فضا سمندر موت پھیلانے کا ذریعہ

کراچی کی 200 سالہ تاریخ کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے۔ اس دور میں بلدیاتی نظام مفلوج ہوگیا۔


Dr Tauseef Ahmed Khan September 30, 2017
[email protected]

ISLAMABAD: یونیورسٹی روڈ پر پانی جمع ہے۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن سے کئی دنوں سے پانی رس رہا ہے۔ آدھے شہر کو پانی میسر نہیں ہے۔ آلودہ پانی کی فراہمی مسئلہ بنی ہوئی ہے، شہر کا بیشتر علاقہ سیوریج کے پانی کے جمع ہونے سے گندگی اور تعفن کا شکار ہے۔ چکن گونیا، ملیریا اور فلو جیسی بہت سی بیماریاں اور کینسر کی نئی نئی قسموں سے نوجوان،بچے اور بوڑھے متاثر ہورہے ہیں۔

صرف کراچی یونیورسٹی کے دو اساتذہ گزشتہ 6 ماہ میں کینسر کے مرض کا شکار ہوئے ہیں۔ سیوریج کے پانی سے صرف شہری علاقے ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ بحیرۂ عرب بھی اس پانی کی آلودگی کا شکار ہوچکا۔ چند ماہ قبل کلفٹن اور اطراف کے ساحلی علاقے کو تیل کی تہہ نے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ کلفٹن، کورنگی کریک تک کی سمندری پٹی اس آلودہ محلول سے متاثر ہوئی تھی۔ اس آلودہ محلول سے یہ علاقے صرف بدبو کا شکار ہی نہیں ہوئے بلکہ سمندری مخلوق بھی متاثر ہوئی تھی۔

ماحولیات کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ یہ Oil Slick ہے جو سمندر میں متحرک بحری جہازوں اور چھوٹی بڑی کشتیوں کے انجنوں سے رسنے والے تیل کی بنا پر جمع ہوتی ہے یا پھر کسی آئل ٹینکر سے تیل نکل کر سمندر میں جمع ہوا ہے۔ تیز ہواؤں اور ساحل سے ٹکرانے والی لہروں نے اس محلول کو ساحل تک پہنچادیا ہے۔

مگر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (National Institute of Oceanography)کے تحت ہونے والے سیمینار میں ایک ریسرچر نے انکشاف کیا کہ یہ سب کچھ سیوریج کا پانی مسلسل سمندر میں جانے کی بنا پر ہوا۔ ایک محقق ڈاکٹر نزہت خان نے اس پر تحقیق کی اور اس سے حاصل ہونے والا مواد تجزیہ کے لیے لیباریٹری بھیجا گیا تو انکشاف ہوا کہ اس لہر میں پٹرول یا ڈیزل شامل نہیں ہے بلکہ انسانوں اور جانوروں کا فضلہ، صنعتوںسے خارج ہونے والا کیمیائی فضلہ اور کوڑا کرکٹ سے متعلق مواد شامل ہے۔

ڈاکٹر نزہت کا خیال ہے کہ بحیرۂ عرب کا 3 کلومیٹر تک کا علاقہ سیوریج کے پانی اور صنعتوںکے فضلے، پلاسٹک کی تھیلیوں اور دوسرے مواد پر مشتمل ہے۔ اس سمندری آلودگی کا براہ راست نشانہ کورنگی فش ہاربر سے پورٹ قاسم کا سمندری علاقہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ روزانہ 8 ہزار ٹن سولڈ ویسٹ سمندر میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس طرح 350 گیلن سیوریج کا آلودہ پانی اور صنعتوں سے خارج ہونے والا کیمیائی محلول سمندر کی نذر ہوتا ہے۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس سال ہونے والی مردم شماری کے نتائج (جو مشتبہ سمجھے گئے ہیں) کے مطابق اس شہر کی آبادی 14.91 ملین ہے۔ کراچی شہر پورے ملک میں وصول ہونے والی سیلز ٹیکس کی آمدنی کا 40 فیصد حصہ ادا کرتا ہے مگر کراچی 80ء کی دہائی سے بدترین طرز حکومت کا شکار ہے۔ یہ شہر 80ء اور 90ء کی دہائی تک بدترین لسانی اور مذہبی جھگڑوں کا شکار رہا۔ پھر سیاسی رہنماؤں، ڈاکٹروں، وکلا اور پروفیشنل افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی لہر کی زد میں رہا۔

صنعتکاروں، تاجروں اور صاحب ثروت افراد کے اغوا اور تاوان کی رقمیں وصول کرنے کا کاروبار دوام پذیر ہوا۔ شہر میں سیاسی جماعتوں، لسانی اور کالعدم تنظیموں نے بھتے وصول کرنے کے جرم کو ایک منظم صنعت میں تبدیل کیا۔ سندھ کے گورنر محمد زبیر نے گزشتہ دنوں یہ انکشاف کیا کہ انھیں خود بھتے کی پرچی موصول ہوئی تھی۔

نائن الیون کی دہشتگردی کے بعد سابق صدر پرویزمشرف کی پالیسی کے نتیجے میں دہشتگردی کے خلاف کابل میں لڑی جانے والے جنگ کراچی منتقل ہوگئی۔ یوں کراچی پھر لسانی، سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوگیا۔ محرم کے مقدس مہینے میں امام بارگاہوں اور عاشورہ کے جلوسوں میں شرکت کرنے والے لوگوں کو خودکش حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کا نظام نافذ ہوا۔ کراچی کی سٹی گورنمنٹ کے ناظم کو صوبے کے گورنر کے برابر اختیارات حاصل ہوئے۔ پہلے جماعت اسلامی کے نعمت اﷲ خان نے اور پھر ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال نے متوسط طبقے کی آبادیوں میں سڑکوں، اوورہیڈ برج اور انڈر پاس تعمیر کیے۔

مصطفیٰ کمال کی ان کوششوں سے شہر کا رنگ بظاہر چمکدار ہوا مگر شہر کی غریب بستیاں اس نظام کے ثمر سے محروم رہیں۔ اس دوران پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ختم ہوگیا۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے شہریوں کو چنگ چی رکشے کے سپرد کردیا۔ مصطفیٰ کمال نے شہر میں سگنل فری کوریڈور کا تصور رائج کیا جس کی بنا پر ٹریفک کے حادثات بڑھ گئے۔

لوگوں نے ٹریفک کے قوانین کی پامالی کو اپنا حق سمجھ لیا۔ شہر میں کاروں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد بڑھ گئی جس کے نتیجے میں ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کے علاوہ آلودگی میں بھی اضافہ ہوا اور ٹریفک جام کی صورتحال نے شہر کو ایک نئے بحران کا شکار کردیا۔ مصطفیٰ کمال نے شہر میں جدید ماس ٹرانزٹ نظام، پانی اور سیوریج کا جدید نظام قائم کرنے پر توجہ نہیں دی۔

بعد ازاںِ پیپلز پارٹی کا دور آیا جو کراچی کی 200 سالہ تاریخ کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے۔ اس دور میں بلدیاتی نظام مفلوج ہوگیا۔ ہر طرف کوڑا کرکٹ کے پہاڑ کھڑے ہوگئے۔ سیوریج کا نظام تباہ ہوگیا۔ بلدیاتی امور سے متعلق ہر معاملہ کرپشن سے منسلک ہوگیا، یوں شہر کی صورتحال بدترین دور میں داخل ہوگئی۔ شہر کے ماحولیاتی نظام میں خرابی کے علاوہ شہریوں میں دیگر بیماریوں کے ساتھ ڈپریشن کی بیماری بھی عام ہوگئی۔

سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ ایم کیو ایم اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ وسیم اختر کراچی جیل کی قید سے میئر منتخب ہوئے، پھر وہ رہا ہوگئے مگر انھیں اختیارات نہ مل سکے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی نظام پر یقین نہیں رکھتی، یوں وہ بلدیاتی اداروں کو کسی قسم کی خودمختاری دینے کے تصور ہی کے خلاف ہے۔

پیپلز پارٹی کی سیاست کا تجزیہ کرنے والے دانشور مقتدا علی خان جنھوں نے اس خطے کے دیگر ممالک کے بلدیاتی نظام کا عرق ریزی سے جائزہ لیا ہے، کا کہنا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے 1988ء میں جو انتخابی منشور تیار کرایا تھا اس میں نئے سوشل کنٹریکٹ کا تصور تھا، جس کا مقصد شہروں کو بااختیار بنانا تھا مگر آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد جہاں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے منشور کی باتیں بھلادیں، وہاں انھوں نے بلدیاتی نظام کو بھی پہلے فراموش کیا اور پھر ایک مفلوج شدہ نظام نافذ کردیا۔ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کراچی شہر کے مسائل کو حل کرنے کا عزم کیا۔

انھوں نے علی الصبح اپنے دفتر پہنچ کر اور راتوں کو شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کر کے نظام حکومت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ کی کوششوں سے کئی عشرے بعد پولیس میں میرٹ پر تقرریاں ہوئیں۔ مراد علی شاہ نے نئے بجٹ میں شہر کی ترقی کے لیے 70 بلین روپے مختص کیے۔ اس رقم کا کچھ حصہ شہر کی 9 ہزار کلومیٹر پر مشتمل ٹوٹی سڑکوں کی مرمت پر خرچ ہونا ہے۔ اسی طرح شہر میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے وفاق اور صوبہ مشترکہ منصوبہ پر کام کررہا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے گرین لائن کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ اسی طرح سابق صدر آصف زرداری نے شہر میں اسی طرح کے چھ منصوبوں کی منظوری دی تھی جو اب تک کاغذوں میں محفوظ ہیں۔ وزیراعظم خاقان عباسی نے کراچی کے لیے 25 بلین کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ یہ رقم گرین لائن، لیاری ایکسپریس وے اور گریٹر کراچی واٹر پروجیکٹ پر خرچ ہوگی، مگر ان منصوبوں سے کراچی کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

کراچی کو ایک بااختیار نچلی سطح تک اخیارات کے ساتھ بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے جس کی نگرانی کا موثر نظام موجود ہو۔ اس کے ساتھ ہی کراچی کے شہری اب بھی خواب دیکھتے ہیں کہ شہر میں صاف ستھرا زیر زمین ریل گاڑیوں کا نظام قائم ہو۔ کراچی کو سیوریج کے ایک جدید نظام، فضائی اور سمندری آلودگی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی معیار کی ٹیکنالوجی اور سخت قوانین کے عملی نفاذ کی ضرورت ہے، ورنہ فضا اور سمندر سب کچھ انسانوں کو سکون اور تحفظ دینے کے بجائے موت پھیلانے کا ذریعہ بن جائیں گے۔