جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے

نااہل شخص کے پارٹی صدر بننے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے


Editorial October 04, 2017
نااہل شخص کے پارٹی صدر بننے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے. فوٹو: فائل

سیاسی ماحول کی گہما گہمی اور گرما گرمی ایک نئے دورانیے میں داخل ہوئی ہے۔ خدشات و اندیشوں کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں میں کشمکش بھی دیدنی ہے، تاہم بادی النظر میں جمہوری عمل جاری ہے، پارلیمانی روایات کی پاسداری کا حوالہ موجود ہے، پارلیمنٹ میں قانون سازی، عدالتوں میں مقدمات کی سماعت، معاشی شعبے میں استحکام اور عالمی درجہ بندی میں پیشرفت کی خوش آیند اطلاعات بھی ہیں جب کہ سیاسی، سفارتی اور عسکری و سیکیورٹی معاملات کے خوش اسلوبی سے حل کی کوششیں جاری ہیں تاکہ عالمی طاقتوں سے تعلقات مستحکم ہوں اور خطے میں دہشتگردی سے متعلق امریکا کی تشویش اور مطالبات کا کوئی جامع اور پر امن حل مکالمہ کی میز پر نکل آئے، اس ضمن میں کثیر جہتی اقدامات اور غیر معمولی پیش قدمی کے آثار امید افزا نظر آتے ہیں۔

صورتحال کے درست تناظر میں کئی واقعات رونما ہوئے، مثلاً حکمران جماعت نے اپوزیشن کے شور شرابے اور شدید احتجاج کے باوجود انتخابی اصلاحات بل قومی اسمبلی سے بھی کثرت رائے سے منظور کرا لیا اور فوری طور پر صدر مملکت کو دستخط کے لیے بھیج دیا، قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت ہوا۔ صدر کے دستخط کے ساتھ ہی یہ بل باقاعدہ قانون بن گیا جس سے نواز شریف ایک بار پھر پارٹی صدارت کے لیے اہل ہو گئے ہیں، نئے انتخابی قانون میں عوامی نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے جب کہ نااہل شخص کے پارٹی صدر بننے پر پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ اسپیکر نے بل شق وار منظوری کے لیے پیش کیا جس پر اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی، ن لیگ کی اتحادی جماعتوں نے بل کی منظوری میں حکومت کا ساتھ دیا۔ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی پیش کردہ ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان نے انتخابی اصلاحات بل (الیکشنز ایکٹ ترمیمی بل 2017ء) کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

اب گیند سیاسی قائدین اور اپوزیشن کی کورٹ میں ہے، بظاہر پارٹی صدارت کا انتخاب جمہوری اور قانونی مراحل کے تحت ہوا۔ ایک بڑی پیشرفت کے تحت وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف تین روزہ دورے پر امریکا روانہ ہوگئے، قبل ازیں انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مذموم سیاسی عزائم کے لیے بعض گھٹیا عناصر جعلی اکاؤنٹس سے سوشل میڈیا پر پاک فوج اور حکومت کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کو احتساب عدالت میں جانے سے روکنے کا واقعہ بد انتظامی کے باعث ہوا، انکوائری میں ساری چیزیں واضح ہو جائیں گی، حافظ سعید کے ہرجانے کے مقدمہ کے حوالہ سے ان کا موقف تھا کہ وہ اس کا عدالت میں جواب دیں گے، ادھر سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کلثوم نواز جیسے ہی ٹھیک ہوں گی تو بچے وطن واپس آجائیں گے اور عدالتوں میں پیش ہوں گے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے عائد فرد جرم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت کے باہر کی نا خوشگوار صورتحال وزیر داخلہ نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دلچسپ پیرائے میں کہا کہ وزیر داخلہ مستعفی ہو گئے تو ''نگراں'' بادلوں کی آمد ممکن ہو سکتی ہے۔

بلاشبہ بین الاقوامی اور خطے کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال عالمگیریت کے گہرے تعلق کی غمازی کرتی ہے۔ کسی مقامی، علاقائی اور قومی سانحے کی کڑی کسی دوسرے درد ناک واقعے سے جڑی ہوئی ملتی ہے اسی طرح ملکی سیاسی صورتحال جس تیزی سے طلسم ہوشربا بنتی جا رہی ہے اس کے نکتہ زوال سے متعلق قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، کسی ستم ظریف کا کہنا ہے کہ فکر کی چالاکی بڑھ گئی ہے، سوچ اور تدبر کا استحکام کم ہو گیا ہے، جب کہ ضرورت انتشار کی جگی نظم، بربریت کی جگہ رحم دلی اور تشدد کی جگہ قانون کے احترام کی ہے۔ ملکی سیاسی نشیب و فراز کا دی اینڈ کیا ہو گا، اس حوالہ سے اسٹیک ہولڈرز کے پاس سوچنے کا وافر وقت ہونا چاہیے تا کہ سیاست دوراں ایک امید افزا مستقبل کی جانب گرم سفر ہو جب کہ سیاسی اصولی جنگ کا انجام کسی بھی مثبت قومی نتیجہ پر منتج ہونا شرط ٹھہرے، مگر بقول شخصے ایں خیال است و محال است و جنوں کے منظر نامہ نے قوم کے اعصاب جکڑ لیے ہیں، کوئی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں حتیٰ کہ سیاستدان بھی ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور اہم ایشوز پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے محاذ آرائی کی جس انتہا تک پہنچے ہیں اس کا تصور کرتے ہوئے بھی دل لرز اٹھا ہے کہ سیاست کہیں بند گلی یا ''دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے'' کے انجام سے دوچار ہونے کو بیتاب تو نہیں۔ عوام سیاست دانوں سے جرأتمندانہ فیصلوں اور مدبرانہ جمہوری طرز عمل کی امید رکھتے ہیں، ٹرمپ کی افغان پالیسی کے تناظر میں آرمی چیف کی صدر اشرف غنی سے حالیہ ملاقات بر وقت ہے، اس عسکری پیشرفت کے باعث اسے نتیجہ خیز بھی ہونا چاہیے جب کہ سیاسی درجہ حرارت کم ہونا بھی مادر وطن کے بہترین مفاد میں ہو گا۔