افغان فورسز کا کنٹرول حکومت کے حوالے کیا جائے کرزئی کا مطالبہ

نیٹو حکام سے بات چیت کیلیے وفد تشکیل دے دیا گیا، واقعات سے لاعلم ہیں، امریکی حکام


Online March 01, 2013
نیٹو حکام سے بات چیت کیلیے وفد تشکیل دے دیا گیا، واقعات سے لاعلم ہیں، امریکی حکام فوٹو: فائل

افغان صدر حامد کرزئی نے فوج کی جانب سے بدسلوکی کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد امریکا کے زیر قیادت غیر ملکی فوج سے افغان فورسز کا کنٹرول 3 ماہ کے اندر حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا۔

افغان وزارتی کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ صدر کرزئی کی جانب سے ایک وفد تشکیل دیا ہے جو 3 ماہ کے اندر افغان فورسز کے گروپوں کو سیکیورٹی اداروں کے حوالے کرنے کے سلسلے میں مذاکرات کریگا۔ ایک افغان عہدیدار نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ یہ اقدام فورسز کی جانب سے حال ہی میں بدسلوکی کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے ،انھوں نے کہا کہ آج کے حکمنامے میں ان واقعات کی خصوصی طور پر نشاندہی کی گئی ہے کیونکہ اتحادی فوج کے زیر قیادت متحرک فوجی گروپ افغانیوں کے ساتھ ناروا سلوک کے مرتکب ہو رہے ہیں اور بالخصوص یہ واقعات صوبہ وردک میں رونما ہوئے۔

6

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بد سلوکی کے واقعات کے بارے میں لاعلم ہیں۔ نیٹو فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ واقعات کی تحقیقات کی ہیںابھی تک کوئی شواہد نہیں ملے۔ اے ایف پی کے مطابق صوبہ کنڑ کے ضلع دنگام میں سڑک کنارے نصب بم دھماکا کے نتیجے میں8 پولیس اہلکار اور دو شہری ہلاک ہوگئے، اس دھماکے سے قبل ایک اور سڑک کنارے دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونیوالے چار پولیس اہلکاروں کو گاڑی میں لے جایا جارہا تھا کہ دوسرا دھماکا ہوگیا جس میں 8 پولیس اہلکار اور دو شہری ہلاک ہوگئے،صوبائی گورنر فضل اللہ نے ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔

مقبول خبریں