شفاف اور آزادانہ انتخابات کے تقاضے

وقت احساس زیاں کا ہے، ملک انتظامی تطہیر کے مرحلہ میں ہے


Editorial October 18, 2017
کرد قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ صدیوں سے چار ممالک میں تقسیم ہے ۔ فوٹو : فائل

سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے کہا ہے کہ2013کے مقابلے میں آیندہ انتخابات کے انعقاد میں زیادہ محنت کرنا پڑے گی، الیکشن ایکٹ دو ماہ پہلے منظور ہو جاتا تو بہتر ہوتا ، نئی حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن کے انعقاد سے اس کی آئینی و قانونی حیثیت پر سوال اٹھ سکتا ہے، ایسا تجربہ نہیں کرنا چاہتے جس سے جمہوریت پر ہی سوال اٹھنا شروع ہو جائیں، ان کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ خواتین ووٹرز رجسٹرڈ نہیں، افسوسناک بات ہے سیاسی قیادت اسے مسئلہ ہی تسلیم نہیں کر رہی، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا کوئی پائیدار حل نہیں نکل سکا۔ یہ چشم کشا ، فکر انگیز حقائق اور ایشوز جو حکمرانوں ، سیاست دانوں اپوزیشن پارٹیز بالخصوص اور ملک کے فہمیدہ حلقوں کو آیندہ عام انتخابات کے تناظر میں سنجیدگی سے زیر غور لانا چاہئیں، انھوں نے پیر کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں الیکشن ایکٹ 2017 سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اٹھائے ۔

بدقسمتی سے ملکی سیاست احتجاجی گرداب میں یوں پھنسی ہے کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ کی منظوری میں تاخیر کا انھیں کوئی ادراک اور احساس نہیں، سیکریٹری الیکشن کمیشن کے اس استدلال کو رد کرنا آسان نہیں کیونکہ ہم انتخابی دھاندلیوں کا الم ناک ریکارڈ رکھتے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ 2013کے مقابلہ میں آیندہ انتخابات اعصاب شکن معرکہ آرائی سے معمور ہونگے، ان کے انعقاد میں تکنیکی ، فنی، انتظامی ، سیکیورٹی ، گنتی اور حتمی مصدقہ نتائج کے اعلان کے حوالے سے زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔ یاد رہے جب بھی الیکشن نتائج کا اعلان کیا گیا ہارنے والی جماعتوں نے رگنگ ، انجینئرڈ ، بوگس اور ناقابل قبول قراردے کر انھیں مسترد کردیا، اس لیے وقت احساس زیاں کا ہے، ملک انتظامی تطہیر کے مرحلہ میں ہے ۔

شفاف انتخابی حلقہ بندیوں، ہر قسم کے اعتراضات سے پاک ووٹر لسٹوں ، پولنگ سٹیشنوں پر نگرانی، مانیٹرنگ کے انتہائی مربوط و منظم میکنزم اور اس پرعملدرآمد کے لیے تاخیر سے بچنے کے لیے غیرمعمولی سرعت اور انتھک محنت کی ضرورت ہے، اسے سیاسی جماعتیں اہمیت نہیں دے رہیں، ان کا سارا زور قبل از انتخاب جلسوں سے مشروط ہے جب کہ شفاف، فالٹ فری، منصفانہ، جمہوری اور آزادانہ انتخاب کے انعقاد سے متعلق جملہ معاملات کو انتخابی اصلاحات ایکٹ کا حصہ ہوتے ہوئے قوم کو یہ نوید ملنا چاہیے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کے وقت مقررہ پر انعقاد کے لیے تیار ہیں، الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے نکتے پر پارلیمنٹ اور حکومت کو بر وقت انتباہ کردیا ہے ، سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق ایک طاقتور اور خودمختار الیکشن کمیشن تشکیل پا چکا ہے، ایسے اختیارات بھی مل گئے ہیں جو بھارتی الیکشن کمیشن کے پاس بھی نہیں، توہین عدالت پر کارروائی کا مکمل اختیار ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک ذمے دار سینئر عہدیدار نے آیندہ انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 ، ٹیکنالوجی کے استعمال، بیلٹ پیپر ، سیاہی، خواتین کے ووٹ سمیت دیگر اہم انتخابی معاملات پر قابل غور نکات بیان کیے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں الیکٹرانک ووٹنگ کی کئی مثالیں موجود ہیں، بھارت میں الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے37سال لگے، بھارت الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خود بنا رہا ہے، اگر ہم باہر سے خریدیں تو اس پر 25 ارب کا خرچہ آئیگا، این اے 120 لاہور میں بائیومیٹرک مشینوں کے استعمال سے سامنے آیا کہ نادرا کے پاس 10 فیصد وووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات ہی نہیں ہیں، پشاور میں بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔

سیکریٹری نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ا وورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا کوئی پائیدار حل نہیں نکل سکا ، چنانچہ الیکشن کمیشن نے انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار سے اختلاف کیا ہے۔ بابر یعقوب کے مطابق الیکشن ایکٹ کی منظوری سے انتخابی عمل میں شفافیت آئے گی، ریٹرننگ افسر رات دو بجے تک رزلٹ فراہم کرنیکا پابند ہوگا، دو بجے کے بعد رزلٹ دینے کی صورت میں ریٹرننگ افسر اس کی وجوہات بھی بتائے گا، وزارت قانون نئی حلقہ بندیوں سے متعلق غور کریگا، مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن اب نئی حلقہ بندیوں کا ازسر نو جائزہ لے گا۔ نئی حلقہ بندیوں کے لیے کم از کم 5 ماہ درکار ہیں۔

بلاشبہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آیندہ انتخابات کے لیے ایک واضح روڈ میپ سامنے آچکا ہے، اس میں سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کو جس قسم کے بھی تحفظات ہوں ان کے فوری ازالہ کے لیے کسی تاخیر کے بغیر سب سر جوڑ کر بیٹھیں، ہر وقت سیاست اور مہم جوئی سے ہٹ کر بھی ملکی معاملات پر ٹھوس ، با مقصد ، نتیجہ خیز مشاورت اور تعمیری تنقید کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں جو خدشات ہیں ان کی پیش بندی بھی باہمی صلاح مشورہ سے ہونا چاہئیں کیونکہ الیکشن کے بعد کسی کو حزب اقتدار اور ہار جانے والی جماعت کو بطور حزب اختلاف اپنی پارلیمانی ، جمہوری اور قومی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونا پڑیگا، یہی مسلمہ جمہوری فیئر پلے اور اسپورٹس مین شپ ہے جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک چیلنجز سے دوچار ہے ابھی چھ سات ماہ الیکشن کی گہما گہمی کے لیے باقی ہیں اور اس سے قبل عبوری انتظامات کی قیاس آرائیوں سے فضا بھی بوجھل ہے، اس لیے احتیاط حد درجہ لازم ہے۔