مریخ یا کرہ ارض
مریخ پر زندگی کے لوازمات موجود ہیں اور اسی یقین کے پس منظر میں مریخ کے سفرکی تیاریاں اور منصوبہ بندیاں بھی ہورہی ہیں۔
بیسویں صدی اس حوالے سے انسانی تاریخ کی اہم اور قابل فخر صدی ہے کہ اس صدی میں کرہ ارض پر بسنے والے ایک انسان نے چاند پر قدم رکھا، چاند کی سرزمین کو دیکھا، چاند کی سرخی مائل مٹی پر چہل قدمی کی، انسانی تاریخ میں ہمارے نظام شمسی کے بارے میں بہت ساری دلچسپ اور مفروضات پر مبنی روایتیں تو جاری و ساری رہیں لیکن کرہ ارض پر انسان کی معلوم تاریخ کے کسی دور میں چاند پر جانے کی کسی کوشش کا پتہ نہیں چلتا۔
البتہ چاند کے حوالے سے ایسی عجیب و غریب روایتیں ضرور موجود ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بعض روایتوں کو عقائد سے اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ آج کا انسان جب ان مفروضات پر نظر ڈالتا ہے تو وہ ذہنی انتشار کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ کیا آج کی دنیا کا انسان مفروضات اور حقائق میں موجود فرق کو حقیقت پسندانہ زاویے سے دیکھ کر اپنی غلطیوں کی اصلاح کرسکتا ہے؟
چاند کا ذکر ہم نے دراصل کرہ ارض کے انسانوں کی سائنسی اور ٹیکنالوجی اور اسپیس سائنس کی ترقی کے حوالے سے کیا۔ امریکی شہری آرم اسٹرانگ کی چاند یاترا کے بعد اسپیس کی سائنس میں بہت ترقی ہوئی ہے اور سائنسدان کائنات کے اسرار سے مستقل پردے ہٹا رہے ہیں۔
انسان یہ جان کر حیران رہ جاتا ہے کہ سرشام مغربی افق پر قندیلوں کی طرح چمکنے والے ستارے اپنے حجم میں زمین سے ہزاروں گنا بڑے ہیں۔ میں آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ انسان خلا اور کائنات کی وسعتوں میں جھانکنے کی جو کوششیں کر رہا ہے وہ بلاشبہ قابل فخر ہیں لیکن کیا کرہ ارض کے دہکتے ہوئے مسائل کو حل کیے بغیر چاند یا مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کی کوشش حقیقت پسندانہ ہے؟ اس کالم میں ہم اسی مسئلے پر گفتگو کریں گے کہ کیا چاند اور مریخ کو فتح کرنے سے پہلے کرہ ارض کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے؟
چاند پر جا کر واپس آنے والے انسان کے مشاہدات اور تجربات سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ چاند پر نہ ہوا موجود ہے نہ پانی کی موجودگی کے امکانات ہیں اور ان دو عناصر کے بغیر کسی سیارے پر انسان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں۔اس حقیقت کی روشنی میں چاند پر بستیاں بسانے کا خواب تو خواب ہی رہے گا، البتہ ماہرین کا ماننا یہ ہے کہ مریخ پر ہوا اور پانی کی موجودگی کے امکانات ہیں بلکہ اس حوالے سے ہونے والی تحقیق میں اس یقین کا اظہارکیا جا رہا ہے کہ مریخ پر زندگی کے لوازمات موجود ہیں اور اسی یقین کے پس منظر میں مریخ کے سفرکی تیاریاں اور منصوبہ بندیاں بھی ہورہی ہیں۔
مریخ کرہ ارض سے جتنی دور ہے۔ اس کا اندازہ اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ کرہ ارض سے مریخ گاڑی پر سفر کرنے والے 8-7 ماہ میں مریخ پر پہنچ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ تحقیق بھی ہو رہی ہے کہ اس طویل بلکہ ناقابل یقین طویل خلائی سفر کے دوران انسان کے جسم پر کس قسم کے مضر اثرات پڑ سکتے ہیں اور ان سے خلانوردوں کو کس طرح محفوظ رکھا جاسکتا ہے ان برے اور نقصان رساں اثرات میں ایک اثر خلانوردوں کا کینسر کے مرض مبتلا ہوجانا بھی ہے اور ہمارے محققین اس حوالے سے تحقیق بھی کر رہے ہیں۔
فرض کرلیں کہ ایک مریخ گاڑی کامیابی کے ساتھ مریخ پر پہنچ جاتی ہے تو اس کے مسافر جن کی تعداد بہت محدود ہوگی اس سیارے کی فضا سے مانوس اور مطابقت رکھ سکیں گے؟ اگر ہر مشکل پر قابو پالیا جاتا بھی ہے تو سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرہ ارض پر بسنے والے 7 ارب سے زیادہ انسانوں کی نقل آبادی ممکن ہے؟ اس کا جواب واضح طور پر یہ ہے کہ نقل آبادی کسی طور ممکن نہیں البتہ وہاں پہنچنے والے انسان نسل انسانی کو فروغ دے سکتے ہیں، اگر ایسا ہوا بھی تو کرہ ارض کے 7 اب انسانوں کا مستقبل کرہ ارض ہی سے وابستہ رہے گا۔ لیکن کرہ ارض پر آباد انسان جن مسائل کا شکار ہے، کیا اس کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں؟
خلائی سائنس کے ماہرین جوکوششیں کر رہے ہیں کہ کسی طرح انسان کو مریخ پر اتارا جائے۔ وہ بلاشبہ انسانی تاریخ کا ایک ناقابل یقین روشن باب ہے۔ لیکن کرہ ارض پر بسنے والے 7 ارب سے زیادہ انسانوں کی جہنم زار زندگی کو کرہ ارض پر محفوظ بنانے اور کرہ ارض کے قاتلانہ مسائل سے انسانوں کو نجات دلانے پر سوچنے والے اور ان حوالوں سے عملی کوششیں کرنے والے مفکرین اہل علم اہل دانش کا مقام کیا ماہرین فلکیات سے زیادہ اہم اور مثبت ہوگا؟
اس سوال کے جواب پر نظر ڈالنے سے پہلے اس حقیقت پر نظر ڈالنا ضروری ہے کہ کرہ ارض کے 7 ارب انسان کیسے کیسے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان مسائل میں سب سے اہم مسئلہ کرہ ارض پر انسانی زندگی کی بقا کا مسئلہ ہے۔ کرہ ارض پر انسانی زندگی اور اس کے مستقبل کو جو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے وہ ہے زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ۔ ماہرین ارض مسلسل چیخ رہے ہیں کہ درجہ حرارت میں ہونے والے مسلسل اضافے کو نہ روکا گیا تو کرہ ارض پر بسنے والے جانداروں کی زندگی غیر یقینی ہوجائے گی۔
درجہ حرارت میں مسلسل اضافے سے سمندروں میں پانی کی سطح اونچی ہوتی جائے گی اور اسی صدی میں کراچی اور ممبئی جیسے بے شمار شہر سمندر برد ہوسکتے ہیں۔ اس امکان کو اس لیے رد نہیں کیا جاسکتا کہ ماضی میں کرہ ارض پانی میں ڈوبا رہا اور ہمالیہ جیسے اونچے پہاڑ لاکھوں سال زیر آب رہے۔ کیا اس بات کی تحقیق ضروری نہیں کہ کرہ ارض اگر زیر آب رہا ہے تو اس کی وجوہات کیا کیا تھیں؟ اور پانی کس طرح کم ہوا۔ ان حوالوں سے تحقیق اس لیے اہمیت کی حامل ہے کہ آج ماہرین ارض خبر دار کر رہے ہیں کہ ساحلی شہر سمندر برد ہوسکتے ہیں۔
اگر سمندر برد ہونے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ کس حد تک پھیل سکتا ہے؟ ان حقائق کی جانکاری اس لیے ضروری ہے کہ اس کے تناظر ہی میں کرہ ارض کو سمندر برد ہونے سے بچانے کی تدبیریں کی جا سکتی ہیں۔ کیا مریخ پر نئی آبادی کا مسئلہ کرہ ارض پر موجود آبادی کی بقا کے مسئلے سے زیادہ اہم ہے؟
اب آئیے دنیا کا دوسرا اہم مسئلہ جنگیں ہیں۔ جب تک جنگیں روایتی ہتھیاروں سے لڑی جاتی تھیں انسان کا جانی نقصان تو ہوتا تھا لیکن ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بعد جنگیں کرہ ارض پر انسان کی بقا کا مسئلہ بن گئی ہیں۔ جنگوں کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں لیکن اس کی اصل اور بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا بدترین فلسفہ ''قومی مفادات'' اور ''طاقت کا توازن'' ہے۔ جب تک قومی مفادات کو عالمی مفادات سے نہیں جوڑا جاتا اور طاقت کے توازن کی بدمعاشانہ اصطلاح سے نجات حاصل نہیں کی جاتی جنگوں کو روکا نہیں جا سکتا۔
اتنا ہی زہریلا خطرہ انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم کا ہے۔ جنگوں کے پیچھے اگرچہ قومی مفادات ہوتے ہیں لیکن جنگوں اور نفرتوں کی ایک بڑی وجہ انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم ہے۔ رنگ، نسل، ذات پات، زبان اور قومیت کے علاوہ انسانوں کی تقسیم میں اور بھی بہت سارے محرکات ہیں اور ان کا ایک مثبت اور منطقی حل یہ ہے کہ ''دنیا کے سارے انسان آدم ہی کی اولاد ہیں'' کے فلسفے کو عام کیا جائے اور اسکولوں کے نصاب میں اس کو شامل کیا جائے۔
دنیا کے خطرناک سماجی اور اقتصادی مسائل میں طبقاتی تقسیم اور انسانوں کی آمدنی بھی زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ اس مسئلے کو نہ جھاڑ پھونک سے حل کیا جا سکتا ہے نہ ٹونے ٹوٹکوں سے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ نجی ملکیت کے حق کو محدود کر کے چند ہاتھوں میں ملک کی 80 فیصد دولت کے ارتکاز کو روکا جائے۔ یہ مختصراً وہ مسائل ہیں، کرہ ارض کی بقا کے لیے جن کا حل ضروری ہے۔ اب انسان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس کا مریخ پر جانا ضروری ہے یا زمین کے ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے جن کا مختصراً ذکر ہم نے یہاں کیا ہے۔