وہ تیز رو کون ہو گا

سیاستدانوں نے اپنے سیاسی مکتب میں جو گر اور ہنر سیکھے ہیں ان کا مقابلہ کون کر سکتا ہے


Abdul Qadir Hassan February 28, 2013
[email protected]

شیخ الشیوخ یعنی شیخ الاسلام نے جو اطلاع خود دی ہے اس کے مطابق جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے تو حضرت اس وقت اپنے پہلے وطن سے پرواز کر کے دوسرے وطن کی سر زمین پر قدم رنجہ فرمانے والے ہوں گے۔ انھوں نے اس واپسی کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ انھیں طبی معائنہ کے لیے جانا ہے۔ انھوں نے پاکستان میں اپنی بے مثل ہنگامہ خیز آمد کے کچھ بعد ہی اہل پاکستان کے صاحب الرائے خواتین و حضرات میڈیا سے اور اس کے ذریعے عوام کے جس حسن سلوک کا سامنا کیا ہے اس کے پیش نظر ٹکور کرانی لازم ہو گئی تھی چنانچہ قدرت نے جب ایک مغربی ترقی یافتہ ملک میں طبی امداد کی سہولت دے رکھی ہے اور پاکستان کے ڈاکٹروں اور اسپتالوں سے کینیڈا کے طبی ادارے یقیناً بہت بہتر اور بڑے لوگوں کے مرتبے و مقام کے مطابق ہیں تو پھر تھکے ماندے اور عوامی زخموں سے چور جسم کی ٹہل ہوا اور ٹکور کسی ماہر سے کیوں نہ کرائی جائے، دوغلی شہریت کا فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے۔

کیا یہ دہرا پن صرف طعنے کھانے کے لیے ہے یا پھر زبان کے زخموں کے لیے جن کے بارے میں عربوں کی یہ کہاوت حضرت کو خوب یاد ہو گی کہ نیزوں کے زخم تو مندمل ہو جاتے ہیں مگر زبان کے نہیں۔ حضرت کو چونکہ یہ سہولت میسر ہے اس لیے وہ بلا تکلف غیر ملک جا رہے ہیں اور پاکستان میں اپنے ساتھیوں اور پیروکاروں کو ایسے اندیشوں کے حوالے کر کے جا رہے ہیں کہ کیا معلوم طبی معائنہ اور ڈاکٹروں کے مشورے انھیں کسی لمبے عرصے کے لیے روک لیں۔ کینیڈین ڈاکٹروں کو اس سے کیا غرض کہ حضرت نے پاکستان میں کتنی بڑی انوسٹمنٹ کی ہے جس سے کوئی بلند ترین عمارت بھی بن سکتی تھی جب کہ ان کی یہ انوسٹمنٹ نعروں میں اڑ گئی یا بالآخر حکومت کے چند دل پشوری کرنے کے شوقین کارندوں کے ساتھ جو اصل میں تو اس مشہور و معروف کنٹینر کو چالو حالت میں اندر سے دیکھنے آئے تھے کہ اس میں چند ساعتیں بیٹھ کر اس کا مزا لے سکیں ان کے اعزاز میں کوئی ایئر کنڈیشنڈ معاہدہ بھی کر لیا جو بجلی کی اس ملک گیر لوڈشیڈنگ میں ناکام ہو گیا۔ اب کوئی اس کو یاد بھی نہیں کرتا البتہ کچھ لوگ اس معاہدے کو یاد کر کے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستے ضرور ہیں۔

حضرت شیخ کا علم و فضل اپنی جگہ لیکن سیاستدانوں نے اپنے سیاسی مکتب میں جو گر اور ہنر سیکھے ہیں ان کا مقابلہ کون کر سکتا ہے یہی دیکھیے کہ آسمان تک بلند ہونے والا غلغلہ کیسے آناً فاناً اسلام آباد کی کسی بدرو میں گر گیا۔ ان سیاستدانوں کا ہنر دیکھیے انھوں نے صرف اس پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ وہ موصوف کو گھیر گھار کر سپریم کورٹ بھی لے گئے جہاں کی زجر و توبیخ کے بعد بھی انگلیوں سے فتح کے نشان بلند کرتے ہوئے وہ برآمد ہوئے۔ حضرت کے ساتھ جو کچھ پاکستانیوں نے کر دیا ہے اس پر اس قدر خرچ کرنے اور اتنی زحمت اٹھانے کی کیا ضرورت تھی اب تو خبر بھی اندر کے کسی صفحے پر سنگل کالمی چھپتی ہے، یہی حالت رہی تو کل کلاں پیپلز پارٹی کی طرح کسی سیاسی سرگرمی کا اشتہار چھپوانا پڑے گا ، عرض یہ ہے کہ جو ہوا ہے وہ اس سے بہت کم خرچ پر بھی ہو سکتا تھا۔

ایک سردار صاحب بڑی ہی جلدی میں اچھل کر گاڑی کے ڈبے سے باہر کودے اور اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی جو ٹانگہ سامنے نظر آیا وہ اس میں کود کر سوار ہو گئے اور کوچوان کو ایک گھر کا پتہ دیتے ہوئے کہا کہ بس جلدی جلدی وہاں چلو۔ جب اس گھر میں پہنچے اور دروازے پر دستک دی تو اندر سے ایک اور سردار صاحب باہر نکلے اور اس مہمان کو پکڑ کر اس کی خوب دھنائی کر دی اور لات مار کر پرے پھینک دیا۔ سردار صاحب پھر سے ٹانگے پر سوار ہو گئے اور اسے واپس اسٹیشن چلنے کو کہا۔ یہ سب دیکھ کر کوچوان نے سردار صاحب سے کہا کہ اگر اس کام کے لیے آپ اتنا سفر کر کے اور اتنا خرچ کر کے آئے تھے تو مجھے بتا دیتے، میں اسٹیشن پر ہی آپ کا یہ کام کر دیتا۔ بہر کیف ان سکھوں کو چھوڑئیے یہ تو ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں افسوس تو تب ہوتا ہے جب بھلے چنگے بندے بھی سردار بن جائیں اور اپنے ساتھ اس بھٹکی ہوئی قوم کو بھی کچھ بنا دیں۔

ہماری حالت مرزا غالب نے یوں بیان کی ہے کہ
جلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

ہم پاکستانی سچی بات تو یہ ہے کہ اپنے قائد کے بعد ہی کسی رہبر کی تلاش میں بھاگنا شروع ہو گئے اور ابھی تک بھاگتے جا رہے ہیں جو تیز رو بھی دکھائی دیتا ہے اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیتے ہیں مگر وہ رہبر نہیں نکلتا اندر سے کچھ اور نکل آتا ہے کئی ایک تو پردیسی بھی ہوتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ادھر کچھ عرصے سے سیاسی جلسوں میں عوام کا جو ہجوم دکھائی دیتا ہے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا اس سے آپ اندازہ کر لیں کہ ہماری مایوسی کس سطح تک پہنچ گئی ہے کہ ہر اک تیز رو کو دیکھ کر اس کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی بلا سوچے سمجھے۔ ابھی ایک کے لیے بلند کیے جانے والے نعرے فضائوں میں زندہ ہوتے ہیں کہ کوئی دوسرا آ جاتا ہے۔ بھٹکی ہوئی لیڈر کی تلاش میں یہ قوم افتاں و خیزاں پھر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اب تک یہ سلسلہ چل رہا ہے ہم اخبار والے بھی جاری رہیں گے اب رخصت!

مقبول خبریں