اتحادِ اُمّت

مسلمان ایک اُمّت ہیں، ان کے اتحاد کی بنیاد کلمہ، قبلہ، کتاب اور رسولؐ کا ایک ہونا ہے۔


October 20, 2017
سب کو سمجھانا ہوگا تبھی مختلف مذاہب اور مسلک کے لوگ پُرامن زندگی گزار سکیں گے۔ فوٹو : فائل

اتحادِ اُمّت، شرعی اور سماجی ضرورت ہے جب کہ اختلاف رائے کا وجود بھی فطری ہے، اس لیے ہم شرعی ضرورت کے پیش نظر اتحادِ اُمّت کے پابند ہیں اور فکر و نظر کے اختلاف کے باوجود اتحاد اور وحدتِ اُمّت کو اپنی ایمانی اور اسلامی زندگی کا نصب العین سمجھتے ہیں۔

اختلاف کلمۂ واحد کے ماننے والوں کے درمیان عقائد کا ہو یا فروعی مسائل کا، ان اختلافات کو عملی زندگی میں برتنے کے بھی کچھ شرعی اصول و حدود ہیں۔ اختلاف کی سرحدوں کو پہچاننا چاہیے اور اعتدال و توازن کے ساتھ احکام و مسائل کے بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

یہاں اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اتحاد اُمّت کا مطلب تمام مذاہب و مسالک کا ادغام یا تمام مذاہب و مسالک سے مشترکہ چیزوں کو لے کر نیا مذہب بنانا نہیں ہے، بل کہ اتحادِ اُمّت کا مطلب اپنے مسلک و مذہب پر عامل رہتے ہوئے دوسرے مسلک و مذہب کے پیروکاروں کا احترام اور فروعی مسائل کو نزاعی بنانے سے اجتناب ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمان ایک اُمّت ہیں، ان کے اتحاد کی بنیاد کلمہ، قبلہ، کتاب اور رسولؐ کا ایک ہونا ہے۔ ان کے علاوہ عقیدۂ آخرت، جنت و جہنم، نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ کی فرضیت، جہاد اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی مشروعیت میں سبھی متحد و متفق ہیں، اس لیے مسلمان ایک اُمّت ہیں۔ بل کہ اللہ تعالیٰ نے تو دو آسمانی مذاہب کے ماننے والے یہودی اور نصرانیوں تک کو بعض امورِ مشترکہ کی وجہ سے ایک اُمّت کہہ کر ان کے خلجان اور خدشات کو دور کیا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جو دین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا اور انبیائے سابقینؑ جس دین کے حامل رہے، وہ ایک ہی دین، دین توحید ہے اور جس ملّت کے داعی رہے وہ ملّت اسلام ہے۔

لوگوں نے پھوٹ ڈال کر اصل دین کو پارہ پارہ کر دیا اور الگ الگ راہیں نکال لیں، نفسانی خواہشات اور اتباع نفس کی وجہ سے لوگ فرقوں اور ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ہر فرقہ خودکو اچھا اور دوسرے کو گھٹیا اور ذلیل سمجھنے لگا۔ پیغمبروں کی واضح ہدایات کو پس پشت ڈال کر دین کو بازیچۂ اطفال بنادیا اور اپنے عقائد و خیالات کو اصل دین کی جگہ دے کر ہر گروہ مسرور و شادماں اور اپنی غفلت، ضلالت اور جہالت کے نشے میں سرشار ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس اُمّت میں جو اختلاف و انتشار و تفرقہ بازی ہے وہ بڑی حد تک یہود و نصاریٰ کے باہمی تفرقہ و اختلاف کی طرح ہے اور جس سے اللہ رب العزت نے سختی سے منع کیا ہے۔

ہم اس سے باز نہیں آئے تو جتنی مصیبتیں آئیں، تھوڑی ہیں۔ آلام و مصائب، قتل و غارت گری سب ہمارے اس افتراق و انتشار کا شاخسانہ ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ان حالات کے سلسلے میں متنبہ کیا تھا، لیکن ہم نے اس پر غور نہیں کیا۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے، مفہوم: '' آپ کہیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے تاکہ تم کو گروہ در گروہ کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے۔ آپ دیکھیے تو سہی، ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں، شاید وہ سمجھ جائیں۔'' لیکن ہم سمجھ نہیں سکے، ہم الجھے اور الجھتے ہی چلے گئے۔ معتزلہ اور خوارج کے جھگڑے تو اب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں؛ لیکن شیعہ، سنی، سلفی، غیر سلفی، دیوبندی، بریلوی، مذہبی اور غیر مذہبی، اسلام پسند اور لبرل طبقوں کے اختلافات نے ہمارا جینا دو بھر کردیا ہے۔

یہ عذاب کی اندرونی اور داخلی قسم ہے، جو پارٹی بندی، باہمی جنگ و جدال اور آپس کی خوں ریزی کی شکل میں اُمّت مسلمہ پر مسلط ہے۔ پورے عالم اسلام میں اس اختلافات کی وجہ سے جنگ وجدال ہی نہیں، قتل و غارت گری تک کی نوبت آگئی ہے۔ مساجد میں بندوقیں چل رہی ہیں، پڑوسی ملکوں میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں، شام، عراق یمن وغیرہ میں کئی لاکھ اپنے ملک اور علاقے کو چھوڑ کر پناہ گزیں کیمپوں میں ہیں اور خانہ بدوشوں کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کی بنیادی انسانی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہو پا رہی ہیں، بہت سارے ملک ان کو پناہ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔

ماضی میں کئی ملکوں کی سرحدوں سے انہیں کھدیڑا گیا اور کئی کشتیاں غرق آب ہوگئیں اور اس پر سوار پناہ گزیں سمندر کی کوکھ میں سما گئے۔ معصوم بچوں کو پانی نے ساحل سمندر پر ڈال دیا اور بعض کی لاشوں کا پتا نہیں چل سکا اور ہمیں اب بھی ہوش نہیں آ رہا ہے۔ پس اصلاً دین ایک ہے اور اُمّت مسلمہ بھی ایک ہے۔ نسلی، لسانی، مسلکی اختلافات اور ملکوں کی سرحدوں کا کلمۂ واحد اور دین کی بنیاد پر متحد ہونا دشوار نہیں ہے۔ اللہ نے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا ہے اور جس قدر اس میں مضبوطی آئے گی، اختلاف و انتشار دور ہوں گے ۔

متحد ہونا اور افتراق سے اجتناب، یہ اتحاد اُمّت کی دو قرانی بنیادیں ہیں۔ ان بنیادوں سے گریز ان اختلافات کو جنم دیتا ہے جو مذموم ہیں، اور جن کی وجہ سے ملت میں انتشار پیدا ہوگیا ہے۔ اللہ کی رسی سے مراد بعضوں نے دین اور بعضوں نے قرآن کریم لیا ہے، لیکن مقصود ایک ہی ہے۔ آج مسلمانوں کے درمیان جو افتراق و انتشار ہے، وہ قرآن کریم احادیث رسولؐ اور شریعتِ مطہرہ سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اگر قرآن کریم ہماری زندگی میں آجائے اور وہ ہمارے سارے اعمال کا محور بن جائے تو اس اُمّت کو ایک اُمّت بننے سے نہیں روکا جاسکتا اور فروعی اختلافات اتحاد کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

اختلافات قرونِ اولیٰ میں بھی تھے، لیکن یہ آپس کی مخالفت، بغض و عناد، کینہ، کدورت اور جدال و قتال کی بنیاد نہیں بنتے تھے۔ ان اختلافات کے باوجود ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کے احترام میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا، بل کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان ہونے والے اختلافات باعثِ رحمت سمجھے جاتے تھے، اس لیے کہ اس کی وجہ سے عمل کے دائرے میں وسعت پیدا ہوتی تھی۔ اصحابِ فکر و دانش اور عام مسلمانوں کی اپنے حلقۂ اثر میں کام کی استطاعت کے اعتبار سے الگ الگ ذمے داری ہے۔ علماء امن و آشتی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی رول ادا کریں اور عوام اپنے جذبۂ سمع و طاعت سے اس مہم کو کام یابی سے ہم کنار کریں۔ شریعت نے پڑوسیوں ، ضعفاء اور انسانوں کو جو حقوق بہ حیثیت انسان عطا کیے ہیں ، اس کا پاس و لحاظ رکھیں تو باہمی منافرت اور جنگ و جدال کو روکا جا سکتا ہے۔ دراصل علماء کے اختلاف کا ہی یہ سب شاخسانہ ہے۔

عوام پہلے بھی علماء کی مانتے تھے اور اب بھی ماننے کو تیار ہیں۔ اُمّت کا اتحاد علماء کے اتحاد پر موقوف ہے، علماء اور مذہبی پیشوا جب تک کسی بات پر اور کسی معاہدے پر متفق نہیں ہوں گے، یہ سلسلہ دراز ہوتا ہی رہے گا، اسی لیے ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جانا چاہتی ہے اور اپنے خلاف قوتوں سے مزاحم ہوکر اپنے وجود کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہے، اس لیے علماء کو عوام کے ذہن سے یہ بات نکال کر بقائے باہمی کی اہمیت اجاگر کرنا ہوگی اور بتانا ہوگا کہ جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے، یہ مسئلے کا حل کیا نکالے گی، خون کسی کا بہے، نسل انسانی کا خون ہے آخر۔

سب کو سمجھانا ہوگا تبھی مختلف مذاہب اور مسلک کے لوگ پُرامن زندگی گزار سکیں گے۔ ورنہ برتری اور قبضے کی جنگ میں سب کچھ خاکستر ہوتا چلا جائے گا۔ اس کا مطلب حق کے لیے جہاد سے انکار نہیں ہے، جہاد کی جو شرائط شریعت میں مذکور ہیں اس سے صرفِ نظر کرکے لڑی جانے والی جنگ کو جہاد قرار دینا شرعی طور پر صحیح نہیں ہے، اس لیے اختلاف رائے کے باوجود ہم سب کو ایک اُمّت بن کر رہنا ہے، اور اسی میں ہمارے مسائل کا حل اور ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے۔

مولانا رضوان اللہ پشاوری