خستہ حال عمارتوں کے معاملے میں غفلت افسوسناک

وفاقی و صوبائی حکومتوں کے علاوہ شہری ادارے بھی اس معاملے میں بے اعتناعی برت رہے ہیں


Editorial October 10, 2017
وفاقی و صوبائی حکومتوں کے علاوہ شہری ادارے بھی اس معاملے میں بے اعتناعی برت رہے ہیں . فوٹو : فائل

پاکستان کے مختلف شہروں میں خستہ حال بوسیدہ عمارتوں کے معاملات میں غفلت برتنے کا رویہ انتہائی افسوسناک اور مستقبل میں کسی بھی بڑے حادثے کا موجب بن سکتا ہے۔ لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں کے علاوہ شہری ادارے بھی اس معاملے میں بے اعتناعی برت رہے ہیں۔ جب کوئی حادثہ رونما ہوتاہے تو چہار اطراف سے الزام تراشیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ذمے دار متعلقہ اداروں کا رویہ ''بندر کی بلا طویلے کے سر'' ڈالنے جیسا ہوتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ صرف شہر قائد میں سیکڑوں عمارتیں انتہائی مخدوش اور خستہ حالت میں موجود ہیں جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا باعث بن سکتی ہیں، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عمارتیں خالی کرانے اور مکینوں کو متبادل رہائش فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

کراچی میں اب تک مخدوش عمارتوں کے زمین بوس ہونے کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں قیمتی جانوں کا اتلاف ہوا۔ دوسری جانب صوبہ سندھ میں 6 ہزار 157 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں مخدوش ہونے کا انکشاف ہوا تھا، جس سے ہزاروں طلبا و طالبات کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ حالیہ بارشوں کی وجہ سے ان عمارتوں کی چھتیں، دیواریں اور پلرز کمزور پڑ گئے ہیں۔

ملک کے دیگر صوبوں کا حال بھی یکساں ہے۔ بڑے شہروں کے قدیم رہائشی علاقوں میں آج بھی ایسی عمارتیں موجود ہیں جو اپنی بنیاد کی سینچری مکمل کرچکی ہیں، ان عمارتوں کی خستہ حالی کے باوجود وہاں نہ صرف لوگ رہائش پذیر ہیں بلکہ شہری ادارے یکسر چشم پوشی برت رہے ہیں۔ کسی بھی قدرت آفت، زلزلے یا بارشوں کے بعد کیا صورتحال پیش آسکتی ہے اس کا ادراک بھی متوشش حلقوں کا دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے لیکن جنھیں نوٹس لینا چاہیے وہ بے حسی کی چادر تانے سو رہے ہیں۔ پانی سر سے گزر جانے کے بعد جاگنے کی روایت کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ سندھ میں خستہ حال سرکاری اسکولوں سمیت کراچی اور دیگر صوبوں میں مخدوش عمارتوں کا معاملہ حسن خوبی کے ساتھ نمٹایا جائے۔