پانی کا بحران اور ارباب اختیار کی ذمے داری

آیندہ دنیا میں ہونے والی جنگیں پانی کے مسئلے پر ہو سکتی ہیں


Editorial October 14, 2017
آیندہ دنیا میں ہونے والی جنگیں پانی کے مسئلے پر ہو سکتی ہیں۔ فوٹو:فائل

پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے' ارسا اور دیگر ادارے متعدد بار اس سے خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں جس کا ادراک حکومت کو بھی بخوبی ہے اور حکومتی سطح پر بھی اس بارے میں آواز اٹھائی جاتی رہی ہے مگر اس خطرے کا ادراک ہونے کے باوجود پانی کا بحران حل کرنے کے لیے عملی اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پانی کے بحران کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ میں ارباب حل و عقد کی توجہ ایک بار پھر اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانی کی قلت 2020ء تک شدت اختیار کر جائے گی اور 2030ء تک اس کا شمار دنیا میں پانی کی قلت سے دوچار 33 سرفہرست ممالک میں کیا جائے گا۔ موسمیاتی تغیر' بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں میں آبادی کے منتقلی کے رجحان کے باعث پانی کی طلب میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس طرح پانی کی طلب و رسد کا توازن تیزی سے بگڑ رہا اور ملک پانی کی شدید قلت کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 15.75ملین ایکڑ فٹ سالانہ سے کم ہو کر 13.7ملین ایکڑ فٹ کی سطح پر آنا تشویشناک امر ہے۔

ملک میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نہری نظام لایا گیا مگر موسمیاتی تغیر' بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پانی کی دستیابی میں کمی اور بھارت کی جانب سے دریاؤں کا پانی کم کرنے کے سبب نہری نظام کے ذریعے پانی کی فراہمی غیریقینی صورت حال سے دوچار ہوئی تو زیرزمین پانی کے استعمال کی جانب رجحان بڑھنے سے زیرزمین پانی کی سطح بھی تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔ آبی ماہرین بار بار حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے چلے آ رہے ہیں مگر افسوسناک امر ہے کہ کوئی بھی حکومت اس حوالے سے عملی قدم نہیں اٹھا سکی۔

گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پانی کی کوئی نئی ذخیرہ گاہ تعمیر نہیں کی گئی' تشویشناک امر تو یہ ہے کہ آج تک نیشنل واٹر پالیسی ہی تیار نہیں کی جا سکی جس کا مسودہ 2003ء میں تیار کیے جانے کے باوجود مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کا منتظر ہے۔ حکومت نے جب بھی کوئی پانی کا ذخیرہ تعمیر کرنے کی کوشش کی تو وہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا جس کی واضح مثال کالا باغ ڈیم ہے۔

آبی ماہرین خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ آیندہ دنیا میں ہونے والی جنگیں پانی کے مسئلے پر ہو سکتی ہیں لہٰذا اس صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے بھارت' بنگلہ دیش' سری لنکا اور نیپال جیسے چھوٹے ممالک نے بھی نیشنل واٹر پالیسی تشکیل دی اور پانی کی بچت' ذخیرہ اور تقسیم کے اہداف حاصل کرنا شروع کر دیے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت مستقبل قریب میں آنے والے پانی کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر نیشنل واٹر پالیسی کا اجرا کرے اور سمندر برد ہونے والے پانی کو بچانے کے لیے بڑی تعداد میں پانی کے ذخائر تعمیر کیے جائیں۔