فاٹا کے حوالے سے فیصلہ جلد ہونا چاہیے

فاٹا کی آئینی حیثیت میں تبدیلی لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے


Editorial October 11, 2017
فاٹا کی آئینی حیثیت میں تبدیلی لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے. فوٹو : فائل

پاکستان تحریک انصاف،پیپلزپارٹی اوراے این پی سمیت فاٹاسے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوںنے گزشتہ روز فاٹا اصلاحات کے لیے اسلام آباد کے ڈی چوک پردھرنادیا،فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی،قبائلی عمائدین اورعوام پشاورٹول پلازہ سے ریلی کی صورت میںپریس کلب اسلام آباد پہنچے توسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ان سے اظہاریکجہتی کیا۔فاٹاکاررواں کے آتے ہی تمام شرکاء نے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ بھی کیا۔

فاٹا کے حوالے سے صورت حال یہی نظر آرہی ہے کہ خیبرپختونخوا کی سیاسی جماعتیں اور فاٹا کے قبائلی عمائدین کی اکثریت فاٹا کا خیرپختونخوا میں انضمام چاہتے ہیں۔گو مخالف آوازیں بھی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ اصولی طور پر فاٹا کی آئینی حیثیت میں تبدیلی لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ یہاں سماجی تبدیلیوں کا عمل شروع ہو سکے۔ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کر دیا جاتا ہے تو قبائلی سماج میں تبدیلی ممکن ہو سکے گی' وہاں پولیس نظام رائج ہو جائے گا' وہاں کمشنر' ڈپٹی کمشنرز' مجسٹریٹ' تحصیل دار وغیرہ تعینات ہوں گے۔ لینڈ ریفارمرز ہوں گی' عدالتی نظام آئے گا تو یہ علاقہ مین اسٹریم میں آ جائے گا اور اس علاقے میں صنعتی و زرعی ترقی اور سرمایہ کاری کا عمل شروع ہو جائے گا ۔

جس سے نئے روز گار کے مواقعے پیدا ہوں گے' وفاقی حکومت کو اس حوالے سے جلد فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ تاخیر نقصان دہ ہو گی' اس کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کو بھی بین الاقوامی سرحد سمجھتے ہوئے وہاں سخت ترین حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ افغانستان سے آمدورفت قانون کے تقاضوں کے مطابق ہی ہو سکے ۔کھلے عام اور بلاروک ٹوک پیدل کراسنگ سے پاکستان کے لیے خطرات پیدا ہورہے ہیں۔فاٹا کا اسٹیٹس تبدیل ہونے سے دونوں جانب آمد ورفت انھیں قوانین کے تحت ہونی چاہیے جنھیں پورا کرکے دیگر ملکوں کے شہری پاکستان آتے ہیں۔ جب تک پاک افغان سرحد کو فول پروف نہیں بنایا جاتا' فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ مسائل پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جائیں۔لہٰذا اس معاملے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔