شہریار خان نے بھارت کیخلاف کیس کو کمزور قرار دیدیا

سابق چیئرمین پی سی بی قانونی چارہ جوئی کیلیے ایک ارب روپے مختص کرنے کے فیصلے میں خود بھی شریک رہے


Sports Reporter October 22, 2017
پی سی بی کی جانب سے دباؤ پڑنے پر تردید کردی، سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری ہو گئی۔ فوٹو : اے ایف پی/فائل

KARACHI: قانونی چارہ جوئی کیلیے ایک ارب روپے مختص کرنے کے فیصلے میں شریک سابق چیئرمین شہریارخان نے بھارتی بورڈ کیخلاف پی سی بی کا کیس کمزور قرار دیدیا۔

سابق چیئرمین شہریارخان نے بھارتی بورڈ کیخلاف پی سی بی کا کیس کمزور قرار دیدیا ہے، انھوں نے لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کو قانونی جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، دونوں بورڈز کے تعلقات خوشگوار ہوئے تو سیریز ہونے کے امکانات ہیں، سابق چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ایم او یو میں حکومت کی رضامندی سے مشروط شق واضح ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ''ایکسپریس'' کو ایک خصوصی انٹرویو میں بھی شہریار خان نے واضح طور پر کہا تھا کہ میری بھارتی کرکٹ سربراہان سے دوستی رہی لیکن سیریز کے معاملے میں بات آگے نہیں بڑھ رہی، انھوں نے ساتھ یہ بھی واضح کیا تھا کہ ایم او یو میں باہمی مقابلے حکومت کی اجازت سے مشروط کیے گئے ہیں،اس کے باوجود شہریارخان نے نجم سیٹھی کے ساتھ مل کر بی سی سی آئی سے ہرجانہ وصول کرنے کی مہم کیلیے ایک ارب روپے کی خطیر رقم مختص کردی، موجودہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی بھی گزشتہ چند دنوں میں کئی بار دعوے کرتے رہے کہ بھارت کیخلاف قانونی چارہ جوئی میں سرخرو ہوکر رقم وصول کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

گزشتہ روز بورڈ کی جانب سے دباؤ پڑنے پر شہریار خان نے بعد میں اپنا بیان بدل لیا، ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو میڈیا میں سامنے آئی،نجم سیٹھی نے بھی ٹویٹر پر شہریار خان کا تردیدی بیان جاری کردیا کہ بی سی سی آئی کیخلاف پی سی بی کا کیس بڑا مضبوط ہے،مگر بعد میں سابق چیئرمین کے انٹرویو کی ویڈیو سامنے آنے سے بورڈ کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ نجم سیٹھی نے اپنے پہلے دور میں بگ تھری پر دستخط کرتے ہوئے بھارت سے سیریز کیلیے ایم او یو سائن کیا تھا،بعد میں بھارت کی جانب سے کھیلنے سے انکار پر پاکستان نے بھارتی بورڈ کیخلاف کارروائی کا اعلان کردیا۔