پولیس کو صرف ایک خنجر بردار حملہ آور کی تلاش کیوں ہے

اگر اسے اور اس جیسے دوسرے غلیظ اور جنسی بیماروں کوسزا دے دی جاتی تو شاید آج یہ نوبت بھی نہ آتی۔


عنبرین سیٹھی October 05, 2017
اگر اسے اور اس جیسے دوسرے غلیظ اور جنسی بیماروں کوسزا دے دی جاتی تو شاید آج یہ نوبت بھی نہ آتی۔ (فوٹو: فائل)

لاہور: آج کل کراچی پولیس انتہائی شد و مد سے اس دہشت گرد کو تلاش کر رہی ہے جس کے ہاتھ میں خنجر ہوتا ہے اور اس کا شکار راہ چلتی عورتیں ہوتی ہیں۔ حکومت سندھ کی ہدایت پر پولیس نے اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے جبکہ اس شخص کی اطلاع دینے والے فرد کےلیے پانچ لاکھ کے انعام کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ شخص باز نہ آیا اور گزشتہ روز پانچ مزید خواتین اس کے خنجر سے زخمی ہوئیں؛ اور یہ خبر اب تک میڈیا میں گرم ہے۔

ایک عورت ہونے کی حیثیت سے مجھے تو اطمینان کا سانس لینا چاہیے کہ ہمارے ادارے حرکت میں آچکے ہیں اور جلد ہی مجرم کیفر کردار تک پہنچ بھی جائے گا۔ مگر میرا بچپن کراچی کی گلیوں اور سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے گزرا ہے۔ کبھی تعلیم کےلیے تو کبھی خریداری کےلیے گھر سے باہر نکلنا ہر عورت کی مجبوری رہتی ہے۔ وہ تمام خواتین جو گھر سے باہر نکلتی ہیں، اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ واقعات جو اب شہ سرخیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں، کوئی نئی بات نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس شخص کے ہاتھ میں خنجر ہے جو جسمانی طور پر گھائل کرنے کا سبب سنتا ہے۔

مگر مجھے اطمینان نہیں ہوا کیوںکہ ہماری حکومت اس وقت کہاں ہوتی ہے کہ جب ایسے ا‌فراد خالی ہاتھوں سے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آتے ہیں اور ہم جیسی خواتین کو جسمانی طور پر چھوتے ہوئے اور جنسی طور پر ہراساں کرتے ہوئے گزرجاتے ہیں۔ ہماری حکومت کی طرف سے اس وقت ترجیحی بنیادوں پر کوئی اقدامات کیوں نہیں کئے گئے جب بس میں بیٹھی خواتین کو پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے مرد نہ صرف ہاتھ لگا رہے ہوتے ہیں بلکہ گزرتے ہوئے فحش اشارے بھی کررہے ہوتے ہیں۔ اس وقت ہماری حکومت کہاں ہوتی ہے جب تعلیمی اداروں سے دوپہر کے وقت نکلنے والی ہماری بیٹیوں کو گلی کے غنڈے ہراساں کرتے ہیں۔

آج کل سوشل میڈیا پر بھی ایک بوڑھے دکان دار کی ویڈیو وائرل ہے جو ایک معصوم بچی کو سودا دیتے ہوئے جنسی طور پر ہراساں کر رہا ہے۔ اس بوڑھے کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلیے ہماری حکومت نے کیا اقدامات کئے۔ آج اگر ایسے مردوں کے ہاتھوں میں خنجر آگیا تو اس کا جرم بہت بڑا ہوگیا۔ میرے نزدیک تو دہشت گرد تو وہ اس وقت بھی تھا جب وہ یہ ساری حرکتیں خالی ہاتھ کر رہا تھا۔

اگر اسے اور اس جیسے دوسرے غلیظ اور جنسی بیماروں کوسزا دے دی جاتی تو شاید آج یہ نوبت بھی نہ آتی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے لوگوں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے ان کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ عوامی مقامات پر کسی عورت کو چھیڑنے سے قبل ہر شخص یہ سوچ لے کہ اس کے ساتھ بھی اتنا ہی برا ہوسکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected] پر ای میل کردیجیے۔