ایران سے مزید ایک سو میگا واٹ بجلی لینے کا فیصلہ

ایران پہلے ہی پاکستان کو 100میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے


Editorial October 14, 2017
حکومت نے مزیدرعاتیں مانگتے ہوئے 153 اشیا کی اعلیٰ ترجیحاتی فہرست حوالے کردی۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران سے ترجیحی بنیادوں پر مزید بجلی درآمد کی جائے۔ وزارت توانائی نے بتایا کہ حکومت ایران پاکستان کو اضافی 100میگاواٹ بجلی برآمد کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ ہمارا برادر پڑوسی ملک ایران پہلے ہی پاکستان کو 100میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے جس کے معاہدے کی سال بسال تجدید کی جاتی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایران سے اضافی بجلی حاصل کرنے کی خاطر ٹرانسمیشن لائنیں اور گرڈ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ اضافی بجلی مکران ڈویژن کی طلب کو پورا کرنے کے لیے لی جا رہی ہے جہاں پر گوادر کی بندر گاہ اور صنعتی زون بھی واقع ہے۔ کمیٹی نے تجویز کو منظور کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت کی کہ بجلی کے حصول کے لیے فوری طور پر انتظامات کیے جائیں اور جس قدر جلد ممکن ہو سکتاہے ابتدائی تیاریاں مکمل کی جائیں۔ وزارت توانائی نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے پاس 2017-18ء میں فاضل بجلی موجود ہوگی جب کہ تھرکول سے پیدا ہونے والی بجلی کے اضافے سے فالتو بجلی کی مقدار میں اور زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔

ایران سے بجلی لینے کا فیصلہ صائب ہے' اس کا پاکستان کو فائدہ ہو گا' اگر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا تو پاکستان میں توانائی کا بحران ختم ہو چکا ہوتا' بہرحال اب بھی ماضی کی کوتاہیوں اور غلطیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے' ایران پاکستان کو گیس' بجلی اور تیل خاصے کم نرخوں پر فراہم کر سکتا ہے۔ سستی توانائی پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔