگردوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔

ہم نے اقتدار میں آ کر پاک فوج اور عوام کے تعاون سے سوات میں دوبارہ پاکستان کا پرچم لہرایا، ملاکنڈ سے دہشتگردوں کا قبضہ ختم کرایا اور ملک بھر میں دہشتگردی، مہنگائی سمیت دیگر چیلنجوں کا مقابلہ کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اپنی 5 سالہ کارکردگی کی بنیاد پر عوام کی عدالت میں جانے کو تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج اپنے آبائی علاقے میں آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے، یہ اللہ کا کرم اور پی پی کا شاندار کارنامہ ہے کہ چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہونے والا شخص یہاں کے اسکول، کالج میں پڑھنے والا اور آپ کے درمیان کھیلنے والا آج اس ملک کا وزیر اعظم ہے۔ انھوں نے سانگھڑ کی تعمیر و ترقی کے لیے20کروڑ روپے دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک بیٹا بھائی خدمت کرتا ہے، اسی طرح سارے خطے کی خدمت کرتا رہوں گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ولی محمد نظامانی میرے استاد ہیں، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ، میرے استاد نے کہا تھا کہ میں تمہارے لیے ہر وقت دعا کرتا رہتا ہوں، تم اپنی باری ضرور پوری کرو گے اور تمھیں کچھ نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم نے ضلع سانگھڑ میں اپنے آبائی گائوں کا دورہ کیا اور وہاں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے علاوہ اپنے رشتے داروں اور پرانے دوستوں سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ایم این اے روشن دین جونیجو نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر عاجز دھامرا، صوبائی وزیر شازیہ مری و دیگر بھی موجود تھے۔ حیدر آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق وزیراعظم نے اپنے مادرعلمی گورنمنٹ کالج پھلیلی میں آمد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آج 47 سال بعد اپنے کالج میں موجود ہوں۔

میرے لیے بڑی خوشی و فخر کی بات ہے کہ میری آنکھیں وہ ہی ہال دیکھ رہی ہیں جسے بطور نوعمر فرسٹ ایئرکے طالب علم کے طور پر میں دیکھا کرتا تھا۔ میری یہ شدیدخواہش تھی کہ میں جلد ازجلد اس کالج کا دورہ کروں لیکن کچھ ایسے حالات رہے کہ میں جلد یہاں نہیں آسکا، جب میں یہاں آرہا تھا تومیرے دماغ میں اس کالج کی یادوں کے حوالے سے پوری فلم چل رہی تھی۔ مجھے اس کالج کا وہ پہلادن یادآرہا تھاکہ جب میں اپنے والد کے ہمراہ اس کالج میں داخلہ لینے کے لیے آیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا تعلق متوسط طبقے اور چھوٹے زمیندار گھرانے کے ایک چھوٹے سے گاؤں اورگھر سے ہے، جب میں سانگھڑ سے حیدرآباد آیا تو یہاں کی روشنیاں، کالج سمیت دیگرعمارات دیکھ کر میں خود کو ایک اور دنیا میں محسوس کرتا تھا، یہ وہ ادارہ اور درسگاہ تھی جس نے مجھے اعتماد دیا۔

انھوں نے کہاکہ آج ان کی زندگی کا بہت اعلیٰ دن ہے، میرا تعلق مڈل کلاس سے ہے جس پر فخر بھی ہے جبکہ مجھے اپنی عظیم قیادت ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور بلاول بھٹو زرداری پر بھی فخر ہے کہ انھوںنے ایک مڈل کلاس طبقے کے فرد کو وزیراعظم بنایا جوکہ صرف پیپلز پارٹی کا ہی خاصہ ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کالج کے پرنسپل کی جانب سے کالج کی تعمیر و ترقی کے لیے پیش کردہ سمری منظورکرتے ہوئے کالج کے لیے50کروڑ کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ کالج کے 100 سال پورے پورہے ہیں،100 سال پہلے جس شخص نے اس کالج کے لیے ایک لاکھ روپے دیا اسے خراج تحسین پیشں کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ جس کسی نے بھی اس ادارے کے لیے جو کچھ کیا ان کو اور اساتذہ کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

تقریب سے وزیراعلی سندھ سیدقائم علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ کالج سے بڑی بڑی شخصیات نے تعلیم حاصل کی اور ذوالفقار علی بھٹو بھی یہاں آئے جوکہ بڑے احترام کی بات ہے۔ اس کالج کی اپنی ایک تاریخ ہے لیکن اس کالج کی تعمیر و مرمت نہیں کی گئی، شاید یہ سندھ حکومت کی کوتاہی رہی ہوگی لیکن ہمیں اس کے متعلق کبھی بتایا بھی نہیں گیا۔ انھوںنے کہا کہ موجودہ حکومت کی پوری توجہ تعلیم پر مرکوز ہے، بے نظیر بھٹو شہید نے اپنی شہادت سے قبل جو منشور دیا اس میں غربت کے بعد تعلیم کو دوسرا نمبردیا گیاکہ تاکہ تعلیم کو عام اورمفت کرکے غربت کو ختم کیاجائے۔وفاقی وزیر سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ جب وزیراعظم کے منہ سے سنتا ہوں کہ وہ پیپلزپارٹی اور بی بی شہید کے کارکن ہیں اور مزدور ہیں تو دل خوش ہوتا ہے اور سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔

حیدرآباد میرا محبوب شہر ہے، قلعہ تو اس شہر میں بھی ہے لیکن یہاں کوئی ٹارچر کیمپ نہیں ہے، حکومتیں آنی جانے والی چیزہے لیکن اﷲ تعالٰی کی بادشاہت ہمیشہ قائم رہنے والی ہے، اﷲ تعالٰی سندھ کو تقسیم کرنے والوں کو نیست ونابود کرے۔ تقریب سے پرنسپل پروفیسر محمد حسن تھیبو نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر کالج انتظامیہ کی جانب سے وزیراعظم کو اجرک اور سندھی ٹوپی اور ذوالفقار علی بھٹو کے کالج کے دورے کی یادگار تصویر اور یادگاری شیلڈ بھی دی گئی جبکہ وزیراعظم نے کالج کے سینیئر فیکلٹی ممبر کو شیلڈ دینے کے علاوہ پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔ المنائی ایسوسی ایشن کے صدر سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالرحمٰن راجپوت نے وزیراعظم کو المنائی ایسوسی ایشن کی جانب سے شائع کردہ ڈائری اور مجلہ بھی پیش کیا۔