ٹریفک حادثات میں بڑھتی ہوئی اموات

بسوں اور ویگنوں کے ہونے والے حادثات کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ سواریاں اٹھانے کی کوشش میں تیز رفتاری ہوتی ہے۔


Editorial October 09, 2017
اناڑی ڈرائیور حضرات کے لیے بھی لائسنس حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ فوٹو: فائل

ملک بھر میں ٹریفک حادثات روز کا معمول بن چکے ہیںاور بیسیوں افراد ان حادثات میں جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح بلند ترین ہے۔ ملک میں جتنے افراد ٹریفک حادثات کی نذر ہوتے ہیں شاید دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی نہیں ہوتے۔

ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کے اعدادوشمار جمع کیے جائیں تو ہر سال یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے،جو کسی بھی المیے سے کم نہیں۔ ہفتے کو بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں مسافر کوچ اور ویگن کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 16مسافر جاں بحق اور30زخمی ہو گئے' اسی طرح پنجاب کی تحصیل بوریوالہ میں ٹریکٹر ٹرالی الٹنے سے اس میں سوار 15محنت کش خواتین میں سے پانچ جاں بحق اور دس زخمی ہو گئیں۔

اگر ملک بھر کے شہروں اور قصبات میں ہونے والے ٹریفک حادثات کو اکٹھا کیا جائے تو مرنے والوں کی یومیہ تعداد حیران کن ہو گی۔ ہمارے ملک میں اس قدر زیادہ ٹریفک حادثات کیوں ہوتے ہیں اس کی وجوہات جاننے اور ان حادثات کے انسداد کے لیے ہماری حکومت اور سرکاری اداروں نے کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ جب کبھی کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو حکمران زیادہ سے زیادہ اظہار افسوس کرکے خود کو اپنے فرائض سے بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔

حکمران طبقے کی بے حسی دیکھ کو واضح ہو جاتا ہے کہ انسانی جانوں کے اس المیے کو روکنا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ اب تک ہونے والے ٹریفک حادثات کی جو وجوہات منظرعام پر آئی ہیں اس کے مطابق ڈرائیور حضرات کی اکثریت ٹریفک قوانین سے نابلد ہوتی ہے' ان کے پاس ٹریفک لائسنس تک نہیں ہوتے ۔ یہ رویہ دیکھتے ہوئے عام شہری بھی ٹریفک قوانین کو خاطر میں نہیں لاتے۔

بڑے شہروں کے چند مخصوص علاقوں میں تو ٹریفک قوانین کی صرف ٹریفک اشاروں کی حد تک پابندی نظر آتی ہے مگر ملک کے دیگر علاقوں میں ٹریفک کا اژدھام اور بدنظمی دیکھ کر اذیت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جس کا جیسے جی چاہتا ہے وہ گاڑی چلانا اپنا حق سمجھتا ہے۔

بسوں اور ویگنوں کے ہونے والے حادثات کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ سواریاں اٹھانے کی کوشش میں تیز رفتاری ہوتی ہے۔ ٹریفک پولیس حکام اور حکومتی اداروں نے ڈرائیور حضرات کو کبھی ٹریفک قوانین سے آگاہ کرنے کی سعی نہیں کی۔

اناڑی ڈرائیور حضرات کے لیے بھی لائسنس حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں' نہ کوئی تربیت اور نہ کوئی معائنہ بس تھوڑی سی رشوت کام دکھا جاتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دے کیونکہ یہ سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور ہر سال ٹریفک حادثات میں ہزاروں افراد کی ہلاکت ایسا معاملہ نہیں جسے نظر انداز کر دیا جائے۔