لاس ویگاس میں دہشت گردی

سٹیفن پیڈوک نامی ایک حملہ آور نے تماشائیوں پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی


Editorial October 04, 2017
سٹیفن پیڈوک نامی ایک حملہ آور نے تماشائیوں پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی. فوٹو: فائل

امریکا کے مشہور اور رنگین تفریحی شہر لاس ویگاس میں ایک میوزک کنسرٹ (محفل موسیقی) کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ساٹھ کے لگ بھگ افراد ہلاک جب کہ سوا پانچ سو کے قریب زخمی ہو گئے۔ واقعات کے مطابق میوزک فیسٹیول عروج پر تھا جب سٹیفن پیڈوک نامی ایک حملہ آور نے تماشائیوں پر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔ مرنے والوں میں امریکیوں کے علاوہ غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی سے حملہ آور مارا گیا۔ حملہ آور امریکا کا شہری ہے اور یہ سفیدفام ہے۔ اس کا تعلق بظاہر کسی شدت پسند تنظیم سے ثابت نہیں ہوا۔

حملہ آور کی ایک ساتھی عورت کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایک اور اطلاع کے مطابق حملہ آور ایک سے زیادہ تھے جنہوں نے ذرا اونچے مقام سے کنسرٹ میں موجود ہجوم پر سیکڑوں گولیاں برسائیں۔ ایک اطلاع کے مطابق اس حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کر لی ہے، اس نے دعویٰ کیا ہے کہ سٹیفن پیڈوک نے اسلام قبول کر لیا تھا البتہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا کسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم سے بظاہر کوئی تعلق نہیں تھا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ''ظلم کی بدترین کارروائی'' قرار دیا ہے اور انھوں نے اپنے ردعمل میں داعش کا نام نہیں لیا۔ لاس ویگاس میں ہونے والے قتل عام کے محرکات کیا ہیں، اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حملہ آور چونکہ موقع پر ہی مارا گیا، اس لیے اس کے مقاصد کیا تھے، یہ فی الحال صیغۂ راز میں ہے۔ جب تک امریکی ایجنسیوں کی تحقیقات سامنے نہیں آتیں اس وقت تک اس واردات کے محرکات اور اہداف کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جا سکتی۔

بہرحال اسے ایک افسوسناک سانحہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بظاہر تو اس واقعے میں کسی معروف دہشت گرد تنظیم کی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی تاہم اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ویسے بھی ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی امراض بہت زیادہ ہیں خصوصاً سائیکو افراد کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور یورپ میں بعض اوقات کوئی ایک فرد بھی بغیر کسی وجہ کے متعدد افراد کو ہلاک کر دیتا ہے۔ امریکا اور یورپ میں ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ لاس ویگاس دنیا بھر میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں کی رنگینیاں اور طرززندگی کئی متشدد قسم کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتی، امریکا کے اندر بھی ایسے متشدد نظریات موجود ہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ اسی کا شاخسانہ ہو۔