پلیئرز پاور نے ویمنز کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا

سابق جی ایم  شمسہ ہاشمی کا ’’ایکسپریس‘‘ کو خصوصی انٹرویو


Abbas Raza October 08, 2017
سابق جی ایم  شمسہ ہاشمی کا ’’ایکسپریس‘‘ کو خصوصی انٹرویو۔ فوٹو:فائل

قومی ویمنز کرکٹ ٹیم رواں سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈکپ کے ساتوں میچز میں مات کھاگئی تھی، مسلسل ناکامیوں کے بعد الزامات کی لہر چل پڑی۔

اطلاعات سامنے آئیں کہ کرکٹرز انتشار کا شکار تھیں، مینجمنٹ بھی دھڑے بندی کا حصہ بنی، کپتان ثنا میر اور چند سینئر کرکٹرز مبینہ طور پر من مانیاں کرتی رہیں اور انہیں منیجر عائشہ اشعر کی حمایت حاصل تھی، کوچ،کپتان،چیف سلیکٹر اور منیجر کی رپورٹس، جی ایم ویمنز ونگ کے انٹرویو سمیت مختلف ذرائع سے ہونے والی معلومات کو پیش نظر رکھتے ہوئے طویل غور وفکر کے بعد حال ہی میں وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ کیا گیا۔

ثناء میر کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹا کر بسمہ معروف کو ٹی ٹوئنٹی کے بعد اس فارمیٹ میں بھی کپتان مقرر کیا گیا، محمد الیاس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی بھی تحلیل کردی گئی، عائشہ اشعر کی جگہ نئی ٹیم منیجر کا بھی انتخاب کیا جائے گا لیکن ان کو فارغ کرنے کے بجائے جی ایم شمسہ ہاشمی کی جگہ عبوری طور پر ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ پی سی بی نے نیوزی لینڈ کے مارک کولز کو اس سے قبل ہی عبوری کوچ مقرر کردیا تھا۔

پی سی بی ویمنز ونگ کی سابق جی ایم شمسہ ہاشمی نے چند روز قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ثناء میر کی من مانی، غلط فیصلوں اور اہم مواقع پر ذاتی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کئی جیتے میچز ہار گیا۔''ایکسپریس'' نے ویمنز کرکٹ کے حوالے سے شمسہ ہاشمی کے ساتھ خصوصی گفتگو کی جس میں انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

ایکسپریس:ورلڈ کپ میں پاکستان کی مسلسل شکستوں کے پیچھے کیا وجوہات تھیں؟

شمسہ ہاشمی: پاکستان ٹیم کی کارکردگی اتنی بری بھی نہیں تھی، کوالیفائنگ راؤنڈ اور ورلڈ کپ میں تین چار میچز میں ٹیم فتح کے بہت قریب تھی، کپتان ثناء میر کی جانب سے اہم لمحات میں درست فیصلے نہ کرنے کی قیمت چکانا پڑی، جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں سیکنڈ لاسٹ اوور ٹاپ بولرز سے کروانا چاہیے تھا کیونکہ 16 رنز درکار تھے تاہم بولر کا درست انتخاب نہ کرنے اور فیلڈ ایڈجسٹمنٹ نہ کرنے کا نقصان ہوا، سری لنکا کے خلاف میچ میں پاور پلے نہ لینا ٹیم کو بھاری پڑا، بھارت کو ایک ہائی پریشر میچ میں 159 پر آؤٹ کرنے کے بعد گرین شرٹس آسان ہدف بھی حاصل نہیں کر سکیں، ٹیم مینجمنٹ کا ایک پیج پر نہ ہونا بھی ایک مسئلہ تھا، ثناء میر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اقربا پروری اور لابنگ کرتی ہیں، میں نے ان کی یہ چیزیں قبول نہیں کیں،میں نے کانتہ جلیل کو ٹرینر لگانے، بتول کو کوچ مقرر کرنے یا سلیکشن کمیٹی میں لینے کی فرمائشیں پوری نہیں کیں، جو ان کے لیے ناقابل برداشت تھیں، ثناء میر کی جانب سے ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ نہ چلنے کا بیان دیئے جانے کے بعد بورڈ نے ان کو قیادت سے ہٹا کر درست فیصلہ کیا،دراصل پلیئرز پاور نے ہی ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

ایکسپریس:ماحول کپتان اور مینجمنٹ نے خراب کیا لیکن آپ کو جی ایم کے عہدے سے ہٹادیا گیا،کیسا محسوس کررہی ہیں؟

شمسہ ہاشمی: اپنی برطرفی پر کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے، فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہوں اور میرے دل میں کوئی رنجش نہیں ہے، ہر ادارے کی کمان سنبھالنے والے نئے شخص کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی ٹیم کے ساتھ کام کرے، سیٹھی صاحب اپنی مرضی کی ٹیم لے کر آنا اور اس کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہیں، میری نیک خواہشات نئی ٹیم کے ساتھ ہیں۔

ایکسپریس:بطور جی ایم آپ ویمنز کرکٹ کے مسائل کا حل کیوں نہ تلاش کرسکیں؟

شمسہ ہاشمی: ویمنز ونگ کا کام سفارشات پیش کرنا ہے، اس کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، نعیم گیلانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی نے ٹیم کے معاملات پر انکوائری کی تھی اور اپنی تجاویز پیش کی تھیں جو ہم نے آگے بھیجیں، ان کا اطلاق تو بورڈ آف گورنرز یا ٹاپ مینجمنٹ ہی کرتی ہے، کوچز، پلیئرز کی رپورٹس اور متعلقہ شخصیات کی فراہم کردہ معلومات ریکارڈ پر موجود ہیں، بہت سارے معاملات پر میں نے بھرپور توجہ دی، مثلاً خراب ایوریج رکھنے والی پلیئرز کو ذاتی پسند ناپسند کی بناء پر بار بار کھلانے کا سلسلہ بند کیا، نشرا سندھو، ڈیانا بیگ، عائشہ ظفر اور غلام فاطمہ جیسی نوجوان کرکٹرز سامنے لائیں جنہوں نے ڈیبیو کا موقع ملتے ہی بہت اچھا پرفارم کرنا شروع کر دیا، چارج سنبھالا تو تین بنیادی مسائل نظر آئے، ٹیم میں شامل زیادہ تعداد پلیئرز کی عمریں 27 سال سے اوپر تھیں، پول محدود تھا اور اسے بڑھانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی تھی، میں نے گلگت بلتستان میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کروائے،قومی سکولز چیمپئن شپ اور گرلز انڈر 17 چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا، ان ایونٹس کے انعقاد سے نئی کرکٹرز سامنے آئیں، 6 کو پاکستان ''اے'' کیمپ میں جگہ ملی جن میں سے 2 نے قومی ٹیم میں جگہ بنائی، ایک انڈر 17 آل راؤنڈر اب بھی قومی کیمپ میں موجود اور مسقبل میں قومی ٹیم کے لیے اثاثہ ثابت ہو گی، فٹنس مسائل پر قابو پانے کے لیے اس کو کنٹریکٹ کے معاہدے کا حصہ بنایا، فٹنس کی بنیاد پر جرمانے اور انعام کا نظام متعارف کروایا گیا،سال میں 3بار فٹنس ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا۔ ویمنز ٹی ٹوئنٹی پنٹنگولر لیگ کا پلان بالکل تیار ہے اور میرے عہدہ چھوڑنے سے قبل 10 غیرملکی کرکٹرز شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکی ہیں، بورڈز نے ان کے نام دے دیئے ہیں، فروری میں پی ایس ایل سے قبل ہی یہ لیگ کروانے کا منصوبہ تھا اور سیٹھی صاحب بھی اس سے متفق تھے، لیگ کے آخری 2میچ براہ راست نشر بھی کئے جانے تھے، ویلفیئر سکیم کے تحت جتنی خواتین کرکٹرز بھی اب تک ریٹائر ہوئی ہیں ان کو 4 سے 10لاکھ روپے تک ویلفیئر دیا جائے گا، چیک بھی تیار ہو چکے ہیں، ورلڈ الیون کے دورہ کے بعد کسی موقع پر تقریب میں یہ چیک تقسیم کیے جانے تھے، امید ہے جلد ہی اس حوالے سے تقریب کا انعقاد بھی ہو گا، نئے عبوری کوچ مارک کولز بھی میری کوششوں سے پاکستان آئے اور بلامعاوضہ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس:ان تمام تر کوششوں کے باوجود آپ کی ضرورت کیوں ختم ہوگئی؟

شمسہ ہاشمی: میں نے کرکٹ کی بہتری کے لیے جو بھی پلان دیئے چیئرمین اور دیگر عہدیداروں کی مشاورت اور منظوری کے بعد ہی ان پر عملدرآمد ہوا، لیکن اب اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے کیا کیا تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہوگی،2007 میں قومی ویمنز ٹیم نے ورلڈ کے لیے کوالیفائی کیا اور اب 2017 ہے لیکن ہماری ٹیم ساتویں نمبر سے اوپر نہیں گئی کیونکہ اس عرصے میں نئی کرکٹرز کو گروم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بار بار وہی پلیئرز ٹیم میں شامل ہو جاتی تھیں اور انہیں کوئی چیلنج کرنے والا نہیں تھا، اسی وجہ سے ٹیم میں گروپنگ ہوئی اور پلیئرز پاور نے سر اٹھایا، خلوص نیت سے ویمنز کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کیا ہے،کریڈٹ لینے کے چکروں میں نہیں پڑتی، ابھی دو سال اور پچھلے ساڑھے چار سال بورڈ میں اعزازی طور پر کام کیا ہے اور کوئی تنخواہ نہیں لی، بورڈ میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔

ایکسپریس:پاکستان کی ویمنز کرکٹ کو بہتری کی راہ پر ڈالنے کے لیے کیا تجاویز دیںگی؟

شمسہ ہاشمی: سینئر کرکٹرز کی عمر حد سے زائد ہو چکی ہے، اپنا پول بڑا کرنا ہو گا، نئی کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیے جائیں، گلگت بلتستان سے لمبے قد اور مضبوط جسامت والی پلیئرز تلاش کی جائیں، وہاں سے 30 لڑکیاں منتخب کی گئی ہیں تاہم ابھی تک ان کا کیمپ نہیں لگ سکا، ان میں سے آپ کو ڈیانا بیگ جیسی 3،4 پلیئرز ضرور مل جائیں گی۔

منتخب کرکٹرز کو لمبے عرصے تک سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تربیت دی جانی چاہیے، دوسری اہم بات یہ ہے کہ ملک میں سال کا زیادہ عرصہ ویمنز کرکٹ نہیں ہوتی، قومی چیمپئن شپ کے لیے ریجنل سطح پر 15 دن کا کمیپ لگتا ہے، اس کے علاوہ وہاں کوئی کرکٹ نہیں ہوتی، اس لئے میں نے تجویز دی تھی کہ قومی چیمپئن شپ کی بجائے اگر انہی فنڈز سے ریجنل سطح پر ایک کوچ رکھا جائے، گیندیں فراہم کی جائیں اور پلیئرز روزانہ پریکٹس کریں اور سیکھیں تو اس سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، ڈیپارٹمنٹل اور ریجنل کرکٹرز کے مابین صلاحیتوں کے لحاظ سے بڑا خلا پر کرنے میں مدد ملے گی،پی سی بی کے انتظامی معاملات اور ویمنز کرکٹ کے لیے کام کرنے کی سوچ میں کوئی خرابی نہیں لیکن غلط مشورے دینے والے مسائل پیدا کررہے ہیں، اگر ثناء میر اور ان کی لابی کو چیک نہ کیا گیا تو کل وہ خود ہی سلیکشن کمیٹی، نین عابدی منیجر، بتول فاطمہ کوچ اور کانتا جلیل ٹرینر ہوں گی، بسمعہ معروف بہت باصلاحیت ہیں، انہیں آزادی سے کام کرنے دیا جائے،نئے ٹیلنٹ کی شمولیت کے راستے نہ روکے جائیں تو وہ ٹیم کو بہت اوپر لے کر جا سکتی ہیں۔