کثیر منزلہ عمارتوں پر پابندی سے دکان مکان مہنگے

308تعمیراتی منصوبے منظوری کے منتظر،600ارب کی سرمایہ کاری رک گئی


Ehtisham Mufti October 06, 2017
بلڈرزاورڈیولپرز نے احتجاج کیلیے کمرکس لی،مسئلہ حل کیا جائے، چیئرمین آباد۔ فوٹو: فائل

بلند عمارتوں کی تعمیرات پر عائد پابندی کے باعث ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں رہائشی وتجارتی یونٹوں کے طلب و رسد کا توازن بگڑگیا ہے اور اس بگڑتے ہوئے توازن سے فی فلیٹ و دکان کی قیمتوں میں 30 تا 50 فیصد کااضافہ ہو گیا ہے جبکہ اگست 2017 میں ہونے والی آباد ایکسپو کے دوران غیرملکیوں کے ساتھ 250 ملین ڈالر کے طے شدہ سرمایہ کاری معاہدوں پر عمل درآمد بھی خطرے میں پڑگیا ہے۔

کراچی میں سیکڑوں بلند عمارتوں کے تعمیراتی منصوبوں کی پلاننگ مکمل ہونے کے باوجود انہیں متعلقہ اداروں ومحکموں سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے تعمیراتی شعبے میں 600 ارب روپے کی متوقع سرمایہ کاری رک گئی ہے جبکہ سول الیکٹرک انجینئرز، ہنر مند وغیرمندمزدوروں کی بڑی تعداد گزشتہ چند ماہ سے بیروزگار ہوگئی ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ ان عوامل سے دلبرداشتہ ہوکر تعمیراتی شعبے نے مشترکہ طور پر بڑے نوعیت کا احتجاجی لائحہ عمل مرتب کرلیا ہے۔ اس ضمن میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین عارف یوسف جیوا نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر تصدیق کی کہ بلند عمارتوں کے تعمیراتی منصوبوں پر پابندی سے بلڈرز اور ڈیولپرز کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور ان کا مرتب کردہ سرمایہ کاری پلان بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پاس308 بلند عمارتوں کے منصوبوں کے نقشے گزشتہ کئی ماہ سے منظوری کے منتظر ہیں، اگر ان منصوبوں کے نقشوں کی منظوری دے دی جائے تو ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں فوری طور پر 600 ارب روپے کی تازہ سرمایہ کاری ممکن ہوگی اور اس کے نتیجے میں رہائشی وکاروباری یونٹ کی قیمتوں میں چند ماہ سے جاری اضافے کا رحجان تبدیل ہو جائے گا۔

عارف یوسف جیوا نے بتایا کہ ایس بی سی اے نے 23مئی 2017 سے ملٹی اسٹوری اور بلند عمارتوں کی کنسٹرکشن پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور پابندی کا یہ تسلسل مزید 3 ماہ تک برقرار رکھا گیا تو اس شعبے سے وابستہ مزید 20 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ تعمیراتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہنے سے 70 دیگر ذیلی صنعتی شعبوں کی سرگرمیاں رواں دواں ہوتی ہیں۔

احتجاجی لائحہ عمل سے متعلق عارف جیوا نے بتایا کہ آباد کسی ادارے سے محاذ آرائی یا اس کے خلاف متحرک نہیں بلکہ وہ اپنے اراکین کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر مجبور ہے کہ بڑے پیمانے پراحتجاج کرکے اعلیٰ اور دیگر متعلقہ حلقوں تک اپنا یہ پیغام پہنچائیں کہ یہ مسئلہ صرف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ 70 سے زائد الائیڈ انڈسٹری اور عوامی بقا کابھی ہے۔

مقبول خبریں