بحران کیسے حل ہو

ممکنہ ادارہ جاتی ٹکراؤ کے خطرات کو روکنا اولین ضرورت ہے


Editorial October 05, 2017
ممکنہ ادارہ جاتی ٹکراؤ کے خطرات کو روکنا اولین ضرورت ہے. فوٹو:فائل

ملک کا سیاسی بحران بے سمتی کا شکار ہے جب کہ جمہوری عمل کو لاحق خدشات تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں ۔ وقت اور زمینی حقائق سیاست دانوں کا امتحان اگرچہ کافی عرصہ سے لے رہے ہیں تاہم جن صاحبان دانش کی نظر سیاسی حرکیات اور بدلتی صورتحال کی سنگینی پر مرکوز ہے وہ سخت تشویش میں مبتلا ہیں کہ روز نت نئے پینڈورا بکس کھلتے رہے تو اس ملک اور اس کے 20 کروڑ اہل وطن کا کیا ہوگا جو جمہوریت کے حقیقی اور لازمی ثمرات سے محروم ہونے کے ساتھ اب غیر یقینی کا زہر بھی پینے پر مجبور ہیں۔ حکومت،اپوزیشن، ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کو بلا تاخیر کشیدگی کے اس سیل رواں کو روکنے کی تدبیر کرنی چاہیے، سیاسی مفاہمت کی جتنی ضرورت اس وقت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی، سیاستدانوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے کی اندوہناک صورتحال ، عالمی قوتوں کی پاکستان کو محاصرہ میں لینے کی مہم جوئی کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی ہوش مندی، جمہوریت پسندی اور فہم وفراست کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اس ہولناک شو ڈاؤن سے قدم پیچھے ہٹائیں، سیاست اگر امکانات اور جمہوریت پارلیمانی روایات واقدار سے مشروط ہے تو حالات کو غلط اور تباہ کن رخ پر جانے سے روکنے کی ذمے داری اسٹیک ہولڈرز کی ہے، دنیا کو یہ طعنہ دینے کا موقع نہیں ملنا چاہیے کہ سب گھر پھونک تماشا دیکھنے میں مشغول ہیں۔

ملک بھر کے فہمیدہ حلقے سیاسی بازی گری ، اشتعال انگیز سیاسی پیش قدمی ، چپقلش اور جمہوریت کی روح کے ساتھ کھلواڑ پر سخت دل گرفتہ ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی تحمل اور اختلاف رائے کو جمہوری انداز میں برداشت کرنے کا کلچر فروغ پائے، مشتعل جذبات ٹھنڈے ہوں، معروضی حالات اور خطے میں رونما ہونے والے سنگین واقعات سے نمٹنے میں غفلت نہ برتی جائے۔ تاریخ کی نظر حکمرانوں کے صائب اقدامات پر لگی ہوئی ہے، ایک ایک دن قیمتی ہے، میڈیا ٹرائل بند ہو ، براہ راست سیاسی مکالمہ بلکہ گرینڈ ڈائیلاگ کے مطالبہ پر سنجیدگی سے توجہ دینے سے معاملات کی اصلاح ممکن ہے۔ یہ وقت تاریخ اور گزرے عدالتی فیصلوں کے جذباتی تقابل اور گروہی مفادات کا طوفان برپا کرنے کا ہر گز نہیں، جمہوریت کی بقا، ریاستی رٹ، قومی یکجہتی اور سرحدوں کی تشویش ناک صورتحال اسٹیک ہولڈرز اور سیاست دانوں سے فوری ازالہ کی محتاج ہے، ممکنہ ادارہ جاتی ٹکراؤ کے خطرات کو روکنا اولین ضرورت ہے، داخلی صورتحال اسی وقت بہتر ہوگی جب حکمران اور سیاسی سواد اعظم مشرقی اور مغربی سرحدوں کی مخدوشی کو اپنی اولین ترجیح بنائے گی جس کے لیے شفاف جمہوری اقدامات ، اداروں میں خیر سگالی اور سیاسی کشیدگی کا سدباب ہو۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قانونی موشگافیوں کے ذریعے عوام کے مینڈیٹ کی توہین نہ کی جائے اگر ہم نے حالات کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان ہمیں معاف نہیں کریگا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روزکنونشن سینٹر میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ادھر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم نے سپریم کورٹ کا نااہلی کا فیصلہ قبول کیا لیکن عوام اور تاریخ اسے قبول نہیں کرتے، نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلہ کے سیاق وسباق میں انھیں پارٹی صدر بنانے کا قانون سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ،تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ق) اور شیخ رشید نے بھی انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ہے ، افغان سرحد کے پار سے ایک بار پھر دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نائب صوبیدار شہید ہو گئے، پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیزفائرکی خلاف ورزی پرشدید احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی جارحیت جاری رہی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت پرایمان کا خانہ ختم کرنیکا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد انتخابی اصلاحات بل موجودہ حکومت نے متعارف کرایا ہے ، آئین سے ختم نبوت سے متعلق شق نہیںنکالی، توبہ استغفار ! ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے جب کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت منگل کو اہم کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جو سات گھنٹے تک جاری رہی ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے رات گئے تک اس کور کمانڈرز کانفرنس کے بارے میں کسی قسم کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ۔ ذرایع کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ملک میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ، سرحدی معاملات، آپریشن رد الفساد میں ہونے والی پیشرفت اور فاٹا میں تعمیر نوکے معاملات پر غورکیا گیا ۔ دریں اثنا پیپلزپارٹی نے فاٹا اراکین اسمبلی کے احتجاج میں شرکت کا اعلان کردیا ادھر فاٹا خواتین اپنے حقوق کے لیے میدان عمل میں آنے کا عندیہ دے چکی ہیں، وکلا نے بھی نواز شریف کے پارٹی صدر بننے کے خلاف احتجاج کی کال دی ہے۔بلاشبہ سیاسی مسائل کا کوئی مثبت حل جلد نکلنا چاہیے۔ بلیم گیم کو روک کر عدالتی پروسیس اور جمہوری عمل پر سیاستدان اپنے یقین کا عملی مظاہرہ کریں توکوئی وجہ نہیں کہ انتشار اور بے یقینی اپنی موت آپ نہ مرجائے۔ بس ہوش کو جوش پر غالب آنے کا راستہ ملنا چاہیے۔