قدرتی آفات اور ہمارے انتظامات

آزاد کشمیر میں 8اکتوبر 2005کو آنے والے ہولناک زلزلے میں شہید ہونے والوں کی اتوار کو بارہویں برسی منائی گئی


Editorial October 10, 2017
آزاد کشمیر میں 8اکتوبر 2005کو آنے والے ہولناک زلزلے میں شہید ہونے والوں کی اتوار کو بارہویں برسی منائی گئی ۔ فوٹو : فائل

آزاد کشمیر میں 8اکتوبر 2005کو آنے والے ہولناک زلزلے میں شہید ہونے والوں کی اتوار کو بارہویں برسی منائی گئی۔ اس موقع پر اسلام آباد سمیت مظفر آباد اور دیگر شہروں میں تقریبات کے انعقاد کے علاوہ ریلیاں نکالی اور مساجد میں قرآن خوانی کی گئی۔ شہدا ء کی یاد میں سائرن بجائے گئے اورایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ مرکزی تقریب خورشید حسن خورشید اسٹیڈیم میں ہوئی' قائمقام وزیراعظم راجہ نثار نے یاد گار شہداء پر پھول چڑھائے۔ 12سال قبل آنے والے قیامت خیز زلزلے نے آزاد کشمیر اور ہزارہ ڈویژن میں تباہی مچائی تھی جس میں تقریباً ایک لاکھ افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے' بالاکوٹ کا تقریباً 95فیصد انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا تھا۔

اس زلزلے کے بعد ماہرین نے پاکستان میں مختلف فالٹ زونز کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ زلزلوں کا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں اور کسی بھی وقت شدید زلزلے آ کر تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ قدرتی آفات کو روکنا تو انسان کے اختیار میں نہیں لیکن ایسی تدابیر ضرور اختیار کی جا سکتی ہیں جس سے آفات کے باعث ہونے والے نقصانات کی شرح کم سے کم کی جا سکے۔ جاپان میں زلزلے آنا معمول کی بات ہے مگر وہاں کے حکام نے نقصانات سے بچنے کے لیے زلزلہ پروف عمارات تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ زلزلے کا پتہ دینے والے آلات جا بجا نصب کیے ہیں جس سے شہریوں کو زلزلہ آنے سے کچھ لمحہ قبل ہی آگاہی ہو جاتی ہے اور وہ اپنے بچاؤ کی تدابیر کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی نقصان کی صورت میں جدید ترین مشینری اور سہولتیں بروقت مہیا کی جاتی ہیں۔

8اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی حکومت بھی جاپان میں کیے جانے والے ایسے حفاظتی اقدامات سے مستفیض ہوتی اور یہاں عمارتوں کا زلزلہ پروف اسٹرکچر تیار کیا جاتا' جدید مشینیں اور آلات مہیا کیے جاتے مگر افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر ادارے تو موجود ہیں مگر صورت حال یہ ہے کہ کہیں عمارت گر جائے تو زخمیوں کو نکالنے کے لیے جدید مشینری ہی موجود نہیں' کہیں آگ لگ جائے تو انسانی جانیں بچانے کے لیے بروقت میسر 'مشینری' چٹائی استعمال کی جاتی ہے۔ بڑے شہروں میں گنجان آباد علاقوں کی صورت حال تو بہت خراب ہے تنگ گلیوں میں ریسکیو گاڑیوں کا پہنچنا ہی ناممکن ہے۔ آفات سے آگاہی کا قومی دن ضرور منایا جائے لیکن معاملات اسی وقت حل ہوں گے جب حکومت سنجیدگی سے عملی اقدامات کرے گی۔