ڈومیسٹک کرکٹ مصباح الحق نے پچز کے معیار پر سوالات اٹھادیے

میچز میں مناسب وقفہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹرف کی تیاری کیلیے زیادہ وقت نہیں ملتا


Sports Reporter October 17, 2017
بیٹسمینوں کی پریشانی کا سبب ڈیوک بال نہیں ناہموار وکٹیں ہیں، سابق کپتان ۔ فوٹو : فائل

NABLUS, PALESINE: سابق کپتان مصباح الحق نے قائد اعظم ٹرافی کی پچز کے معیار پر سوالات اٹھادیے۔

ملک بھرمیں مختلف شہروں کے 15 وینیوز پر جاری قائد اعظم ٹرافی ٹورنامنٹ میں صرف 41 دنوں میں ہر ٹیم نے 7 چار روزہ میچز کھیلنا ہیں،مقابلوں میں زیادہ وقفہ نہ ہونے کی وجہ سے پچز کی تیاری کیلیے وقت نہیں ملتا،اس کی وجہ سے بیٹسمین مشکلات کا شکار ہیں،واپڈا اور اسلام آباد کے میچ میں ایک دن میں ہی 24وکٹیں گر گئیں۔

مصباح الحق نے قائد اعظم ٹرافی کی پچز کے معیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ میچز میں مناسب وقفہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹرف کی تیاری کیلیے زیادہ وقت نہیں ملتا، بیٹسمینوں کی پریشانی رواں سیزن میں متعارف کروائی جانے والی ڈیوک بال نہیں بلکہ ناہموار پچز ہیں۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ایک عرصہ سے ان پلیئرزکیساتھ کھیل رہا اور ان کی بیٹنگ صلاحیتوں سے آگاہ ہوں لیکن ڈومیسٹک کرکٹ میں پچز کا معیار دیکھ کر مایوسی ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل میچز کے بعد قائد اعظم ٹرافی کو کرکٹرز کیلیے سب سے اہم ٹورنامنٹ سمجھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کا معیار بڑا پست نظر آتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ہمیشہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اس طرح کے مسائل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہوں، پچز کا معیار بہتر کئے بغیر کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے تیار کرنے کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا،کرکٹرز ڈومیسٹک میچز کو بڑا وقت دیتے اور اپنی توانائی صرف کرتے ہیں لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے، پچز پر گیند کبھی اونچی،کبھی نیچی رہ جاتی ہے اور بیٹسمین کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے، مقابلوں کا انعقاد رسمی کارروائی کیلیے نہیں بلکہ معیاری کرکٹ کے رجحان کو فروغ دینے کیلیے کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ پی سی بی کی جانب تیسری بار ڈومیسٹک کرکٹ میں استعمال کی جانے والی گیندیں تبدیلی کی ہیں،گریس کے بعد کوکابورا اور اب ڈیوک بال متعارف کروادی گئی ہے لیکن پچزکی معیار پر توجہ نہ دینے سے مسائل میں اضافہ ہی ہوا ہے۔