ٹیوب ویلوں پرسبسڈی سے حکمراں40ارب کھاناچاہتے ہیںشکیل اعوان

انکارپرسیکریٹری تبدیل کردیاگیا،بجلی بحران بڑھ سکتاہے،اپنوںکونوازاجارہاہے،اسدعمر


Monitoring Desk February 26, 2013
بریک ڈائون تکنیکی خرابی سے ہوا،شازیہ مری،کل تک میں جاویدچوہدری سے گفتگو فوٹو : فائل

مسلم لیگ(ن) کے رہنما شکیل اعوان نے کہا ہے کہ بجلی بریک ڈائون کے بعد24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بجلی بحال نہیں ہو سکی۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک کے میزبان جاویدچوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود تقرریاں جاری ہیں۔ اگر انھوں نے 2009 میں فرنس آئل کی قیمت ادا کی ہوتی تو ملک میں بجلی ہوتی۔ کارخانے بند ہیں، بیروزگاری بہت بڑھ گئی ہے، نہ جانے ملک سے کون سا بدلہ لیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اسدعمر نے کہا کہ وزیراعظم نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ جیسے پچھلے5سال گزرے ہیں ویسے5سال نہیں گزرے۔



65 سالوں میں معیشت کی کارکردگی بدترین ہے۔ شرح نمواتنی کم کبھی نہیں ہوئی۔ افراط زر10فیصد کی سطح پرچلا گیا۔ سرمایہ کاری آدھی رہ گئی، بجٹ خسارہ دوگنا ہو گیا، ڈالر 60 سے100روپے کا ہوگیا ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبے میں پاکستان رونڈا اور یوگنڈا سے بھی نیچے ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ الیکشن کے بعد تک کوئی تقرری نہیں کی جائے گی اس کے باوجود 15 فروری کو وزارت کے سیکریٹری راناواجد کو تبدیل کردیا گیا۔ کہا جارہا ہے کہ ان سے 40ارب روپے ریلیز کرنیکا کہا گیا تھا تاکہ فلیٹ ریٹ پرکاشتکاروں کو سبسڈی دی جائے۔ وزارت میں گریڈ 19کے ایڈیشنل سیکریٹری خالق کو اختیار دے دیاگیا۔

اس سے وزارت میں ایک بحران پیدا ہوگیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ بحران بجلی کے بحران میں اضافہ کر دے۔ یہ ڈاکٹرسومرو کے انتہائی قریب ہیں۔ واپڈا کے سیکریٹری کی جگہ رائے سکندر کو لگا دیا گیاجو پچھلے دور میں صدرزرداری کے پی ایس او تھے۔ اس وزارت میں بھی گریڈ 22کے کئی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رہما شازیہ مری نے کہا کہ ہم بھی مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ بھارت میں پچھلے سال بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا، امریکا میں بھی بریک ڈائون ہوتا ہے، برطانیہ میں ٹرین سسٹم ڈائون ہوا، کیا پاکستان میں بریک ڈائون نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اس کو صرف تکنیکی خرابی سمجھنا چاہیے۔