فاٹا کی خیبرپختونخوا میں شمولیت کا مسئلہ

دھرنا دینے والے فاٹا اراکین کا مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق ہے


Editorial October 07, 2017
دھرنا دینے والے فاٹا اراکین کا مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق ہے. فوٹو: فائل

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے اراکین اسمبلی نے فاٹا ریفارمز پر عملدرآمد کے لیے شروع کی گئی اپنی مہم کے حوالے سے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا شروع کر دیا۔ مذکورہ مہم کا یہ پہلا مرحلہ تھا جب کہ آیندہ مرحلے میں فاٹا اراکین 9 اکتوبر کو پھر اسی مقام پر دھرنا دیں گے۔ دھرنا دینے والے فاٹا اراکین کا مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق ہے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی' متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں جنہوں نے فاٹا اراکین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دھرنا کے مقام کا دورہ کیا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر سید خورشید شاہ نے بھی دھرنا دینے والوں سے ملاقات کی اور انھیں اپنی پارٹی کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی حامی ہے۔ انھوں نے کہا اگر فاٹا والوں سے وعدے کے مطابق اصلاحات پر عمل نہ کیا گیا تو سارے افراد 9 اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جمع ہو جائیں گے تاکہ فاٹا کے اراکین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا ایسی صورت میں تمام تر ذمے داری حکومت پر عاید ہو گی۔ انھوں نے کہا فاٹا اصلاحات کی منظوری چونکہ وفاقی کابینہ نے دی ہے لہٰذا ان پر عملدرآمد کسی قسم کی تاخیر کے بغیر کیا جانا چاہیے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ سب سے پہلے متنازعہ قانون ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن) کو ختم کیا جانا چاہیے نیز علاقے میں ترقیاتی کام شروع کرانے کے لیے ایک چیف آپریٹنگ آفیسر کا تقرر کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے مارچ کے مہینے میں وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی منظوری دی تھی۔ بعدازاں مئی میں حکومت نے پارلیمنٹ کے ایک خصوصی سیشن کو فاٹا اصلاحات کے لیے تبدیل کر دیا تھا جس کے لیے آئین کی ایک شق میں ترمیم کی اجازت بھی دیدی گئی تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے مسودہ قانون پیش کیا جس میں پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم جے یو آئی ف اور ملی عوامی پارٹی کی طرف سے اس مسودہ قانون کی مخالفت کی گئی۔بہرحال اب یہ واضح ہے کہ فاٹا ارکان خیبرپختونخوا میں شامل ہونا چاہتے ہیں' خیبرپختونخوا کی سیاسی جماعتوں کی اکثریت بھی اس کی حامی ہے۔وفاقی حکومت کو اس معاملے میں عوامی رائے عامہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔