پانامااورعمران کیس کی نوعیت یکساں سبکوایک ترازوپررکھیں گےسپریم کورٹ

عمران نااہلی کیس کا فیصلہ کب آئیگا ابھی نہیں بتا سکتے، چیف جسٹس


Numainda Express October 05, 2017
پارلیمنٹیرینزکے سرپرتلوارنہیں لٹکناچاہیے لیکن دیکھناہے انھوں نے دھوکادہی تو نہیں کی، جہانگیر ترین سے زرعی ٹیکس کا ریکارڈ طلب فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کی اہلیت کا معاملہ اور پاناما کیس کی نوعیت ایک جیسی ہے، اس لیے انھیں ایک ساتھ سننا چاہیے تھا۔

معلوم نہیں عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کو مرکزی کیس سے الگ کیوں کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ کا اس حوالے سے موقف درست ہے، پاناما کیس اور زیر غور درخواستوں میں قانونی سوالات مشترک ہیں، یہ معاملہ غلط بیانی، اثاثے چھپانے اور بددیانتی کا ہے، ہم اس مقدمے کوتحمل سے سن رہے ہیں تاکہ کوئی غلط قانون نہ بن جائے۔ پارلیمنٹ مقتدر ادارہ ہے، پارلیمنٹیرینز کے سروں پر تلوار نہیں لٹکنا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے منتخب نمائندے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جولوگ منتخب ہوئے وہ کرپشن اور دھوکا دہی کے مرتکب تو نہیں ہوئے،کوئی چیز چھپائی تو نہیں، جو ظاہر کیا اس میں دھوکا تو نہیں۔ سب کو ایک ترازو پر پرکھنا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بینچ نے جہانگیر ترین کے وکیل سے زرعی ٹیکس کی تفصیلات طلب کرلیں۔ گزشتہ روز دلائل کا آغاز کرتے ہوئے جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہاکہ درخواست گزار نے بدنیتی کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

انھوں نے مفاد عامہ کیلیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد پورا کرنے اور سابق وزیراعظم کے خلاف پٹیشن کا حساب برابر کرنے کیلیے درخواست دائرکی، عدالت نیک نیتی کی شرط کو جانچے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسارکیاکہ کیاپاناما کیس کا اطلاق آپ کے موکل پر نہیں ہوگا؟کیا وہ منتخب نمائندہ نہیں؟کیا ایک منتخب نمائندے کیلیے الگ اور دوسرے کیلیے الگ معیار اور پیمانہ ہوگا؟ آف شور کمپنی چھپانے کا مقصد دولت چھپانا ہوتا ہے، قانون کہتا ہے کہ اثاثے اور دولت کو ظاہر کیا جائے، اس لیے معاملہ عوامی مفاد کا ہے۔ عدالت کا وقت ختم ہونے پر مزید سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔

مقبول خبریں