امن و امان یا موبائل فون میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

موبائل کمپنیوں کوعدالتی حکم پرعمل کرناہوگا،کیوں نہ لائسنس منسوخ کردیے جائیں؟جسٹس مشیر


Staff Reporter February 24, 2013
دہشتگردی میں ملوث ملزمان کاموبائل دیٹانہ دینے پر اظہار برہمی، موبائل کمپنیوں کو نوٹس جاری۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس مشیرعالم نے کہاہے کہ موبائل فون کمپنیاں اگرپاکستان میں کام کرناچاہتی ہیں تو انہیں قانون کا احترام اورعدالتی حکم پرعمل درآمدکرناہوگا۔

اگر موبائل فون کے استعمال سے دہشتگردی کی کارروائیوں اوربدامنی میں اضافہ ہوتاہے تو پاکستان کوامن وامان یاموبائل فون میں سے کسی ایک کومنتخب کرنا ہوگا۔فاضل بینچ نے دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے موبائل فو ن کاڈیٹا فراہم نہ کرنے پرشدیدبرہمی کا اظہارکرتے ہوئے موبائل فون کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے ہیں کہ کیوں نہ موبائل فون کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں۔

عدالت نے ایک موبائل کمپنی کے چیف ایگزیکٹیوافسرکو28فروری کوطلب کرلیااورہدایت کی ہے کہ موبائل نیٹ ورک کی تبدیلی( پورٹیبلٹی )کی سہولت پر نظرثانی کی جائے کیوں کہ اس سہولت سے جرائم پیشہ افراد کو مددملتی ہے۔عدالت نے یہ ریمارکس بعض لاپتا افراد کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے موقع پر دیے ،اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اشرف مغل،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ،درخواست گزاروں کی جانب سے سید عبدالوحید ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاپیش ہوئے۔

7

اینٹی وائلنٹ اینڈ کرائم سیل ایس ایس پی نیازکھوسو نے عدالت کو بتایاکہ دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کیلیے موبائل فون کمپنیز تعاون نہیں کرتیں اور عدالتی احکامات کے باوجودمطلوبہ ڈیٹا فراہم نہیں کیا جاتا، حال ہی میں شاہرا فیصل پر3 علمائے کرام عبدالمجیددین پوری، محمدصالح اور احسان شاہ کوموٹر سائیکل سواروں نے قتل کردیا،جائے وقوعہ سے ملنے والے موبائل فونزکاڈیٹا حاصل کرنے کیلیے پولیس نے موبائل فون کمپنیوں سے درخواست کی جو کہ(جی او فینسنگ سسٹم)کے تحت تمام کمپنیز کے پاس موجودہے مگر ڈیٹا فراہم نہیں کیا جارہا۔

عدالت نے آبزروکیا کہ موبائل نیٹ ورک کی تبدیلی جرائم پر قابوپانے میں رکاوٹ ہے،سیلولرکمپنیزاس سہولت پر نظرثانی کریں،عدالت نے اپنی آبزرویشن میںکہا کہ متعدداحکامات کے باوجود سیلولر کمپنیزقانون نافذ کرنیوالے اداروں سے تعاون نہیں کر رہیں، عدالت نے دیگرموبائل کمپنیوں کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قانون نافذکرنیوالے اداروں کیساتھ تعاون نہ کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔