شہدائے کربلا کا پیغام

نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگئے


Editorial October 03, 2017
نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگئے . فوٹو : فائل

نواسہ رسول ؐحضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں کی اسلام کی سربلندی اور حق وصداقت کے لیے میدان کربلا میں دی گئی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت واحترام سے منایا گیا، مرکزی امام بارگاہوں سے جلوس برآمد ہوئے جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے منزل مقصود پر اختتام پذیر ہوئے جس کے بعد شام غریباں منائی گئی جب کہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگئے۔امام بارگاہوں میں مجلس عزاء کا انعقاد کیا گیا جس میں نامور ذاکرین نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کا تذکرہ کیا، ماتمی جلوس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔

شہیدان کربلا کے ماتمی جلوسوں پر دہشتگردانہ حملوں کی متعدد وارداتوں کو جس منظم انٹیلی جنس، مستعدی اور الرٹ رہنے کے ساتھ ساتھ بین الصوبائی انتظامی اشتراک عمل کے ذریعے ناکام بنایا گیا اس پر وفاقی حکومت بشمول تمام صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے فرض شناس ادارے بجا طور پر تحسین کے مستحق ہیں، جن کی طرف سے جلوسوں کی سائنٹیفک انداز میں مانیٹرنگ، عزاداروں کی نگہبانی کی مشترکہ کوششوں اور تحفظ و سیکیورٹی کے ہائی الرٹ میکنزم کے باعث دہشتگرد ناکام ونامراد رہے ، وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فرض شناسی اور دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے کی بے پایاں صلاحیت سے معمور اہلکاروں کے آگے بے بس ہوگئے، مگر یہ کامیابی سیکیورٹی کے سفر میں تسلسل چاہتی ہے، کیونکہ دہشتگرد اپنے خود ساختہ مشن کے مسلسل جواز کو بڑھاوا دیتے ہیں کسی کی نہیں سنتے، جب کہ مذہبی جنونیت کی وجہ سے ان کے دل انسانیت کے درد سے خالی ہوگئے ہیں۔

ان کا مقابلہ کل وقتی منصوبہ بندی سے ہی ہوسکتا ہے۔ عالم اسلام کے لیے یہ کتنے درد والم کا مقام ہے کہ شہیدان کربلا کی یاد میں نکالے جانے والے جلوسوں پر بھی حملہ کی گھناؤنی منصوبہ بندی کی جاتی ہے جو نواسہ رسول کی بے مثال شہادت کو حق وباطل کی جنگ میں ظلم کے خلاف فتح کا اک استعارہ سمجھتے ہوئے جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔ خبروں کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف شہروں میں محرم الحرام کے موقع پر دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنادیے جس میں 5 دہشتگرد مارے گئے جب کہ27 گرفتار کر لیے گئے، محکمہ انسداد دہشتگردی نے لاہور میں دریائے راوی کے قریب کارروائی کر کے پانچ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایف سی بلوچستان نے پشین کے شمالی علاقے طور شاہ میں کارروائی کرکے 3 دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے بارود سے بھری گاڑی برآمد کی گئی۔

گرفتار دہشتگردوں میں ایک ماسٹر مائنڈ اور دو اس کے ساتھی شامل ہیں۔ بارود سے بھری یہ گاڑی کوئٹہ میں محرم کے جلوس میں تخریب کاری کے لیے استعمال ہونی تھی۔ پشاور میں محرم الحرام کے دوران امن وامان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے مضافاتی علاقوں بڈھ بیر اور خزانہ میں سرچ آپریشن کیا جس کے دوران 67 مشتبہ افراد گرفتار جب کہ آپریشن کے دوران بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا، طورخم بارڈر پر نویں اور دسویں محرم الحرام کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جب کہ طورخم بارڈر کے دیگر علاقوں میں خاصہ دار فورس کے کوئیک رسپانس ٹیم کے اہلکارگشت کر رہے ہیں، افغانستان سے آنیوالے افراد کی سخت تلاشی کی جاتی رہی۔ سندھ ، بلوچستان ، پنجاب اور خیبر پختونخوا انتظامیہ نے ذمے داری کے ساتھ سیکیورٹی کا چیلنج نبھایا۔

صدر مملکت ممنون حسین نے یوم عاشور کے پیغام میں کہا ہے کہ شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی سے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی ملتی ہے، نواسہ رسولؐ کی جدوجہد کو پیشِ نظر رکھ کر راستے کا تعین کیا جائے تو وطن ِعزیز کو درپیش شدت پسندی سمیت سیاسی اور معاشرتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یوم عاشور کو ہر سال اسلامی تاریخ کے اس لازوال واقعے کی یاد سے منسوب کیا، انھوں نے کہا کہ جب نواسہ رسولؐ نے حق اور باطل کی لڑائی میں جانوں کا نذرانہ دیکر حق کو حقیقی فتح سے سرفراز کیا، کربلا کے میدان میں شہیدوں کے لہو نے یہ ثابت کر دیا کہ حق لازوال جب کہ باطل مٹنے کے لیے ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں امن واستحکام کے لیے قوم متحد ہو، سیاسی قیادتوں میں اعلیٰ سیاسی اقدار کی حمایت، اہم ایشوز پر سنجیدگی سے اصولی مفاہمت، رواداری اور جمہوری اسپرٹ کا موجزن ہونا ناگزیر ہے، ملک کسی قسم کی افراتفری، سیاسی کشیدگی، گروہی چپقلش، ادارہ جاتی مخاصمت اور اقتدار کی بے ہنگم رسہ کشی کا ہر گز متحمل نہیں ہوسکتا، دشمن گھات میں بیٹھا ہو اور سیاستدان سر پٹھول میں قوم کا وقت برباد کررہے ہوں، تو کسی اور کو کیا دوش دینا، چنانچہ یہی موقع غنیمت ہے کہ شہیدان کربلا کی حق پرستی کی جدوجہد سیاسی سفر کا تعمیری عنوان بنے، سیاسی مصالحت جمہوری اصولوں پر ہو، عوام کو ذہنی دباؤسے نجات ملے، معیشت کو لاحق خطرات کا ازالہ ہو، سیاسی وعسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھے ، گرینڈ مکالمہ کا علم اسٹیک ہولڈرزاپنے ہاتھ میں تھام کر آگے بڑھیں۔ پلیز گو آن۔