پاکستان میں سیکولر ازم سے ہی ترقی ہوسکتی ہے عرفانہ ملاح

ملک میں اسلام نافذ نہیں، مولانا تاج، ظفر راجپوت کی خودی ڈبیٹس سیاہ و سفید شو میں گفتگو


Monitoring Desk February 24, 2013
ملک میں اسلام نافذ نہیں، مولانا تاج، ظفر راجپوت کی خودی ڈبیٹس سیاہ و سفید شو میں گفتگو فوٹو: فائل

سندھ یونیورسٹی کی پروفیسر عرفانہ ملاح نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیکولر ازم کے ذریعے ہی ترقی ہوسکتی ہے۔

سیکولرازم کے مطابق سب لوگ برابر، سب کے حقوق برابر اور سب کی ترقی کے لیے یکساں مواقع ہوتے ہیں اور ریاست پابند ہوتی ہے کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک روا رکھے۔ ہفتے کوایکسپریس نیوز کے پروگرام ''خودی ڈبیٹس ، سیاہ وسفید شو'' میں گفتگو کرتے ہوئے انھوںنے کہاکہ پاکستان میں کبھی ایک زبان تو کبھی ایک مذہب کو مسلط کرنے کی بات کی جاتی ہے اسی وجہ سے پاکستان بحرانوں کا شکار ہے۔ ہمارے علما کو ریاستی معاملات کا پتہ ہی نہیں ہے۔

انھوں نے کہاکہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کودیکھ کر مستقبل کا تعین کرنا ہوگا اور عوام سے پوچھنا ہوگا کہ انھیں کون سا نظام چاہیے۔ رہنما جمعیت علمائے اسلام مولانا تاج محمد نے کہاکہ پاکستان میں اسلام کا نام لیا جاتا ہے مگر اسلام نافذ نہیںکیاجاتا۔ جیسے ہی پاکستان بنا تو سازشیں شروع ہوگئیں، پاکستان بھی ایک سازش کے تحت ہی بنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اسلام کے غلام ہیں یا امریکا کے۔ ہم نے کسی کو سہارا نہیں دیا، ہم صدر آصف زرداری سے بار بار کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشاورت کریں لیکن پتہ نہیں وہ کیوں نہیںکرتے۔صحافی ظفرراجپوت نے کہا کہ اسلام ہمیں معاشرتی نظام دیتا ہے ریاست کا نہیں، قرآن میں کہیں بھی ریاست کا نام نہیںہے۔

2

معاشرتی زندگی اور ریاستی معاملات دوالگ چیزیں ہیں، ان کو آپس میں ملنا نہیں کرنا چاہیے۔ مذہب کا نام لینے والے تو عید کے چاند پر بھی متفق نہیں ہوپاتے۔ پروفیسر ثنا اللہ بھٹو نے کہاکہ اسلام ہر ملک، ہر ریاست اور ہرمذہب کے لئے قابل قبول صورت میں بنایا گیا ہے، یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو برابر کے حقوق دیے گئے ہیں۔ پاکستان میں جو کچھ ہوتا ہے وہ سب سیکولرازم کی وجہ سے ہوتا ہے، جو لوگ دہشتگردی کررہے ہیں ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، طالبان بھی اصل اسلام کے تحت نہیں چل رہے۔