بوسٹن ٹی پارٹی

چائے کی پیالی سے ابلنے والا طوفان غلامی کی لعنت کو بھی بہا لے جائے...


Zahida Hina July 12, 2012
[email protected]

امریکی جنگ آزادی کی بات ہو تو نگاہوں میں وہ کیلنڈر گھوم جاتا ہے جو پرانا ہو جانے کے باوجود کئی برس تک اس دیوار پر اپنی بہار دکھاتا رہا جس کے ساتھ میری لکھنے کی میز اور کتابوں کی الماری تھی۔ سفید چکنے کاغذ پر چھپا ہوا یک ورقی کیلنڈر جو وقت کے ساتھ زرد پڑ گیا تھا، اس پر امریکی جنگ آزادی کے مختلف مناظر 6 چوکھٹوں میں چھپے ہوئے تھے۔ زرد، سرخ، نیلے اور سیاہ رنگوں سے بنے ہوئے یہ لیتھوگراف دل کو لبھاتے تھے، ان میں سب سے پراسرار منظر وہ تھا جس میں ایک بحری جہاز کے عرشے پر چند ریڈ انڈین نظر آرہے ہیں۔

ان کے سروں پر سجے ہوئے پر ہوا سے ہلتے ہیں اور وہ بڑی بڑی پیٹیوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک رہے ہیں۔ بندرگاہ پر کھڑا ہوا ایک ہجوم انھیں ہاتھ اٹھا کر داد دے رہا ہے۔ اس لیتھیوگراف کا راز اس وقت کھلا جب امریکی جنگ آزادی کی تاریخ پڑھی۔ اس وقت معلوم ہوا کہ یہ دسمبر 1773 کا وہ امریکی احتجاج تھا جو انھوں نے اپنے آقائوں کے خلاف کیا تھا اور پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ تصویر میں نظر آنے والے ریڈ انڈین دراصل بوسٹن کے شہری تھے۔ یہ واقعہ تاریخ میں''بوسٹن ٹی پارٹی'' کے نام سے مشہور ہے اور یہیں سے امریکی جنگ آزادی کی چنگاری پھوٹی تھی جس نے بعد میں تمام امریکی ریاستوں میں آگ لگا دی اور آخر کار ایک طویل خونیں جنگ کے بعد برطانیہ کو اپنی اس شاندار اور دولت مند نوآبادی سے ہاتھ دھونے پڑے ۔
1770 وہ زمانہ ہے جب برصغیر پر قدم بہ قدم قبضہ جماتی ہوئی ایسٹ انڈیا کمپنی سنگین مالی بحران سے دوچار تھی۔ اسے ان پریشانیوں سے نجات دلانے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ نے کمپنی بہادر کو یہ اجازت دے دی تھی کہ وہ ہندستانی چائے کسی ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر امریکی بندرگاہوں تک لے جائے اور وہاں فروخت کرے۔ اس کے شدید مالی نقصانات چائے درآمد کرنے والے امریکیوں کو ہوئے۔ انھوں نے پہلے تو اس معاشی ظلم کے خلاف تاج برطانیہ سے احتجاج کیا اور جب ان کی نہیں سنی گئی تو بوسٹن کی بندرگاہ پر آنے والی ہندوستانی چائے سمندر میں پھینک دی گئی۔ برطانوی فوجی دستوں نے اس بغاوت کو کچلنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا لیکن ورجینیا اسمبلی میں بوسٹن کے منتخب نمایندوں نے پسپا ہونے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد یکم جون 1774 کو تاج برطانیہ نے اپنی ''امریکی رعایا'' کو سزا دینے کے لیے بوسٹن کی بندرگاہ اس وقت تک کے لیے بند کر دی جب تک شہر دسمبر 1773 میں ہونے والی ''ٹی پارٹی'' پر معذرت خواہ نہ ہو، اس بغاوت میں ملوث افراد کو گرفتارکیا جائے اور انھیں سزا دی جائے اور اس کے ساتھ ہی چائے کی اس دعوت کے دوران سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی جاری ہوا۔
اس مطالبے کا آنا تھا کہ ورجینیا اسمبلی کے نوجوان اراکین اپنے ایک نہایت قابل قانون دان اور دانشور رکن اسمبلی تھامس جیفرسن کی سرکردگی میں اکٹھا ہوئے اور انھوں نے یکم جون کو روزہ رکھنے اور عبادات کا اعلان کیا۔ انھوں نے بوسٹن کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اس احتجاج میں ان کا ساتھ دیں۔ برطانوی گورنر نے یہ اعلان ہوتے ہی ورجینیا اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ یہاں سے حقوق کے حصول کی وہ قانونی جنگ شروع ہوئی جو آخر کار میدان جنگ میں برطانوی فوجیوں اور امریکی وطن پرست نوجوانوں کے خون سے فیصل ہوئی۔ اسی تناظر میں تھامس جیفرسن نے 1774 کی وہ تاریخی دستاویز تحریر کی جو آزادی کے منشور کے نام سے مشہور ہے اور حقوق انسانی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
امریکی انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ ابتدائی دستاویزات وجود میں آئیں جو اس ملک کے بانیوں نے گہرے غورو خوض، بحث مباحثے اوربعض حالات میں انتہائی تلخ اختلافات کے بعد عوامی امنگوں کو نظر میں رکھتے ہوئے مرتب کی تھیں، ان میں سب سے اہم دستاویز امریکی آئین تھا۔ امریکی آئین لکھنے والوں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ عوام کو وہ ضمانتیں درکار ہیں جو انھیں حکومت کی طرف سے ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے باب میں دی جائیں۔ امریکی عوام کسی ایسے آئین کو منظور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جس میں بل آف رائٹس کو آئین کا حصہ نہ بنایا گیا ہو۔ 1787 تک امریکی عوام اس بات پر متفق ہو چکے تھے کہ شتر بے مہار اقتدار ایک ایسا خطرناک ہتھیار ہے جسے حکومت میں آجانے والے خود غرض اور بااثر افراد اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بہ آسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک عام امریکی کو اندازہ تھا کہ اس کے شہری اور انسانی حقوق بہ آسانی سلب کیے جاسکتے ہیں۔
آج 4 جولائی ہے، امریکا کا یوم آزادی جو بہت دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔ اگر امریکی صدر بارک اوباما دوسری مدت کے لیے صدر منتخب نہ ہو سکے تو یوم آزادی کے موقعے پر بطور صدر یہ ان کا آخری خطاب ہوگا۔ آج کے دن کی اس لیے بے حد اہمیت ہے کہ امریکی انقلاب کی دستاویز میں اور اس کے بعد 'رائٹس آف مین' اورامریکی آئین میں غلامی کے خاتمے پر اصرار کیا گیا ہے۔ ابراہم لنکن نے اس لعنت کے خاتمے کو اپنا انتخابی منشور بنا کر امریکا کے طول و عرض میں وہ تھکا دینے والی جنگ لڑی جو امریکی سول وار کے نام سے مشہور ہے۔ 1852 کے یہی وہ دن تھے جب ہیریٹ بیچر اسٹو کا ناول 'انکل ٹامس کیبن' پہلے قسط وار اور پھر کتابی شکل میں شایع ہوا اور لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوا۔ غلامی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے اور لوگوں کو اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہونے میں اس ناول نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ابراہم لنکن نے جس طور غلامی کے خاتمے کا فرمان جاری کیا اور جس طرح تمباکو، کپاس اور گنے کے کھیتوں میں کام کرنے والے بندھوا مزدور آزاد ہوئے اس کی ایک جھلک ہمیں 1939کی ناقابل فراموش فلم ''گان ود دی ونڈ'' میں بھی نظر آتی ہے۔
تمام قانون سازی کے باوجود سیاہ فاموں کے ساتھ امریکا میں ظالمانہ امتیاز برتا جاتا رہا اور ''شہری آزادیوں'' کے پرچم تلے سیاہ فام اور سفید فام امریکی اس نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ سیاہ فام طالب علموں کے لیے اسکول اور کالج علیحدہ تھے۔ سفید فام جس فوارے سے پانی پیتے تھے وہ سیاہ فاموں پر ممنوع تھا۔ بسوں میں ان کی نشستیں علیحدہ تھیں اور اگر بس بھر جائے اور کوئی سفید فام اس میں سوار ہو جائے تو سیاہ فام کو خاموشی سے اس کے لیے اپنی نشست خالی کرنی پڑتی تھی۔ یہ وہ قانون تھا جس پر روزا پارکس نے عمل کرنے سے انکار کر دیا اور پھر علاقے کے سیاہ فاموں نے ایک زبردست مہم چلائی اور آخر کار اس قانون کو واپس لینا پڑا۔ مارٹن لوتھر کنگ اور دوسرے متعدد سیاہ فام رہنمائوں نے نسلی تعصب اور امتیازی قوانین کے خلاف شاندار تحریک چلائی۔ ان لوگوںکو کہنا تھا کہ جب ہمارے بنیاد گزاروں نے آئین اور آزادی کے اعلان میں تمام انسانوں کو مساوی قرار دیا ہے تو پھر ہم سے امتیاز کیسے برتا جا سکتا ہے۔
2006 کے آغاز کے ساتھ ہی ایک امریکی ادیب خاتون کیتھرین اسٹاکٹ نے ایک ناول ''دی ہلپ'' لکھا۔ یہ 1960 کی دہائی میں رنگ دار گھریلو ملازمائوںکے ساتھ جو امتیازی اور بعض حالات میں غیر انسانی سلوک ہوتا تھا اس کا احوال ہے۔ کیتھرین کا یہ ناول 60 پبلشروں نے رد کیا۔ لیکن وہ اللہ کی بندی اور اس کا ایجنٹ بھی کمر کس کر اسے چھپوانے پر تلے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 2009 میں یہ شایع ہوا اور چھپتے ہی بیسٹ سیلر کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ اگست 2011 تک اس ناول کی 50 لاکھ کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں اور یہ مسلسل 100 ہفتے سے زیادہ عرصے تک نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر لسٹ پر رہا۔ 2010میں ٹیٹ ٹیلر نے کم سرمائے سے اس کہانی کو فلم کے قالب میں ڈھالا۔ 2011 میں 25 ملین ڈالر کی لاگت سے بننے والی یہ فلم فروری 2012 تک 211.6 ملین ڈالر کا کاروبار کرچکی تھی۔ مار دھاڑ، جنس اور خوفناک مشینوں کی ختم نہ ہونے والی لڑائی سے اکتائے ہوئے ناظرین نے اسے پسند کی سند عطا کی۔ اسے 4 اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا اور اسکرین ایکڑز گلڈ ایوارڈ بھی اس کے حصے میں آیا۔
2011 میں بننے والی اس فلم کا تعلق 1773 میں ہونے والی ''بوسٹن ٹی پارٹی'' سے بھی ہے ۔ امریکی آزادی اور سیاہ فاموں کی غلامی سے نجات کا جو قافلہ239 برس پہلے روانہ ہوا تھا، اب وہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ امریکا میں پہلاسیاہ فام صدر اپنی صدارت کے چار برس مکمل کرنے والا ہے اور امید یہی کی جا رہی ہے کہ صدر اوباما اپنی صدارت کے یہ چند مہینے مکمل کرنے کے بعد دوسری مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہو جائیں گے۔
بوسٹن کی بندر گاہ میں لندن سے آنے والے بحری جہاز پر ریڈ انڈینز کے لباس میں کھڑے ہوئے اور لندن سے آنے والی چائے کی پیٹیوں کو سمندر میں پھینکنے والوں نے بھلا کب تصور کیا ہوگا کہ چائے کی پیالی سے ابلنے والا یہ طوفان جہاں انھیں تاج برطانیہ کی غلامی سے نجات دلائے گا وہیں یہ غلامی کی لعنت کو بھی بہا لے جائے گا۔

مقبول خبریں