1947 کی طرف واپسی کا سفر

قائداعظم نے اپنی زندگی میں بارباراس بات کا یقین دلایا تھا کہ پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں اس ملک کی برابرکی شہری ہیں


Zaheer Akhter Bedari February 25, 2013
[email protected]

پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں دہشت گردی کے حوالے سے جن مصائب و مشکلات کا سامنا ہے، ان میں ایک اور اضافہ سندھ کے اندرونی علاقوں میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک سے ہوا ہے۔ خاص طور پر ہندو لڑکیوں کو جبراً مسلمان بناکر شادیاں کرنے کے الزام کی وجہ سے عالمی برادری میں پاکستان کا امیج بہت خراب ہورہا ہے۔ پچھلے دنوں ہندو لڑکیوں کے ساتھ ان مبینہ زیادتیوں کی وجہ سے سیکڑوں ہندو خاندان بھارت ہجرت کرگئے، اگرچہ اس ترک وطن کو مقدس مقامات کی یاترا بتاکر اصل مسئلے کو چھپانے کی کوشش کی گئی، لیکن میڈیا نے ان ترک وطن کرنے والوں کی جو داستانیں سنائیں وہ ہمارے لیے بدنامی کا باعث بن رہی ہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ حکومتی سطح پر اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی منظم اور سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ اس ملک کے بانی قائداعظم نے اپنی زندگی میں بار بار اس بات کا یقین دلایا تھا کہ پاکستان میں رہنے والی اقلیتیں اس ملک کی برابر کی شہری ہیں اور اس ملک کے شہری ہونے کے ناتے انھیں وہ تمام سہولتیں، وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو اس ملک کی اکثریت کو حاصل ہیں، پاکستان کا آئین بھی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک کی بھاری اکثریت اس ملک میں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق کا احترام بھی کرتی ہے اور ان کی جان ومال کے تحفظ کو اپنی ذمے داری بھی سمجھتی ہے، لیکن مذہبی انتہا پسندوں کی ایک چھوٹی سی تعداد اور وڈیرہ شاہی کی بے لگام اولاد بلاامتیاز مذہب و ملت خواتین کو بے آبرو کرنے کو اپنا طبقاتی حق سمجھتی ہے۔ اس حوالے سے مختاراں مائی جیسی بے شمار خواتین وڈیرہ شاہی جبر کا انفرادی اور اجتماعی شکار ہوتی رہی ہیں۔ اگرچہ وڈیرہ شاہی کلچر میں عورت کی آبرو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی اور اس عیاش طبقے میں دین دھرم کی کوئی تخصیص بھی نہیں ہوتی لیکن ساری دنیا میں خواتین کے حقوق کی جو تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں، اس میں مذہب، ذات پات کی کوئی تخصیص نہیں کی جارہی ہے اور ہر مذہب کے ماننے والی خواتین کو یکساں تحفظ فراہم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کا میڈیا اب اتنا طاقتور اور متحرک ہے کہ اب کسی بھی کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کو نہ چھپایا جاسکتا ہے نہ خواتین پر کیے جانے والے مظالم کا کوئی جواز پیش کیا جاسکتا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد جو قتل و غارت گری ہوئی خواتین کی آبرو سے جس طرح کھیلا گیا، وہ اس خطے کی تاریخ کا ایسا شرمناک باب ہے جو ہماری تہذیب، ہمارے عقائد پر ایک سوالیہ نشان بنا رہے گا جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیوانیت کے اس دور کو گزرے اب65 سال ہورہے ہیں، پھر یہ سوال لباس فاخرہ پہنے آج ہمارے سامنے کیوں کھڑا ہے۔ وہ کون سے عوامل، کون سے اسباب، کون سی طاقتیں ہیں جو 65 سال بعد ایک بار پھر اس ملک کی ایک اقلیتی کمیونٹی کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں؟ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 1947 میں جب انسان حیوان بن گیا تھا دونوں ملکوں میں خواتین کی اتنے بڑے پیمانے پر آبروریزی کی گئی کہ سارا برصغیر دنیا بھر میں بے آبرو ہوکر رہ گیا۔

ہم 1947 کی اس وحشت و بربریت کا جواز تقسیم کی پیدا کردہ نفرت کی شکل میں پیش کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں لیکن 1947 تو اب 65 سال پیچھے رہ گیا، ہم آج ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں مذہب، ذات پات کی نفرتوں کی جگہ انسانوں کے درمیان محبت و بھائی چارے کے فروغ کی کوششیں ہورہی ہیں۔ میڈیا کے انقلاب نے انسانوں کو ایک دوسرے کے اس قدر قریب کردیا ہے کہ دنیا کے ایک کونے میں رہنے والا دنیا کے دوسرے کونے میں رہنے والے کے دکھ سکھ کا ساتھی بن رہا ہے۔ اس کلچر کے فروغ کے دور میں ہم دوبارہ 1947 کی طرف کیوں سفر کر رہے ہیں؟

یہ سوال پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے سامنے کھڑا جواب طلب کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہم ابھی تک اس ننگ انسانیت فیوڈل کلچر سے باہر نہیں آسکے جس میں خواتین پر مختلف حوالوں سے کیا جانے والا جبر زمینی اشرافیہ کا حق مانا جاتا ہے۔ ہم اس حق کو مختاراں مائی کے اجتماعی ریپ کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں، اس حق کو ہاریوں کسانوں کی خواتین کی بے حرمتی کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس حق کی ایک شکل ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بناکر شادیاں کرنے کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اور اس حق سے خوفزدہ لوگ سندھ سے بھاگ رہے ہیں۔ ہم ان بدنما حقیقتوں کی لاکھ تردید کریں، دنیا ہماری تردیدوں کو قبول نہیں کرے گی۔

میرے چالیس پینتالیس سال پرانے دوست عثمان بلوچ نے کل ٹیلیفون پر مجھے بتایا اور اصرار کیا کہ میں اس مسئلے پر لکھوں۔ عثمان بلوچ دل کا مریض ہے، ڈاکٹروں نے اسے آرام کا مشورہ دیا ہے، عثمان بلوچ کو ایک اور مرض 45-40 سال سے لاحق ہے وہ مرض ہے ہاریوں، کسانوں، مزدوروں اور غریب طبقات کو منظم کرنے، ان میں طبقاتی استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرنے کا مرض۔ یہ بڑا خطرناک مرض ہے جو دل کے مرض کی طرح انسان سے اس طرح چمٹ جاتا ہے کہ دل کا مرض پس منظر میں چلا جاتا ہے اوریہ مرض پیش منظر میں آجاتا ہے۔ اس مرض کے اسیروں کو قدم قدم پر زندانوں کا اسیر بننا پڑتا ہے، میں اور عثمان بلوچ اور ہمارے بے شمار ساتھی زندانوں کے اسیر رہے ہیں، اپنی جسمانی صحت برباد کرتے رہے ہیں، لیکن ہماری ذہنی صحت آج بھی 19-18 سال کی جوان ہے اور عثمان بلوچ اپنی اس جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ سندھ کے دیہاتوں میں گھوم رہا ہے۔ اور اسی خواری کے دوران اس نے ہندو لڑکیوں پر ہونے والے اس ظلم کو دیکھا۔ اس ظلم سے اس کا دل بھر آیا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ عثمان بلوچ ایک مسلمان ہے وہ ہندو لڑکیوں سے ہونے والی زیادتیوں پر کیوں دکھی ہے؟ ہماری روایات کے مطابق تو اسے اس بہادری پر فخر کرنا چاہیے تھا۔

میں نے عثمان بلوچ کو دلاسا دینے کے لیے قدم قدم پر بکھری ہوئی مختاراں مائیوں، قدم قدم پر بکھری ہوئی لاشوں، خیبرپختونخوا سے کراچی تک خاک و خون میں نہلائے جانے والے انسانوں، ان کے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے جسموں کی تذلیل کا عثمان بلوچ کو حوالہ دیا جس میں ظالم بھی مسلمان ہے، مظلوم بھی مسلمان ہے، جس میں قاتل بھی مسلمان ہے ، مقتول بھی مسلمان، میں نے عثمان بلوچ کو سمجھایا میرے بھائی! ہم ایک ایسے سومنات کو فتح کرنے کے سفر پر رواں دواں ہیں جس کے میر کارواں ایسے مجاہد ہیں جو راستے میں آنے والے ہر بچے، بڑے، مرد، عورت کو بلاامتیاز مذہب و ملت تہہ تیغ کر رہے ہیں۔ 15-14 کے معصوم بچوں کے پیٹوں پر بارودی جیکٹیں باندھ کر کرائے کے قاتلوں کے ہاتھوں میں ٹی ٹی پستول تھماکر انھیں معقول معاوضہ دے کر بارود بھری گاڑیوں کے ذریعے اپنے فوجی اور سول ہوائی اڈوں کو نشانہ بناکر سومناتھ کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایسے منظرنامے میں تم ہندو لڑکیوں کی جبریہ شادیوں، جبریہ تبدیلی مذہب کو رو رہے ہو؟

نسل انسانی کی بقاء اور تسلسل کے لیے عورت اور مرد کا رشتہ ضروری ہے۔ یہ ضرورت انسانوں ہی میں نہیں حیوانوں میں بھی ہوتی ہے۔ حیوان اپنی اس ضرورت کو حیوانی طریقوں سے پورا کرتے ہیں، انھیں اپنی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کسی جانور کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی بناکے شادی ، نکاح کرنے یا کورٹ میرج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن وہ اپنی یہ ضرورتیں فطری طریقوں سے پوری کرتے ہیں۔ ہم اشرف المخلوقات ہیں، ہم نے نسل انسانی کے تسلسل کے لیے کچھ قاعدے قانون، کچھ رسم و رواج بنائے ہیں جنھیں اپناکر ہی ہم اپنی فطری ضرورتیں پوری کرتے ہیں اور ان ہی حوالوں سے ہم اشرف المخلوقات کا تاج اپنے سروں پر سجاتے ہیں۔

اگر ہم ان قاعدوں، ان قوانین، ان اصولوں، رسم و رواج کو توڑ کر باہر آتے ہیں تو پھر ہم انسان نہیں رہتے، جانور بن جاتے ہیں۔ عثمان بلوچ کا دکھ بجا ہے، عثمان بلوچ کی آنکھوں کے آنسو بھی بڑے قیمتی ہیں، لیکن میرے بھائی! ذرا کوئٹہ کی علمدار روڈ، کوئٹہ کی کیرانی روڈ، پختونخوا کے شمالی اور جنوبی وزیرستان، پختونخوا کے مہذب شہروں پر نظر ڈالو، کراچی کی سڑکوں، کراچی کے بازاروں، کراچی کی گلیوں، کراچی کی بستیوں کو دیکھو، یہاں چلتے پھرتے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے دہشت زدہ چہروں پر نظر ڈالو، تمہارا دکھ کم ہوجائے گا، تمہارا دل ہلکا ہوجائے گا، اور تم ہندو خاندانوں کے ترک وطن کے دکھ کو کم محسوس کروگے۔

مقبول خبریں