پاماڈا نے مسابقتی کمیشن کی آٹو رپورٹ کو امتیازی قرار دیدیا

انویسٹرز کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، رپورٹ سے مسابقتی کمیشن کی ساکھ پر سوالات اٹھے۔


Business Reporter February 28, 2013
غلطیوں سے بھری رپورٹ میں ڈیلرز کو اوای ایمز ایجنٹ کہہ کر غلط بیانی کی گئی، اقبال شاہ فوٹو: فائل

پاکستان آٹو مینوفیکچررز آتھرائزڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (پاماڈا) کے وائس چیئرمین اقبال حسین شاہ نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جنوری 2013 کی آٹو موبائل صنعت کے بارے میں رپورٹ کو انڈسٹری کی غلط عکاسی قرار دیتے ہوئے اسے امتیازی رپورٹ قرار دیا ہے جو آٹو انڈسٹری کے مستقبل کے لیے سودمند نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مقامی صنعت کو فروغ دیا جاتا ہے تاکہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، سرمایہ کاری ہو اور انجینئرنگ اساس میں ترقی ہو تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے برعکس ہورہا ہے اور سی سی پی ایک امتیازی رپورٹ کے ذریعے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کررہا ہے،اس رپورٹ میں غلطیاں ہیں، امتیازی رپورٹ کی وجہ سے سی سی پی کی اپنی ساکھ اور کارکردگی پر سوالات اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلطیوں سے بھری ہوئی اس رپورٹ میں غلط بیانی کی گئی ہے کہ ڈیلرز او ای ایمز کے ایجنٹ ہیں، اس رپورٹ میں حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے سرمایہ کاری، تکنیکی پیش رفت، صارفین کو بعد از فروخت خدمات اور ٹیکنیکل اسٹاف کو دی جانے والی تسلسل کے ساتھ تربیت کو بالکل پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

مزید برآں صارفین کو دی جانے والی رجسٹریشن، انشورنس اور لیزنگ میں معاونت بھی فراموش کردی گئی ہیں، حقائق کو نظرانداز اور پرانی گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ افزائی کرکے سی سی پی نے ڈیلرز مافیا کو سپورٹ کیا جن کی وجہ سے زرمبادلہ اور محاصل میں کمی ہوئی ہے، پرانی گاڑیاں صارفین کیلیے کسی طرح مفید نہیں ہیں اور یہ گاڑیاں ایک سال بعد ہی بیکار ہوجاتی ہیں جیسا سال 2007 میں درآمدی گاڑیوں کے ساتھ ہوا تھا۔ اقبال حسین شاہ نے کہا کہ اگر رپورٹ کے مندرجہ جات قابل بھروسہ نہیں ہیں تو پھر اقدامات پر عمل درآمد کی سفارش کیوں کی گئی، سی سی پی مندرجہ جات کے بارے میں دست برداری ظاہر کرکے خلاصی حاصل نہیں کر سکتی، مقامی کار صنعت نئی گاڑیاں تیار کررہی ہے جن کا مقابلہ پرانی استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں سے نہیں کیا جاسکتا۔



ان کار ساز اداروں نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے جبکہ پرانی گاڑیاں پالیسی کا غلط استعمال کرکے درآمد کی جا رہی ہیں، سی سی پی نے پرانی گاڑیوں کو دیے جانے والا 36 فیصد ڈیپری سی ایشن الاؤنس بھی ظاہر نہیں کیا، دوسری طرف گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی کی بنیاد پرانی امپورٹ ٹریڈ پالیسی (آئی ٹی پی) پر مبنی ہیں جو 2005 میں وضع کی گئی تھی، ان رعایت کی وجہ سے پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں قابل قدر کمی ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود یہ گاڑیاں صارفین کو انتہائی مہنگی پڑ رہی ہیں، اس کے برعکس مقامی انڈسٹری کو سی کے ڈی کٹ کی درآمد یا ڈیوٹی کی مد میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

پاماڈا کے وائس چیئرمین نے کہا کہ پرانی گاڑیوں کی درآمد سے صرف چند ڈیلروں کو کاروبار ملا جبکہ مارکیٹ میں 4 ہزار کار ڈیلرز ہیں اور ان چند ڈیلرز کے پاس کسی قسم کی کوئی تربیت یافتہ افرادی قوت نہیں جبکہ ملکی کار ساز صنعت کے ڈیلرز انتہائی تربیت یافتہ ہیں اور ملکی جی ڈی پی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔