تیونس کی معیشت میںبہتری کے آثارہیںآئی ایم ایف

یورپ میںبدترین کسادبازاری کے باعث تیونس کو غیرواضح اقتصادی...


AFP August 05, 2012
تیونس کی معیشت میںبہتری کے آثارہیں،آئی ایم ایف (فوٹو ایکسپریس)

تیونس کی معیشت ایک بار پھر بہتری جانب گامزن ہے، گزشتہ سال ہنگاموں اورحکومت کے خاتمے کے بعدمعیشت پرمنفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہی۔ عالمی ادارے نے کہا کہ تیونس کی جی ڈی پی نمو رواں سال 2.7 فیصد اور آئندہ سال 3.5 فیصدرہنے کی توقع ہے، 2012 کی پہلی سہہ ماہی میںسیاحت اور بیرونی سرمایہ کاری میںاضافے کے باعث بہتری کے آثاردکھائی دیتے ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈکے مطابق یورپ میںبدترین کسادبازاری کے باعث تیونس کو غیرواضح اقتصادی خطرات بھی لاحق ہیںجس کی وجہ سے برآمدات میںکمی اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے، پرائیوٹ سیکٹرکی جانب سے سرمایہ کاری کیلیے حکومت کومعاشی اصلاحات لانی ہونگی تاہم تیونس میں حکومت نے رواںسال 3.5 اور2013 میں4.5 فیصدکی شرح سے معاشی ترقی کی امیدظاہرکی ہے جبکہ جون 2011 میںخراب حالات کے باعث یہ شرح منفی 1.8 فیصد پر آگئی تھی،

حکومت کان کنی اور پیداواری شعبے کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ 90 ہزارنئی ملازمتوںکے مواقع پیدا ہوسکیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مضبوط میکرو اکانومی،گورننس کی بہتری، بہترین تجارتی ماحول اور لیبر مارکیٹ میںاصلاحات کے ذریعے حقیقی گروتھ ریٹ 5 سال میں 6 فیصدتک پہنچ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ انقلاب تیونس کی بڑی وجہ بیروزگاری تھی جو اب بھی اونچی سطح پربرقرارہے۔